چھوٹا پرنٹ

آخر کار نو سال تک کبھی ہاں کبھی ناں کا رویہ اپنانے کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معائدے پر دستخط کر ہی دیے۔ اس حکومت نے ن لیگ کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو بھی اپنا لیا ہے جسے یہ جماعت ایک نیشنل سکیورٹی تھریٹ قرار دیا کرتی تھی۔ اس معائدے کے سلسلہ میں پارٹٰی نے ایک وزیر خزانہ، یعنی اسد عمر، ایک سٹیٹ بینک گورنر طارق باجوہ کی قربانی دی۔ یہ دونوں عہدیدار پاکستان کے مفاد کے تحفظ کے لیے حد سے زیادہ پریشان دکھائی دیتے تھے جب کہ ان کا باس عمران خان ہر شرط ماننے کو تیار تھا۔ اس فیصلے سے ناراض اسد عمر آئی ایم ایف سے ان کی دوری کی وجوہات بیان کرنے کی دھمکی دیتے نظر آتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ جب آُپ کے پاس کھڑے ہونے کے لیے پاوں ہی نہ ہوں تو ایسی صورتحال میں گھسنا کسی صورت ایک اچھا قدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر ہم بیرونی قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ قرار پاتے۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے ذریعے اضافی فنڈز کے حصول کے بغیر ہمیں دفاعی اور ترقیاتی بجٹ کو کم کرنا پڑتا جو ہم افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی ڈیل کچھ اہم شرائط پر مبنی ہے۔ پہلی شرط یہ کہ ہمیں ایف اے ٹٰ ایف کی طرف سے کلیرنس چاہیے ہو گی۔ اس وقت ہمارے عہدیدار انڈیا کی زیر صدارت قائم ایشیا پیسفک گروپ آف ایف اے ٹٰی ایف کے ساتھ مذاکرات میں مشغول ہیں۔ بہت سا ہوم ورک کیا جا چکا ہے۔ لیکن یہ ایک جاری رہنے والا ریویو پراسیس ہے۔ اگر اس دوران بھارت میں کوئی دہشتگردی کی واردات ہوتی ہے اور اس کے تانے بانے پاکستان سے ملتے ہیں تو پاکستان کے بارے میں فٹف کی فائل ایک بار پھر کھل سکتی ہے۔

دوسری شرط یہ ہے کہ پاکستان چین، سعودی عرب اور یو اے ای سے لیے گئے قرضے رول اوور کرے تا کہ قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ کم ہو۔ اس لیے اب عمران خان کو ایک بار پھر کشکول لے کر دور دور کے ممالک میں بھیک مانگنے جانا پڑے گا۔

تیسری شرط یہ ہے کہ صوبوں پر دباو ڈالا جائے کہ وہ اپنے ریونیو شئیر سے کچھ حصہ قربان کرین تا کہ آئی ایم ایف کے پرائمری خسارے کے ٹارگٹس پورے کیے جا سکیں۔ تین صوبوں میں تو پی ٹی آئی چپکے سے دبک کر بیٹھ جائے گی لیکن سندھ میں سے مزاحمت کا سامنا کرنا ہو گی۔ سندھ کو خاموش کرنے کے لیے نیب کو استعمال کیا جائے گا۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ آئی ایم ایف تجارتی سہولیات پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایکسپورٹ سبسڈی ختم کرنا ہو گی اور امپورٹس پر ڈیوٹی کم کرنا ہو گی۔ دوسرے الفاظ میں ٹریڈ والیم کا تعین صرف ایکسچینج ریٹ پر ہو گا۔

پانچوی شرطح یہ ہے کہ ایکسچینج ریٹ فری فلوٹ کرے گا تا کہ سٹیٹ بینک کو روپیہ کی قیمت برقرار رکھنے کے لیے اپنے ریزروز کو استعمال نہ کرنا پڑے۔ دوسرے الفاظ میں اب روپے کی قیمت مسلسل گرتی رہے گی اور مہنگائی بڑھتی رہے گی۔

چھٹی شرط یہ ہے کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ غربت کم ہو اور ڈویلپمنٹ فنڈز میں اضافہ کیا جائے۔ جو قرضے ہم نے ادا کرنے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ دباو بڑھے گا کہ ڈیفنس بجٹ میں کمی لائی جائے۔ کیا دفاعی قیادت اس چیز کو آسانی سے قبول کر لے گی؟

آخری لیکن سب سے اہم یہ کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کی ڈور واشنٹگن کے ہاتھ میں ہے اور امریکی محکمہ خزانہ ان کے ذریعے اپنے خارجہ پالیسی کے مقاصد حاصل کرتا ہے۔ اگر پاکستان افغانستان اور بھارت میں امریکی اہداف پورے کرنے میں ناکام رہتا ہے تو یہ مالیاتی ادارے ہمارے مستقبل کے انسٹالمنٹس دینے میں زیادہ سخت رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی طرف سے لائی گئی ایمنسٹی سکیم ن لیگ کی سکیم سے زیادہ مختلف نہیں ہے جس کے ذریعے 100 ارب روپیہ اکٹھا ہوا تھا۔ لیکن جس طرح معیشت نیچے کی طرف جا رہی ہے پی ٹی آئی کے لیے یہ رقم حاصل کرنا بھی ایک مشکل ہدف دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں عقل کا استعمال کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگلے چھ ہفتے میں قابل ادا ٹیکس رقم کا تعین کیا جائے لیکن ٹیکس کی ادائیگی کے لیے اگلے 12 ماہ کا وقت رکھا جائے اگرچہ اس پر کچھ سر چارج بھی لاگو کیا جائے گا۔

لیکن پی ایم ایل این کی سکیم کے بر عکس پی ٹی آئی کی سکیم میں ایک بہت بڑا ڈیفیکٹ ہے۔ یہ پچھلے دس سال کے دوران پبلک آفس ہولڈرز  کے لیے قابل عمل نہیں ہے ۔ صرف 10 سال ہی کیوں؟ پچھلے پانچ یا 20 سال کیوں نہیں؟ اس خاص دورانیہ تک محدود کرنے کا اصل مقصد کیا ہے؟ اس کے علاوہ پبلک آفس کی تعریف بھی واضح نہیں ہے۔

یہ ایک تین صفحات پر مشتمل آرڈیننس ہے۔ اس میں صدر سے لے کر تحصیل ناظم تک ہر کوئی شامل ہے جن میں  سٹیچوٹری آرگنائزیشنز، انسٹیٹیوشنز، اور حکومت کی نگرانی میں کام کرنے والے اداروں میں کام کرنے والے پرائیویٹ سیکٹر کے ایگزیکٹوز، ایڈوائزرز، کنسلٹینٹس،  وغیرہ بھی شامل ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ سینکڑوں اور ہزاروں افسران اور عوامی نمائندوں کو چھوڑ رہی ہے  جو ملک کے کرپٹ ترین لوگ ہیں۔ یہ وہ  ایلیٹ طبقہ کے لوگ ہیں جنہوں نے ریاست پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ان ایلیٹ طبقہ کے لوگوں کے خلاف ہم جانا پسند کرتے ہیں ۔ لیکن ضروری نہیں کہ جو باز کے لیے بہتر ہو وہی فاختہ کے لیے بھی بہتر ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست  پاکستان کے اصل  پیالوں کو صاف کرنا مقصود نہیں ہے۔

ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی تیاری میں بھی 9 ماہ لگائے گئے اگر پی ٹی آئی کے آنے کے بعد ن لیگ کی سکیم کو توسیع دی جاتی تو آج تک بہت سی رقم حاصل کی جا چکی ہوتی۔ لیکن یہ ایمنسٹی سکیم صدراتی توثیق کے ذریعے لائی گئی بجائے قومی اسمبلی کے ذریعے لانے کے تا کہ اس پر کسی قسم کی بحث نہ کی جا سکے۔

آئی ایم ایف ایگریمنٹ اور ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا چھوٹا پرنٹ پی ٹی آئی حکومتی کی ملکی سکیورٹی اور دوسرے چیلنجز سے نمٹنے میں نا اہلی کو ثابت کرتا ہے۔ آنے والے حالات کی فور کاسٹ بہت پریشان کن ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *