1857 کی غدر کی کچھ یادیں

"رعنا صفوی "

زیادہ تر دہلی کے لوگ کشمیر گیٹ کو ٹریفک کے شور کی وجہ سے جانتے ہیں جس کی وجہ اس کا بین الریاستی بس ٹرمینس کے قریب واقع ہونا ہے جو ایک مصروف ترین میٹرو سٹیشن ہے۔ لوگ جلدی سے گھر کے کام ختم کر کے سکون کا سانس لیتے ہیں بہت کم لوگوں کو اپنی قومی تاریخ میں کشمیر گیٹ کی اہمیت کا علم ہے۔

اس کے قریب لوتھیاں روڈ پر جنرل پوسٹ آفس واقع ہے  اور زمین کا ایک بڑا حصہ کوڑے کے ڈھیر سے اٹا پڑا ہے۔ اس کے قریب گرینائٹ کا بنا 20 فٹ کا ایک سٹرکچر ہے جس پر دو ایسے اشخاص کے نام کندہ ہیں جنہوں نے بھارت کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ رابرٹ منٹگمری جو پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر تھے کے تاریخی الفاظ :الیکٹرک ٹیلی گراف نے بھارت کو بچا لیا: درج ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ الفاظ پڑھنا اب بہت مشکل ہو چکا ہے۔

یہ ٹیلی گراف کا میموریئل ہے جو 19 اپریل 1902 میں  برطانوی ٹیلیگراف آفس کےسامنے تعمیر کیا گیا تھا ۔ اس کا مقصد دہلی ٹیلی گراف آفس سٹاف  کی 11 مئی 1857 کو دی جانے والی خدمات کی یاد تازہ کرنا تھا۔ یہ وہ دن تھا جب 1857 کی غدر کا آغاز ہوا۔ میسرز جے ڈبلیو پلکنگٹن اور ولیم برنڈش، جو 2 نوجوان برطانوی اسسٹنٹ ٹیلیگراف آفیسرز تھے اپنے لکڑی کے بنے کیبنز  میں فلیگ سٹاف ٹاور کے قریب موجود تھے۔ یہ ایک سگنل ٹاور تھا  جہاں سے بغاوت پر مبنی واقعات کو دیکھا جا سکتا تھا۔ ان لوگوں نے بغاوت کے بارے میں برطانوی فوجی قیادت کو پیغام بھیجا اور 3 بجے سائن آف کرتے وقت لکھا کہ : We are off یہ میسج جنرل جارج اینسن کو شملا میں پہنچایا گیا۔ اور پنجاب سے ایک فورس دہلی بھیجی گئی تا کہ باغیوں کا سر کچلا جا سکے۔

اس میمورئیل سے کچھ قدم دور برطانوی میگزین کی باقیات موجود ہیں جن  میں گن پاوڈر سٹور ہاوس بھی شامل ہے جو 11 مئی کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔

شیطان کے چیلے

اس واقعہ کی منظر کشی ظاہر دہلوی نے کی ہے جو ایک جانے پہچانے شاعر تھے اور بہادر شاہ ظفر کے دربار میں نوکر تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب داستان غدر : بغاوت کی کہانی '  لکھی ہے جس  کا میں نے اردو سے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کا ایک چھوٹا سا اقتباس ذیل میں نقل کیا جاتا ہے: شام کے پانچ بجے تھے اگرچہ سورج ڈوب رہا تھا لیکن اصل قیامت ابھی آنے کو تھی۔

بغاوت کی گرمی بڑھ رہی تھی اور شاہ جہان آباد کے ہر شخص کو اپنی جنگ خود لڑنا تھی۔  دنگے فساد کی لہر نے زمین کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ایک طرف خون ریزی اور ظلم کا دریا ابل رہا تھا تو دوسری طرف لو ٹ مار کرنے والے جتھے بھر پور تیاری کے ساتھ آن کھڑے تھے۔ بے خوف اور بے رحم ظالم لوگوں نے شہر میں ایک ہو کا عالم پیدا کر رکھا تھا اور کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کسی دوسرے کےساتھ کیا گزر رہی ہے۔ ہر کسی کوا پنی جان بچانے کی پڑی تھی۔

قاصد ڈاک ترتیب  دے رہے تھے اور ہر طرف سے شکایات اور رحم کی اپیلیں  آ رہی تھیں۔ شیطان کے چیلے ہر طرف تشدد پھیلانے میں مصروف ہو چکے تھے۔

شاہی نوکر حکیم احسان اللہ خان کے ساتھ خان سامانی ہال میں موجود تھے  اور رحم و کرم کا خاص ورد کر رہے تھے۔ ہر کسی کی زبان پر امن  و آشتی کے لیے دعائیں تھیں اور پھر ایک بڑا شور اٹھا۔ یہ شور اتنا شدید تھا کہ 100 اتوپوں کا ایک ساتھ فائر بھی اتنا شور پیدا نہیں کر سکتا تھا۔ خان سمانی بلڈنگ شاہ جہان کےد ور کی ہے اور اس کی دیواریں چار فٹ چوڑی ہیں۔ ہال کی سیلنگ   بہت اعلی اور مضبوط ہے۔ شورکے بعد مٹی  اور کیچر دیواروں سے گرنے لگا اور ہر کسی کے جسم دھول میں ڈوبل گیا۔ زمین ایسے ہلنے لگی جیسے کوئی زلزلہ آ گیا ہو۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ بلڈنگ ہمارے اوپر گرنے والی تھی۔ ہر کوئی پریشانی میں دوڑ کر باہر نکل آیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ قرانی آیت: ازا زلزلت الارض زلزالھا  والی آیت  حقیقت میں بدل رہی ہے۔جب ہم مغرب کی طرف مڑے ہم نے دھواں اٹھتے دیکھا اور لوگوں کی لاشوں کے ٹکڑے ہوا میں بکھرتے دیکھا۔ لاشوں کے چیتھڑے کووں اور پتنگوں کی طرح اڑ رہے تھے۔ تین منٹ بعد ایسا لگنے لگا جیسے زمین پر پہاڑوں کے ٹکڑے بارش کی مانند گر رہے ہوں۔

اور پھر پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے۔ (سورہ القارعہ  5)

ہم واپس ہال کی طرف بھاگے ۔ ایک ددو قاصد دوڑتے ہوئے ہماری طرف آئے اور بتایا کہ میگزین اور اسلحہ تباہ ہو چکا ہے۔

جارج ویلو بائی اور 9 دوسرے افسران جن کا تعلق برٹش آرڈیننس کارپس سے تھا نے شام تک میگزین کا دفاع کیا۔ سائمن فریزز ، جو دہلی کے کمشنر تھے، اور جائنٹ میجسٹریٹ، سر تھیوفلس میٹ کالفے   نے ان افسران کو وارننگ دی تھی اور کہا تھا کہ ہر صورت باغیوں کو روکا جائے اور کسی صورت ان کے ہاتھوں شکست نہ ہو پائے۔ جیسے ہی انہیں معلوم ہوا کہ باغی سپاہی شہر پر چڑھ دوڑے ہیں تو دو برطانوی افسران   کو انچارج بنا دیا گیا اور انہیں 6 پاونڈر گنز فراہم کر دی گئیں۔ ان کو حکم دیا گیا کہ اگر کوئی دروازہ کھولنے کی کوشش کرے تو  وہ میگزین کو اڑا دیں ۔ گیٹس پر تالے لگے تھے لیکن سپاہیوں نے دیواریں پھلانگنے کے لیے سیڑھیاں بھی ساتھ لی تھیں۔ ساڑھے 3 بجے جب ویلابائی کو محسوس ہوا کہ میگزین پر قبضہ ہونے والا ہے  اور بھارتی فوجی اس پر قبضہ کرنے لگے ہیں تو انہوں نے میگزین کو اڑا دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔

دھماکے سے بہت سے سپاہی مارے گئے اورا آس پاس کے گھروں سے شیلٹر میں لائے گئے خواتین اور بچے بھی مارے گئے۔ 6 برطانوی فوجی بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایک میرٹ جاتے ہوئے مارا گیا۔ بچ نکلنے والوں کو وکٹوریا کراس کے انعام سے نوازا گیا۔  اب صرف میگزین کا ایک گیٹ بچا ہے۔ برطانوی حکام نے اس پر ایک تختہ لگایا جس پر لکھا ہے: یہ ٹیبلٹ جو پہلے میگزین کے گیٹ کی حیثیت رکھتا تھا اب بھارتی حکومت نے یہاں رکھ دیا ہے۔ اس پرباغیوں کے ہاتھوں مارے جانے والے برطانوی فوجیوں کے نام درج ہیں۔ آزادی کے بعد بھارتی حکومت نے یہاں ایک اور تختہ نصب کیا جس پر لکھا ہے: اوپر دی گئی تحریر میں باغیوںسے مراد بھارتی فوج کے وہ  ممبران ہیں جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی مدد کر رہے تھے اور غیر ملکی حکومت کو ہٹانے کی جدو جہد میں مصروف تھے۔

میگزین سے 5 سے 7 منٹ کی مسافت پر کشمیر گیٹ واقع ہے جس کے ذریعے سول لائنز کے راستے سے والڈ سٹی میں داخلہ ممکن تھا۔ یہاں برطانوی فیملیاں رہائش پذیر تھیں۔ یہ ایک تختے والا دروازہ تھا اس کا نام کشمیر گیٹ رکھا گیا کیونکہ یہ کشمیر جانے والی روڈ پر واقع تھا۔ 1835 میں برطانوی ملٹری انجینئر رابرٹ سمتھ نے اس گیٹ کو بڑا کر کے دوبارہ تعمیر کروایا۔

جب اس ایریا میں سپاہیوں نے قبضہ کیا اور بعد میں برطانوی حکام نے قبضہ چھڑایا تو یہاں گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ 14 ستمبر1857 کو شاہ جہان آباد میں لڑائی کا آخری مرحلہ واقع ہوا جس کی کمان برگیڈئیر جنرل جان نکولسن نے کی۔ کشمیر گیٹ پر جنرل لارڈ رابرٹ نیپئیر نے 1876 میں کشمیر گیٹ پر ایک تخت نصب کیا جس کا مقصد شہر پر قبضہ واپس حاصل کرنے والے برطانوی فوجیوں کی قربانیوں کی یاد منانا تھا۔ اس گیٹ کو لوہے کے جنگلے کے ساتھ ایک طرف محصور کر دیا گیا ہے۔

حفاظتی جوڑا

5 سے 7 منٹ چلنے کے بعد میں شامناتھ روڈ پر قدسیہ باغ پہنچی جو آئی ایس بی ٹی سے ملحق ہے۔ یہ باغ قدسیہ بیگم نے تعمیر کروایا تھا جو مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا  کی بیوی اور احمد شاہ کی ماں تھیں۔ اب یہ ایک معمولی پبلک پارک بن گیا ہے۔ لیکن اگر آپ اس کی ایک پرانی پینٹنگ پر نظر دوڑائیں جو کمپنی سکول کے آرٹسٹ نے بنائی تھی، تو آپ دریائے یامونہ کے ساحل پرموجود تعمیرات کی شان کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اب اس گارڈن میں ایک گندہ نالہ بھی ہے۔ اب بڑے بڑے بنگلے اور خوبصورت بارادریاں باقی نہیں رہ گئی ہیں۔ اب لوگوں کو یہاں ایکسرسائز کرتے، چلتے، یوگا کرتے اور وزن گھٹانے کے ٹوٹکے آزماتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ساری پرانی چیزوں کے غائب ہونے کے باجود صرف ایک چیز باقی رہ گئی ہے اور وہ حفاظتی جوڑے سے ملاقات کی جگہ ہے۔

آثار الصنادید میں اس باغ کو سر سید احمد خان کے نام سے منصوب کیا گیا تھا جس میں لکھا تھا: یہاں کی ہوا جب چلتی ہے اور جسم کو چھوتی ہے تو ایسا لگتا ہے جنت کی ہوا ہے۔ اس باغ کے پھولوں کی خوشبو خوبصورت دوشیزاوں کو اتنا شرمندہ کرتی ہے کہ وہ شرم سے چہرہ چھپانے لگتی ہیں۔

بد قسمتی سے اس کی لوکیشن اس کے کھنڈر سے واضح ہوتی ہے  کیونکہ برطانوی حکام نے اس جگہ کو محاصرہ کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ایک تباہ شدہ مسجد یہ ظاہر کرتی ہے کہ شہر کے لوگوں اور برطانوی افواج نے کس طرح فائرنگ سے دشمن کا مقابلہ کیا۔ یہ مسجد آج  بھی زیر استعمال ہے اور دہلی وقف بورڈ کی نگرانی میں ہے۔ ایک امام مقرر کیا گیا ہے جو اس مسجد میں پانچ وقت نماز کی جماعت کرواتے ہیں۔ وہ مسجد کے ساتھ ملحق ایک مکان میں فیملی سمیت رہائش پذیر ہیں۔ تاریخ کے کھنڈرات میں اس طرح رہائش پذیر ہونا ایک خوشگوار احساس کا موجب بنتا ہے۔

قدسیہ باغ سے میں واپس میٹرو سٹیشن کی طرف مڑ گئی۔ اس کے سامنے نکولسن کا قبرستان واقع ہے جس کا گیٹ لکڑی کا بنا ہوا ہے۔ اگرچہ نکولسن نے کامیابی سے شہر کو واپس حاصل کر لیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 23 ستمبر کو چل بسے۔ وکٹورینز کے لیے وہ دہلی کے ہیرو تھے جنہوں نے اینجلو افغان جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔ آزادی کے بعد دہلی میں ان کا جو مجسمہ موجود تھا وہ ہٹا کر آئر لینڈ بھیج دیا گیا جو نکولسن کا آبائی وطن تھا۔

ایکشن کے تکلیف دہ نتائج

آخری مراحل میں میرا ایک سٹاب اس جگہ پر تھا جہاں برطانوی افواج نے پڑاو کیا تھا۔ یہاں ایک میموریل بھی ہے جس کے 8 کونے ہیں چار منزلہ ٹاور ہے جو برطانوی حکومت نے 1860 میں تعمیر کروایا تھا۔ وہاں ںصب ماربل پر ان افسران اور فوجیوں کے نا م درج ہیں جو اس محاصرہ کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ سب سے واضح تصویر نکولسن کی ہے۔

ایک تخت پر لکھا تھا: 21 ستمبر کو یہ شہر دشمن کے قبضہ سے خالی کروا لیا گیا تھا۔ یہاں بھی بھارتی حکومت نے ایک بورڈ لگایا جس میں یہ وضاحت کی گئی کہ یہاں دشمن سے مراد وہ لوگ ہیں جو کولونئیل رول کے خلاف نبرد آزما تھاے اور 1857 میں قومی آزادی کی جنگ میں بہادری کے ساتھ لڑے۔ یہ 25 اگست کو کھولا گیا تھا۔ اب اس بغاوت کی یادگار کو اجیت گڑھ کہا جاتا ہے۔

 اس ridge کے پاس دہلی کے محاصرہ کے دوران ایک سخت جنگ بھی ہوئی۔ مراٹھا کے شریف ہندو راؤ کا گھر  جو یہاں موجود ہے،  وہ برطانوی افواج نے اپنے ہیڈ کوارٹرز کے طور پر استمعال کیا اور اب وہ ایک نئی شکل میں بارا ہندی راو ہسپتال کی شکل میں تعمیر کیا جا چکا ہے اسلیے اس پر اس کاروائی کے نشانات دیکھنا ممکن نہیں رہا۔

وہاں سے پانچ منٹ کی پیدل مسافت کے بعد میں پیر غائب، فیروز شاہ تغلق کی شکار کی کوٹھڑی پر پہنچ گئی جسے برطانوی حکام نے مشاہدہ کرنے کی جگہ کا نام دے رکھا تھا۔ اس خوبصورت بلڈنگ کے پیچھے کیمپ کی طرف ایک روڈ نکلتی ہے۔ اس پر فائرنگ کی وجہ سے تباہی کے نشانات کی وجہ سے اسے ویلی آف ڈیتھ کا نام دیا گیا ہے۔

15 سے 20 منٹ کی پیدل مسافت کے بعد چوبرجی مسجد کے قریب سے گزرنے کے بعد میں فلیگ سٹاف ٹاور پر پہنچی۔ یہاں برطانوی کینٹونمنٹ کے یورپی خواتین اور بچوں نے 11 مئی 1857 کی رات پناہ لی تھی جب وہ میرٹ سے آنے والی مدد کا انتظار کرر ہے تھے۔ جب کوئی مدد نہیں آئی تو خواتین نے کرنال کے برطانوی کیمپ کی طرف سفر شروع کیا اور کچھ راستے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

آج یہ جگہ دہلی یونیورسذتی کیمپس  کے سامنے موجود ہے اور طلبا کے لیے ایک مشہور جگہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ جب میں نے گول ٹاور کو دیکھا  اور اس کے اندر کی تنگ جگہ کا معائنہ کیا  تو میرے ذہن میں خیال آیا کہ آیا دوسرے لوگ بھی اس میں چھپنے والے خواتین اور بچوں کی چیخوں کو تصور میں لا سکتے ہیں یا نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *