اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی، مشیر خزانہ کی بروکرز سے ملاقات

کراچی: اسٹاک مارکیٹ کے کاروبار میں مندی کا رجحان دوسرے روز بھی جاری رہا اور انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر میں مزید کم ہونے کے بعد مارکیٹ میں 800 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی اور یوں تقریباً ڈیڑھ دہائی بعد اسٹاک مارکیٹ کو اس ہفتے کی بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

تقریباً 2 روز کے دوران روپے کی قدر میں 5 فیصد کمی ہوچکی ہے جس سے اقتصادی شعبے اور تاجر برادری میں خاصی بے چینی پائی جارہی ہے۔

ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ای کیپ) کے مطابق مسلسل اتار چڑھاؤ نے انٹر بینک مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں ایکسچینج ریٹ 147.9 کی شرح پر مستحکم ہونے سے قبل 149.25 تک پہنچ گیا تھا، کچھ بینکس کے مطابق انہوں نے 148.50 کے ریٹ پر کلوزنگ کی جبکہ اوپن مارکیٹ ملک بھر کے ریٹس کی اوسط سے 151 کی شرح پر بند ہوئی۔

اس صورتحال میں وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ خصوصی طور پر کراچی آئے اور سندھ کلب میں ڈیڑھ گھنٹے تک اسٹاک بروکرز کے ساتھ ملاقات کی اور ان کی شکایات سنیں۔

اس دوران سال 2008 کی یاد اس وقت تازہ ہوگئی جب بروکرز نے مشیر خزانہ سے تجارتی سیکٹر میں مسلسل مندی پر قابو پانے میں مدد کے لیے ’مارکیٹ سپورٹ فنڈ‘ قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔

بعدازاں اس ملاقات کے بعد کچھ بروکرز نے اپنے میڈیا روابط کو بتایا کہ مشیر خزانہ نے بھی فنڈ قائم کرنے کے خیال سے اتفاق کیا ہے اور اس ضمن میں یہ بھی کہا ہے کہ نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ میں 20 ارب روپے اس مقصد کے لیے دیے جائیں گے۔

تاہم یہ دعویٰ محض قیاس آرائیوں پر مبینی ثابت ہوا اور اسٹاک ایکسچینج سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں صرف یہ کہا گیا کہ ’پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پرکشش اثاثوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اس بات کی بھی تجویز دی گئی ہے کہ مارکیٹ سپورٹ فنڈ پر غور کیا جائے گا'۔

اس ملاقات کے بعد ترتیب دیے گئے وفود مشیر خزانہ کے ہمراہ گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر سے ملاقات کے لیے گئے تاہم اس ملاقات کے بعد کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

البتہ بروکرز اور اسٹیٹ بینک میں موجود ذرائع نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ ملاقات اس شرط پر ہوئی تھی کہ اس میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں کسی باہر کے فریق کو آگاہ نہیں کیا جائے گا۔

تاہم اسٹیٹ بینک میں موجود کچھ بروکرز نے صرف یہ کہا کہ مجوزہ ’مارکیٹ سپورٹ فنڈ‘ کے لیے کام اور اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایکسچینج ریٹ اور شرح سود کے حوالے سے متوقع اعلان کے بارے میں گفتگو کی گئی۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ وہ پیر کے روز مانیٹری پالیسی کا اعلان کردے گا جبکہ مالیاتی مارکیٹس روپے کی قدر میں کمی کے ساتھ ساتھ شرح سود میں اضافے کے دہرے دھچکے کی تیاری کررہی ہیں۔

خیال رہے کہ شرح سود کا اعلان رواں ماہ کے آخر میں ہونا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسٹیٹ بینک یہ اعلان 10 روز قبل ہی کررہا ہے۔

واضح رہے کہ جب سے حکومت نے بیل آؤٹ پیکج کے لیے عالمی مالیاتی ادارے سے بات چیت کا آغاز کیا مقامی کرنسی کی قدر ڈالر کے مقابلے میں مسلسل کم ہورہی ہے، اب تک آئی ایم ایف سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا لیکن روپے کی قدر میں کمی ممکنہ طور پر آئی ایم ایف سے مستقبل میں موصول ہونے والے بیل آؤٹ پیکج کا حصہ ہوسکتی ہے۔

اس حوالے سے جب مارکیٹ کے حصہ داروں سے پوچھا گیا تو وہ خاصے محتاط نظر آئے، عارف حبیب ریسرچ کے ڈائریکٹر سمیع اللہ طارق نے کہا کہ ’اسے رکنا چاہیے، روز بہ روز روپے کی قدر میں کمی اور مزید کمی ہونے کی اطلاعات کی وجہ سے مارکیٹ کا اعتماد متزلزل ہوگیا ہے اور اثاثوں کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی زیادہ تر صنعت مثلاً گاڑیاں، سیمنٹ اور ادویات سازی کو درآمدات میں شدید دھچکا لگے گا اور وہ اضافی لاگت کا بوجھ صارفین پر منتقل کردیں گے اس طرح ہر صنعت میں بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نہ صرف معیشت بلکہ عام آدمی بھی متاثر ہوگا۔

تاہم کچھ نے اس بات سے اختلاف کیا کہ روپے کی قدر میں کمی ضروری تھی لیکن اسے طول دینے کے بجائے یک دم کیا جانا چاہیے تھا۔

ایک سینئر بینکر کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر ایک ماہ سے 141.40 تھی جو استحکام کو ظاہر کرتا ہے لیکن گزشتہ 2 دنوں میں درآمد کنندگان کا اعتماد متزلزل ہوگیا ہے۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی معاہدہ ہو اسے سامنے لایا جانا چاہیے اور روپے کی قدر میں کمی یک دم ایک سال کے لیے کردینی چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *