موٹاپے کا باعث بننے والی غذا سامنے آگئی

دنیا بھر میں موٹاپا وبا کی طرح پھیل رہا ہے اور اب طبی ماہرین نے اس کی وجہ ڈھونڈ لی ہے۔

سائنسدانوں نے آخرکار ثابت کردیا ہے کہ الٹرا پراسیس جنک فوڈ جسمانی وزن میں تیزی سے اضافہ کرتا ہے بلکہ مختلف امراض کا باعث بنتا ہے۔

یہ بات تو کافی عرصے پہلے سامنے آچکی ہے کہ جو افراد اپنی غذا میں سافٹ ڈرنکس، پیزا، برگر اور چپس وغیرہ کھانا پسند کرتے ہیں ہو اکثر معمول سے زیادہ کھالیتے ہیں اور بہت جلد موٹاپے کا شکار ہوجاتے ہیں۔

مگر اس نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ جنک فوڈ واقعی لوگوں کو بسیار خون بناکر موٹاپے کا شکار کردیتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں اجناس پر مشتمل صحت بخش غذا جسمانی وزن میں کمی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ وجہ واضح نہیں کہ جنک فوڈ زیادہ کھانے اور جسمانی وزن بڑھنے کا باعث کیوں بنتی ہے مگر ان کے خیال میں اس کی وجہ ان کا الٹرا پراسیس ہونا ہے۔

امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آن ڈائیبیٹس اینڈ ڈائجسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیز کی اس تحقیق میں 10، دس صحت مند مردوں اور خواتین رضاکاروں کو ایک ماہ تک سختی سے کنٹرول غذا کا استعمال کرایا گیا۔

ہر رضاکار کو 2 غذائی پلان میں سے ایک کو اپنانے کی ہدایت کی گئی یعنی بہت زیادہ پراسیس یا سادہ غذا۔

اور پھر 2 ہفتے بعد ان افراد کو دوسری غذا پر سوئچ کردیا گیا۔

دونوں طرح کی غذاﺅں میں غذائی اجزا یکساں تھیں یعنی چربی، کاربوہائیڈریٹس، شکر اور پروٹین وغیرہ اور رضاکاروں کو اجازت دی گئی وہ جتنا دل کرے کھائیں۔

مگر جنک اور سادہ غذا میں ایک فرق واضح تھا اور وہ شکر اور چربی کو پراسیس غذاﺅں میں شامل کرنا جبکہ سادہ غذاﺅں میں یہ اجزا قدرتی طور پر شامل ہوتے تھے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ پراسیس غذا کااستعمال کرنے والے افراد عام معمول سے زیادہ کھانے لگے بلکہ وہ اپنی خوراک بہت تیزی سے چبا کر نگلنے کے عادی ہوگئے جس کے نتیجے میں وہ 508 کیلوریز اضافی جزو بدن بنانے لگے اور 2 ہفتوں میں وزن اوسطاً ایک کلو تک بڑھ گیا۔

دوسری جانب سادہ غذا استعمال کرنے والے افراد کے وزن میں لگ بھگ اتنی ہی کمی دیکھنے میں آئی۔

یہی چیز جسمانی چربی کے حجم میں بھی دیکھنے میں آئی یعنی جنک فوڈ کے استعمال سے لوگوں کے اندر جسمانی چربی بڑھ گئی جبکہ دوسری قسم کی غذا سے چربی میں کمی آئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *