’شمالی کوریا کی خواتین چین میں جسم فروشی پر مجبور‘

لندن کی ایک غیر سرکاری سماجی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کی ہزاروں خواتین اور لڑکیوں کو چین میں جسم فروشی کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔

کوریا فیوچر انیشیٹو نامی اس تنظیم کے مطابق ان میں اکثر خواتین کو اغوا کر کے جسم فروشی کے لیے فروخت کر دیا جاتا ہے یا چینی مردوں سے شادی کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرائم پیشہ تنظیموں کے لیے اس کاروبار کی سالانہ مالیت دس کروڑ ڈالر ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کی جانب سے شمالی کوریا کے باشندوں کو جلاوطن کرنے اور وطن واپسی پر تشدد کے خوف کی وجہ سے وہاں موجود خواتین اکثر یہ کام کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

اس رپورٹ کے مصنف یون ہی سون کہتے ہیں ’متاثرہ خواتین کو 30 چینی یوان میں جسم فروشی، اور صرف ایک ہزار یوان میں بطور بیوی فروخت کیا جاتا ہے، اور سائبر سیکس کی دنیا میں موجود آن لائن سامعین سے استحصال کرانے کے لیے بیچ دیا جاتا ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر لڑکیوں اور خواتین کی عمر 12 سے 29 سال کے درمیان ہوتی ہے لیکن کبھی اس سے کم عمر بھی ہوتی ہیں۔

چین جسم فروشی

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین میں ان کو مجبور، بیچا یا اغوا کیا جاتا ہے یا شمالی کوریا سے براہ راست فروخت کر دیا جاتا ہے۔ بہت سی لڑکیوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ فروخت کیا جاتا ہے اور گھر چھوڑنے کے ایک سال کے اندر کم از کم کسی ایک قسم کی جنسی غلامی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

بہت سی لڑکیوں کو چین کے شمال مشرقی ضلعوں کے قحبہ خانوں میں رکھا جاتا ہے جہاں تارکین وطن کی بڑی آبادی مقیم ہے۔

سائبر سیکس انڈسٹری میں کام کرنے والی خواتین کو ویب کیمروں کے سامنے جنسی عمل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور جنسی زیادتی کا شکار بنایا جاتا ہے ان میں سے بعض لڑکیوں کی عمر نو برس تک بھی ہوتی ہیں۔ ایک خیال ہے کہ بہت سے صارفین کا تعلق جنوبی کوریا سے ہے۔

زبردستی شادی کا شکار بننے والی خواتین کو زیادہ تر دیہی علاقوں میں ایک ہزار سے 50 ہزار یوان میں فروخت کیا جاتا ہے اور شوہروں کے ہاتھوں ریپ اور زبردستی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس گروپ نے یہ معلومات چین کی متاثرہ خواتین اور جنوبی کوریا میں جلا وطنی سے بچ جانے والی خواتین سے جمع کی ہیں۔

چینی جسم فروشی

زبردستی شادی کا شکار بننے والی خواتین کو زیادہ تر دیہی علاقوں میں ایک ہزار سے 50 ہزار یوان میں فروخت کیا جاتا ہے

شمالی کوریا کے شہر چانگ جن کی ایک خاتون مس پیون رپورٹ میں بتاتی ہیں ’مجھے شمالی کوریا کی چھ اور خواتین کے ساتھ ایک ہوٹل میں (ایک قحبہ خانے کو) فروخت کیا گیا۔ ہمیں کھانے پینے کو زیادہ نہیں دیا جاتا تھا اور برا سلوک کیا جاتا تھا۔۔۔ آٹھ ماہ بعد ہم میں سے آدھی خواتین کو پھر فروخت کر دیا گیا۔ دلال نے میرے ساتھ بہت بری چیزیں کی۔‘

جب میں (ایک نئے قحبہ خانے) آئی تو میرے جسم پر زخم تھے۔ پھر گینگ کے کچھ لوگوں نے دلال کو مارا پیٹا اور اس کی ٹانگوں پر چھریوں کے وار کیے۔‘

ایک اور خاتون مس کم کہتی ہیں: ’(چین اور ڈالیان) میں جنوبی کوریا کے بہت سے لوگ ہیں۔۔۔ ہم (ہوٹل) میں ان کے دروازوں کے نیچے اپنے اشتہاری کارڈ رکھتے ہیں۔۔۔ کارڈز کوریائی زبان میں ہوتے ہیں اور ان پر ہماری پیشکش درج ہوتی ہے۔۔(دلال) ہمیں زیادہ تر بارز میں لے جاتا ہے۔‘

’جنوبی کوریا کی کمپنیوں کو اپنے کاروباری افراد کے لیے شمالی کوریا کی طوائفیں چاہیے ہوتی ہیں۔ جنوبی کوریا کے ایک شخص کو ملنے کا میرا پہلا تجربہ جسم فروشی کے ذریعے ہوا۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *