امریکا، ایران کشیدگی کے باوجود جنگ کے امکانات مسترد

کراچی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات واضح کردی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، جس کے بعد واشنگٹن میں موجود سینئر حکام نے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی راہیں تلاش کرنی شروع کردی ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے قائم مقام سیکریٹری ڈیفینس پیٹرک شناہن کو بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے اس بیان کا مطلب اپنے جگنجو ساتھیوں کو اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالنے والی امریکی کوششوں میں شدت لا کر اسے تنازع میں تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔

ایک دوسرے بیان کے مطابق امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے اومان کے سلطان قابوس بن سعید سے ایرانی خطرات کے بارے میں گفتگو کی، اومان کو طویل عرصے سے مغرب اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ مائیک پومپیو نے کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران کو قائل کرنے کے لیے یورپی حکام سے بھی بات چیت کی، یہ صورتحال امریکی خفیہ اداروں کی ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی جس میں بتایا گیا تھا کہ خلیج فارس میں ایران کے پاس میزائیلز سے لیس چھوٹی کشتیاں موجود ہیں۔

اس اطلاع سے اس بات کو تقویت ملی کہ تہران امریکا یا اس کے اتحادیوں کے فوجی دستوں اور اثاثوں کو حملے کا نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس بارے میں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا ایران کے ساتھ جنگ کرے گا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’مجھے امید ہے نہیں‘۔

یہ پیش رفت امریکی حکومت میں داخلی تناؤ کی جانب اشارہ کرتی ہے اور اس بات خطرہ پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر امریکی صدر ایران کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے تیار نہیں لیکن ان کے کچھ اتحادی ضرور ایسا کرسکتے ہیں۔

اس وقت امریکی حکام میں اندرونی طور ’ایران سے لاحق خطرات کی شدت‘ پر بھی بحث جاری ہے جبکہ حکام اور برطانوی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایران سے حقیقی خطرہ ہے۔

دوسری جانب کچھ اراکین پارلیمنٹ اور حکومت کے عہدیداروں نے امریکی صدر کے اتحادیوں پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے ساتھ فوجی لڑائی کے جواز کے طور پر خفیہ اطلاع اور خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران، صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کی تجویز کو مسترد کرچکا ہے، اور اس سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ’امریکی جارحیت ناقابلِ قبول ہے‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *