خاتون کی ہلاکت پر ڈولفن فورس کے 4 اہلکار گرفتار

لاہور: نشتر کالونی پولیس نے مسیحی خاتون کی ہلاکت پر ڈولفن فورس کے 4 اہلکاروں کو گرفتار کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے خاوند وارث مسیحی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ موٹر سائیکل پر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے واپس گھر جارہے تھے کہ آشیانہ روڈ پر بینک اسٹاپ کے قریب ڈولفن اسکواڈ کی ٹیم نمبر 192 نے ان پر فائرنگ کی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ نسرین سر میں گولی لگنے سے زخمی ہوگئیں، جنہیں قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ دم توڑ گئیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ڈولفن فورس کے حکام نے ان کی مدد نہیں کی اور جب وہ اپنی اہلیہ کو ہسپتال منتقل کررہے تھے تو ان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب اسکواڈ سے فائرنگ کی وجہ پوچھی گئی تو ان کے پاس جواب نہیں تھا۔

بعد ازاں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز اشفاق خان، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز اسماعیل، ڈولفن اسکواڈ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) بلال ظفر، ماڈل ٹاؤن کے ایس پی عمران احمد ملک اور دیگر افسران نے جائے وقوع کا دورہ کیا۔

اس سے قبل لاہور پولیس کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈولفن فورس کے اہلکار کوٹ لکھپت کے علاقے میں کسی کا پیچھا کررہے تھے اور انہوں نے مشتبہ افراد کو رکنے کا کہا تھا لیکن وہ نہیں رکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈولفن فورس کے اہلکاروں نے متشبہ افراد کو روکنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جو خاتون کو جا لگی۔

علاوہ ازیں خاتون کے قتل کی ایف آئی آر ڈولفن فورس کے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف درج کی گئی اور انہیں معطل کرکے ان کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے مذکورہ اسکواڈ کو تعینات کیا تھا جن کی ٹریننگ ترکی کے عہدیداروں نے کی تھی۔

اس سے قبل اسکواڈ نے 2018 میں گلشن رضوی کے علاقے میں ایک ذہنی مریض شخص کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

2018 میں ہی ڈولفن اسکواڈ کی جانب سے ڈکیتوں پر کی جانے والی فائرنگ کی زد میں آکر ایک کم عمر بچہ جان کی بازی ہار گیا تھا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *