ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف: ’نسل کشی کے طعنوں‘ سے ایران ختم نہیں ہوگا

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکی صدر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اُن کے ملک کو دھمکایا نہ جائے۔

پیر کو ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر کو تاریخ کو دیکھنا چاہیے۔

'ایرانی ہزاروں سال سے فخر کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ تمام حملہ آور آئے اور چلے گئے، احترام کرنا سیکھیں، اس سے فائدہ ہوتا ہے۔'

جواد ظریف نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کو ’نسل کشی کے طعنے‘ قرار دیا جس میں صدر ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر دونوں ممالک کے درمیان لڑائی ہوئی تو ایران تباہ ہو جائے گا‘۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر کو 'بی ٹیم' اکسا رہی ہے۔ ان کا اشارہ امریکہ کے نیشنل سکیورٹی کے مشیر جان بولٹن، اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو اورسعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب تھا۔

ٹرمپ اور روحانی

حالیہ کشیدگی کا آغاز ایران کی جانب سے 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد معطل کرنا بنی

گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے سخت الفاظ میں ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان لڑائی ہوئی تو ایران تباہ ہو جائے گا۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ کو دوبارہ دھمکانے سے گریز کیا جائے اور ’اگر ایران جنگ چاہتا ہے تو یہ باقاعدہ طور پر ایران کا خاتمہ ہو گا۔‘

امریکی صدر کی جانب سے یہ پیغام ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کی نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ امریکہ نے رواں ماہ کے دوران خلیج فارس میں مزید جنگی جہاز اور طیارے تعینات کیے ہیں۔

صدر ٹرمپ اس سے قبل ایران سے جنگ کے امکانات کو رد کرتے رہے ہیں تاہم یہ ٹویٹ ان کے رویے میں تبدیلی کی عکاسی کر رہی ہے۔

چند دن قبل ہی امریکی صدر نے اپنے مشیروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران پر امریکی دباؤ لڑائی کی شکل اختیار کرے۔

گزشتہ جمعرات کو جب صحافیوں نے ان سے دریافت کیا تھا کہ آیا امریکہ ایران سے جنگ کرنے جا رہا ہے تو ان کا جواب تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ ایسا نہیں ہو گا۔

صرف امریکہ کی جانب سے ہی بلکہ ایران نے بھی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود جنگ کے امکانات کو رد کیا تھا۔ سنیچر کو ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کا ملک جنگ کا خواہشمند نہیں ہے۔

امریکی بحری بیڑا

امریکہ نے جنگی بحری بیڑا یو ایس ایس ابراہم لنکن خطے میں بھیج دیا ہے

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ’کوئی جنگ نہیں ہو گی کیونکہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور کوئی اس فریبِ نظر کا شکار بھی نہیں ہے کہ وہ خطے میں ایران کو چھیڑ سکتے ہیں۔‘

حالات کشیدہ کیوں ہیں؟

حالیہ کشیدگی کا آغاز ایران کی جانب سے 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد معطل کرنا بنی۔ ایران نے یورینیئم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی دی۔ یہ یورینیئم جوہری ری ایکٹر کا ایندھن اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے۔

چار برس قبل طے پانے والے جوہری معاہدے کا مقصد ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کے خاتمے کے بدلے اس پر عائد پابندیوں میں کمی تھی تاہم امریکہ نے گزشتہ برس اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو عیب دار قرار دیتے ہوئے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

ایرانی خواتین

کشیدگی میں حالیہ اضافے کے بعد اطلاعات کے مطابق ایران نے خلیج فارس میں اپنی جنگی کشتیوں پر میزائل نصب کر دیے ہیں جبکہ امریکی تفتیش کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب چار تیل بردار جہازوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کے پیچھے بھی وہی ہے۔

تاہم ایران نے اس الزام سے انکار کیا ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

خلیج کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

حالیہ دنوں میں امریکہ نے خطے میں اپنا طیارہ بردار جنگی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن تعینات کر دیا ہے اور اطلاعات کے مطابق ایک لاکھ 20 ہزار فوجیوں کو بھی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ عراق سے تمام غیر ضروری سفارتی عملے کو واپس امریکہ بلا لیا گیا ہے اور امریکی برّی فوج نے خطے میں خطرے کے لیول کو بڑھا دیا ہے اور اس کی وجہ ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے بارے میں ملنے والی مبینہ خفیہ معلومات کو قرار دیا گیا ہے۔

حسن روحانی

ایران کے صدر حسن روحانی نے جوہری معاہدے کو قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا

اتوار کو عراقی فوج نے کہا کہ بغداد کے گرین زون میں ایک راکٹ پھینکا گیا۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں حکومتی دفاتر اور سفارتخانے واقع ہیں۔ یہ راکٹ امریکی سفارتخانے سے کچھ دور ایک متروک عمارت پر لگا اور اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ اس حملے کے پیچھے کون تھا۔

ادھر سعودی عرب میں ایک حکومت کے حامی اخبار کی جانب سے امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران پر حملہ کرے۔

یہ مطالبہ سعودی عرب کی جانب سے ان الزامات کے بعد سامنے آیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے جمعے کو اس کی تیل لے جانے والی پائپ لائن پر ڈرون سے حملہ کیا۔

ایران نے اس الزام کو بھی مسترد کیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *