پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون پر ’صلح کے لیے دباؤ‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں پولیس نے 22 سالہ خاتون کو گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کے الزام میں حراست میں لیے گئے تین پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد کا جسمانی ریمانڈ تو حاصل کر لیا ہے تاہم متاثرہ خاتون کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان پر صلح کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

اجتماعی جنسی زیادتی کا یہ مبینہ واقعہ 15 مئی کو بحریہ ٹاؤن کے علاقے میں پیش آیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ راولپنڈی میں ایک ہوسٹل میں مقیم ہیں اور رات کو سحری کے لیے اپنے ایک دوست کے ہمراہ گئی ہوئی تھیں کہ جب چار افراد نے انھیں اسلحے کے زور پر اپنی گاڑی میں بٹھا لیا۔

خاتون کے مطابق ان افراد نے ان کے دوست کو بھاگ جانے کو کہا اور پھر سڑک کنارے گاڑی میں انھیں ریپ کیا گیا۔

خاتون کا الزام ہے کہ انھیں چاروں ملزمان نے تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور ان کی تصاویر اور ویڈیو بھی بنائی گئی۔

ان کے بقول ریپ کے بعد یہ افراد ان کے پاس موجود رقم اور طلائی انگوٹھی چھین کر انھیں ان کے ہاسٹل کے پاس پھینک کر فرار ہو گئے تھے۔

راولپنڈی پولیس کے ترجمان سہیل طفر نے بی بی سی کو بتایا کہ خاتون کی شکایت ملنے کے بعد ان کا طبی معائنہ کروایا گیا جس کی رپورٹ کے مطابق خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں خاتون کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا مقدمہ درج کر کے چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ وقوعے میں استعمال ہونے والی کار بھی بر آمد کر لی گئی۔

ترجمان کے مطابق ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے جبکہ ان کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر کے انھیں لاہور میں فارینزک لیبارٹری بھجوایا جائے گا۔

صلح کے لیے دباؤ

پولیس حکام کے مطابق اس واقعے میں ملوث تینوں پولیس اہلکاروں کو معطل بھی کر دیا گیا ہے تاہم متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ان پر صلح کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

متاثرہ خاتون کے ایک رشتہ دار نے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ ’ملزمان نے خاندان پر صلح کے لیے دباؤ ڈالا ہوا ہے۔ وہ دھمکیاں دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میڈیا میں دو چار دن خبریں چلیں گی پھر اس کے بعد کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ہو گا۔‘

مذکورہ رشتہ دار کا کہنا ہے کہ ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ پیسے لے کر مقدمہ واپس لے لیں۔

پولیس ترجمان سہیل ظفر کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ ناقابل ضمانت ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ تاحال متاثرہ خاتون کے اہل خانہ کی طرف سے ان پر دباؤ ڈالے جانے کے بارے میں پولیس سے رابطہ نہیں کیا گیا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

پاکستان میں ریپ کے واقعات کی روک تھام اور اس سلسلے میں آگہی فراہم کرنے والی غیر سرکاری تنظیم وار ایگینسٹ ریپ پاکستان کی جانب سے سنہ 2015 اور 2016 میں جمع کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ اوسطاً چار خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

تنظیم کے مطابق یہ وہ معاملات ہیں جو کہ باقاعدہ کسی نہ کسی شکل میں رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ ممکنہ طور پر ایسے واقعات کی ایک بڑی تعداد بھی ہے جو کہیں بھی رپورٹ نہیں ہوتے۔

انسانی حقوق کے کارکن قمر نسیم کے مطابق ریپ کا شکار اکثر خواتین شرم اور عزت کے ڈر سے خاموشی اختیار کر لیتی ہیں اور اس سلسلے میں امیر و غریب خواتین کے حوالے سے کوئی بھی تفریق نہیں ہے۔

ان کے مطابق یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جن خواتین نے اس حوالے سے شکایات درج بھی کروائی ہیں انھیں بھی انصاف ملنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے اور اکثر کو تو انصاف ملا ہی نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *