شاہجہان کے کچن کے خاص کھانوں کو دوسری زندگی دینے والی کتاب

کباب،قلفی، قورمہ، شاہجہان کے کچن کے خاص کھانوں کو دوسری زندگی دینے والی کتاب

" سلمہ یوسف حسین "

مغل تہذیب کا سنہرا دور شاہجہان کے دور میں شروع ہوا۔ اب دہلی ایک مہذب دربار بن چکا تھا جس کے اپنے کچھ ذائقے اور شان تھی۔ 1730 کے آغاز تک اس شہر نے ہمسایہ علاقوں کے بہت سے عوام کو قبول کر لیا تھا اور قومی اور عالمی سطح کی خاص رویات، نظریات اور یہاں تک کے کھانوں کوبھی قبول کر چکا تھا۔

پرترگال کے مغلوں سے تجارتی تعلقات قائم ہوئے کافی عرصہ ہو چکا تھا۔ اس لیے شاہی کچن میں بھارتی اجزا کے علاوہ دوسرے ممالک کے بھی کچھ اضافی اجزا شامل ہونا شروع ہو گئے۔ ان میں سب سے اہم پرتگال سے آنے والی مرچ تھی۔ یہ برصغیر کی مرچ جیسی ہی تھی اس لیے شاہی باورچیوں کو اس میں کوئی خاص تبدیلی دکھائی نہیں دیتی تھی البتہ یہ مرچ ذائقے میں زیادہ ترش تھی۔ آلو اور ٹماٹر جیسی اشیا بھی کھانوں کا حصہ بننا شروع ہو گئیں جس کی وجہ سے لال قلعے کے کھانے زیادہ خوبصورت، مزیدار اور متنوع نظر آنے لگے۔ قومہ، قلیا، پلاو، کباب،مختلف سبزیاں یورپین کیک اور حلوہ کے ساتھ ٹیبل پر نظر آنے لگیں۔

رائل کچن میں کھانا بنانا اور پیش کرنا رنگ، خوشبو، تجربہ، ٹیبل سجانے کے آداب اور پروٹوکول کا عکاس تھا۔ تہواروں کے علاوہ عام طور پر بادشاہ اپنی بیویوں یا باندیوں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ تہواروں پر انہیں شرفا اور درباریوں کے ساتھ بیٹھنا ہوتا تھا۔ کھانے عام طور پر خواجہ سرا پیش کیا کرتے تھے لیکن کھانا ٹیبل تک پہنچانے کے لیے بھی ایک خاص چین آف کمانڈ کا خیال رکھا جاتا تھا۔

حکیم مینیو تیار کرتا تھا اور اس بات کا خیال رکھتا تھا کہ صحت کے فوائد کو ذہن میں رکھ کر مینیو ترتیب دی جائے۔ مثال کے طور پر پلاو کے لیے چال کے ہر دانہ کو ورق سے گزارا جاتا تھا جس سے نظام ہضم کو فائدہ پہنچتا تھا۔ ایک واقعہ میں بتایا گیا ہے کہ آصف خان مغل بادشاہ کے ایک وزیر تھے جنہوں نے مغل بینکوئیٹ کا نظام متعارف کروایا۔ اگرچہ کبھی کسی نے بادشاہ کو کسی کے ساتھ کھانا کھاتے نہیں دیکھا سوائے سیبستیان مینریقا جو کہ ایک پرگالی پریسٹ تھے۔ انہیں ایک خواجہ سرا نے سمگل کر کے حرم میں داخل کیا تھا تا کہ وہ شاہ جہاں کو آصف خان کے ساتھ کھانا کھاتا دیکھ سکیں۔

جب مینیو کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو کچن سٹاف ایکشن میں آ جاتا ہے۔ چونکہ ہر کھانے میں کئی ڈشز پیش کی جاتی تھیں تو ایک کچن ملازمین کی بڑی تعداد سبزیاں کاٹنے، صاف کرنے، دھونے اور گرائںڈ کرنے میں مشغول ہو جاتی ہے۔ کھانا بارش کے پانی اور کنوئیں سے لائے گئے پانی کو مکس کر کے بنایا جاتا تھا تا کہ کھانے کا ذائقہ بہتر ہو جائے۔ ںہ صرف کھانا پکانے بلکہ کھانا پیش کرنے کا طریقہ بھی بہت دلچسپ ہوتا تھا۔ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جا اور ان برتنوں میں شاندار قیمتی پتھروں اور موتیوں سے سجے ہوتے تھے کیونکہ اس سے زہر کو بھی ڈیٹیکٹ کیا جا سکتا تھا۔ کھانا فرش پر بیٹھ کر کھایا جاتا تھا۔ مہنگے قالینوں پر سفید شیٹیں بچھائی جاتی تھیں جنہیں دسترخوان کہا جاتا تھا۔ یہ معمول تھا کہ بادشاہ کھانے کا کچھ حصہ کھانا شروع کرنے سے قبل غریبوں کے لیے الگ کر لیتے تھے۔ بادشاہ اپنا کھانا شروع اور ختم دعاوں کے ساتھ کرتے تھے۔ کھانے کی دعوت گھنٹوں چلتی رہتی تھی کیونکہ شاہ جہان کو دستر خوان پر کھانے کھانا بہت اچھا لگتا تھا۔

وقت کےساتھ ساتھ کوکنگ سٹائل سے اکتاہٹ واضح ہونے لگی اور کچھ انڈین اجزا جیسے کہ کشمیری بادی، پودینہ، سہاگا، ٹینڈے، بتاشا اور کچھ فروٹ جن مٰں آم، فالسہ، کیلے وغیرہ شامل کیے جانے لگے تا کہ ڈش کو مختلف فلیور دیا جا سکے۔

ہر نئی ڈش کی آمد ایک تقریب کے ساتھ ہوتی تھی اور اس طرح کےواقعات کی نمائش تاریخ کا ہمیشہ حصہ رہے گی۔ ساتھ ہی مختلف فلیورز بھی اس وقت کے لٹریچر کا حصہ ہونے کی وجہ سے تاریخ میں ثبت ہو چکے ہیں جن میں نسخہ شاہ جہانی خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ نہ صرف بادشاہوں کے شاہی کچن بلکہ شہر کے بازار بھی مختلف قسم کے کباب کے دھوئیں سے نکھر جاتے تھے اور پورا ماحول نہاری، حلیم، قورمہ، اور قالیہ جیسے کھانوں کی خوشبو سے مہک اٹھتا تھا۔  روٹیوں کی مختلف اقسام بھی بہت دلچسپ تھیں۔ باقر خانی، کلچہ، شیر مال کے بغیر تہوار ادھورنے لگتے تھے۔ شربت کےکٹورے اور کلفی کے مٹکے موقع کو اور بھی خوشگوار بنا دیتے تھے۔ شاہ جہان کا شہر کھانوں کی جنت تھا جہاں لوکل اور غیر ملکی شیف اپنی صلاحیتوں کا جادو دکھاتے تھے۔

شاہانہ طریقے سے کھانے بنانے اور پیش کرنے کے طریقے شاہ جہان کے دور تک قائم رہے لیکن ان کے بیٹے اورنگزیب کو نمائش اور شاہ خرچیاں پسند نہیں تھیں۔ بد قسمتی سے اس بادشاہ کے آخری دو سال اچھے اور خوشحال نہیں تھے۔ اس کے بیٹے اورنگیزیب نے شاہ جہان کو آگرہ کے قلعہ میں قید کر دیا تھا جہاں یہ 8 سال تک 1666 میں اپنی موت تک قید رہے۔ کہا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے حکم جاری کیا تھا کہ اس کے والد کو اس کی پسند کا صرف ایک کھانا دیا جائے اور شاہ جہان نے چک پیز کا انتخاب کیا کیونکہ اس چیز کو مختلف انداز میں پکایا جا سکتا تھا۔ یہاں تک کہ آج بھی شاہ جہانی دال نارتھ انڈیا کی ایک خاص ڈش ہے جس میں چک پیز کو کریم کی گریوی کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔

قلیا خاصا دو پیازا

پیاز میں پکا دنبے کا گوشت، گرین گرام اور سبزی

اجزاء

دنبے کا گوشت، چھوٹے چھوٹے پیسز میں کاٹ لیں: ایک کلو

مونگ دال دھلی ہوئی اورآدھا گھنٹہ تک منٹ تک پانی میں گیلی: 60 گرام

گھی ایک کپ

پیاز ایک کپ

نمک حسب ذائقہ

دھنیا دانے دار کٹا ہوا چار چائے کے چمچ

ادرک کٹا ہوا چار چائے کے چمچ

چکوندر چھلا ہوا اور میڈیم سائز کے پیسز میں کٹا ہوا 3 کپ

شلجم چھلا ہوا اور میڈیم سائز میں کٹا ہوا 3 کپ

گاجر کیوب کی شکل میں کٹا ہوا 3 کپ

چاول کا پیسٹ 4 چائے کے چمچ

قیصر  2 گرام

مندرجہ ذیل کو گرائںڈ کر کے فائن پاوڈر میں تبدیل کیا جائے

دال چینی آدھا چائے کا چمچ

لونگ آدھا چائے کا چمچ

چھوٹی الائچی آدھا چمچ

کالی مرچ ایک چائے کا چمچ

طریقہ کار

1۔ 100 گرام گھی برتن میں گرم کریں پیاز کو گوشت کے ساتھ 2 چمچ پانی میں بھون لیں۔ اس میں نمک ڈالیں اور دھنیا کے اور ادرک ڈال دیں۔ اسے میڈیم آنچ پر پکائیں یہاں تک کہ گوشت نم ہو جائے۔

2۔ اس میں شلجم،چقوندر، گاجر اور دھنیا ڈال کر حسب ضرورت پانی ڈال دیں اور ہلکی آنچ پر سبزی کو پکائیں۔

3۔ جب سبزیاں اور گوشت دونوں چیزیں پک جائیں اور برتن میں صرف ایک کپ پانی رہ جائے تو برتن چولہے سے اتار لیں اور گوشت کے ٹکڑے سبزی سے الگ کر لیں۔

4۔ اب سٹاک کو باقی گھی میں مکس کریں۔ اس میں سبزی اور گوشت واپس ڈال دیں اور ایک ابالا دیں۔ اس میں چاول کا پیسٹ شامل کریں اور صحیح طریقے سے مکس کریں۔

5۔ اس میں مصالحہ اور مکسچر شامل کر دیں۔

6۔ اس کو سرونگ ڈش میں رکھیں اور سیفران کے ساتھ گارنش کر کے پیش کریں۔

نارنج پلاو

اورنج فلیور لیمب کڑی چاول کے ساتھ  6 سے 8 پلیٹ

اجزاء

چار مالٹے بڑے یا 6 چھوٹے

چاول چار کپ

دہی ایک کپ

لیمن 2 عدد

شوگر 2 کپ

قیصر ¼ چائے کا چمچ

گھی ایک کپ

نمک حسب ذائقہ

ڈرائی فروٹ حسب ضرورت

ہرا دھنیا کٹا ہوا حسب ضرورت

یخنی کے لیے

لیمب گوشت ایک کلو

گھی ایک کپ

پیاز کٹا ہوا ایک کپ

ادرک چار چائے کے چمچے

نمک حسب ذائقہ

دار چینی ایک انچ کی دو سٹکس

چھوٹی الائچی آدھا چائے کا چمچ

دھنیا دانے دار پسا ہوا 4 چائے کے چمچ

لونگ آدھا چمچ

1۔ مالٹے کو احتیاط سے چھیل لیں تا کہ اس کا چھلکا ٹوٹ نہ جائے۔ تریوں کو الگ الگ کرین اور ایک طرف رکھ دیں۔ چھلکے کے اندر نمک چھڑکیں اور ایک گھنٹے تک انہیں دہی میں ڈال کر چھوڑ دیں۔ دہی سے چھلکے نکالین اور ٹھنڈے پانی سے دھو ڈالیں۔ ایک منٹ تک اس چھلکے کو ابالیں۔ انہیں چولہے سے اتار کر ایک سائیڈ پر رکھ دیں۔
2۔ ایک دوسرے برتن میں پانی دالیں اس مین ایک لیمن کو نچوڑ لیں اور ایک بار پھر مالٹے کے چھلکے کو ابال لیں۔ اگر لیمن موجود نہ ہو تو پھر اسے پتلے دھی میں ابال لیں اور پھر اسے ٹھنڈا کر کے نرم کر لیں۔
3۔ گوشت کے ٹکڑوں اور باقی تمام اجزا کی یخنی بنائین۔ اس میں کچھ لونگ شامل کر لیں۔
4۔ چاول کو ہلکا سا پکائیں اور ایک سائیڈ پر رکھ دیں۔
5۔ چینی کا شربت تیار کر کے ایک طرف رکھ دیں۔
6۔مالٹے کی پھاڑی میں سے بیج نکال لیں اور ہر پھاڑی کو یخنی میں مکس کر دیں۔ ایک چمچ پکے ہوئے چاول لیں اور اس بھی قیصر میں مکس کریں۔ ہلکی آنچ پر پکائیں اور 5 منٹ کے لیے دم کریں اور پھر چوہلے سے ہٹا کر سائیڈ پررکھ دیں۔

7۔ ایک دوسرے فرائی پان میں یخنی ڈالیں اس میں تین چمچ سیرپ شامل کریں اور دم کریں۔ جب سیرپ جذب ہو جائے تو اس پر چاول پھیلا دیں اور کچھ مقدار گھی شامل کریں۔برتن ڈھانپ کر اسے دم پر رکھ دیں۔ پیش کرتے وقت پلاو کو ایک ڈش میں ڈالیں اور مالٹے کا چھلکا اس کےاوپر رکھ دیں۔ ایک چھلکے کو بادام کے حلوے سے بھر دیں اور دوسرے میں پستاکیو حلوا ڈال دیں۔  ایک اور چھلکے کو قیصر اور اورنج رائس  سے بھریں جب کہ چوتھے چھلکے میں نمک والا پسا ہوا گوشت ڈالیں۔ اس سارے مواد کو ڈرائی فروٹ اور کٹے دھنیا کے ساتھ سجا کر پیش کریں۔

آپ بادام کا حلوہ، پستاکیو حلوہ اور نمکین پسا ہوا گوشت گروسری سٹور سے خرید سکتے ہیں یا گھر پر بنا سکتے ہیں۔ فلنگ بھی آپ اپنی مرضی کے مطابق کر سکتے ہیں۔

گراک کباب

چکن اور گوشت کو ملا کر cinnamon bed پر ہلکا سا پکانا  ۔ مقدار  چار پلیٹ

اجزاء

صاف دھلا اور چھلا ہوا چکن 700 سے 800 گرام

پیاز کا جوس آدھا کپ

ادرک جوس ¼ کپ

نمک حسب ذائقہ
ویجیٹیبل آئل 3 چائے کے چمچ

لیمب پسا ہوا 400 گرام

پیاز کٹا ہوا میڈیم سائز  1 عدد
دھنیا دانے دار پسا ہوا ایک چائے کا چمچ

ادرک پسا ہوا ایک چمچ

قیصر دودھ میں ملا ڈیڑھ گرام

دہی پھینٹا ہوا ¼ کپ

دال چینی 8 سے 10 پیس
گھی آدھا کپ
اراڈ دال فلور آدھا کپ
مصالحہ
لونگ ایک چائے کا چمچ

الائچی ایک چمچ

ثابت کالی  مرچ ایک چمچ

طریقہ کار

1۔چکن پر چھوٹے چھوٹے سراخ نما نشان بنا دیں۔

2۔ چکن کو پیاز اور ادرک کے جوس اور نمک  لگا کر  30 منٹ کے لیے چھوڑ دیں ۔

3۔ برتن میں آئل گرم کریں اس میں  قیمہ ، پیاز ، درڑ کیا ہوا سوکھا دھنیا ،   کٹی ہوئی ادرک اور نمک ملاائیں ۔ اس کو پکاتے ہوئے ہلاتے  رہیں  یہاں تک کہ گوشت گل جائے۔

4۔ پکے ہوئے مکسچر  کو دم پر رکھ دیں۔

5۔ چکن کے اندر قیمہ بھر لیں اور دونون ٹانگوں کو ایسے باندھ دیں کہ چکن ہل نہ پا ئے۔

6۔ قیصر اور پسے ہوئے مصالحہ کو دہی میں مکس کریں۔

7۔ یہ مکسچر چکن پر لگا دیں۔

8۔ دارچینی کے  دانے برتن میں  بیچھا کر اس پر چکن رکھ دیں اور  ارد گرد گھی پھیلا دیں۔

9۔ کالے  جو کے آٹے  کو  زرہ سخت  گوندھ لیں۔ اب برتن بند کر کے اس کے گرد آٹا لگا کے سیل بند کر دیں۔

10۔ اب برتن کو  کوئیلوں کی لو پر رکھ دیں  اور 4 گھنٹے کے لئے دم لگا دیں۔

11۔ اب ڈھکن ہٹا کر مرغ نکالیں اور  اسے چار حصوں میں کاٹ لیں او مسالے کے ساتھ سے  پیش کریں۔

بقلوہ

پستاکیو سے گارنش کیے گئے سطحی سکوئیر

اجزاء

مصری دال ایک کپ

گھی ایک کپ

جنجر (ادرک) چار چائے کے چمچ

نمک 8 چمچ

گندم کا آٹا 4 کپ

کِڈ فیٹ 4 چائے کے چمچ

چینی 2 کپ

پستاکیو 8 چائے کے چمچے

دال چینی آدھا چمچ

لونگ آدھا چمچ

چھوٹی الائچی آدھا چمچ

طریقہ

1۔ دال کو ابال کر نرم کر لیں اور گرم اور خشک جگہ سے ہٹا دیں۔ تھوڑے سے گھی میں دال کو جنجر اور سالٹ کے ساتھ فرائی کر لیں۔ پھر اس قدر تعداد میں پانی ڈالیں کہ دال گل جائے لیکن یہ یقینی بنائیں کہ دال قیمہ نہ بن جائے اور اس کے دانے الگ الگ رہیں۔ اس کے اوپر مصالحہ پھیلائیں اور پھر مکسچر کو تھوڑا دھواں لگوائیں۔

2۔ آٹا گوندھ کر سخت کر لیں (گرمیوں میں ایک حصہ گھی اور دو حصے کِڈ فیٹ استعمال کریں جب کہ سردیوں میں دونوں اشیا برابر مقدار میں استعمال کریں۔)

3۔ گوندھے آٹے کو مختلف حصوں میں بانٹ لیں۔ ہر حصے کی پتلی پڑیا بنائیں اور اس پر گھی اور سوکھا آٹا لگائیں اور اس پر دال کا مادہ چھڑا کر اس پر دوسری پڑی رکھ دیں۔ یہ طریقہ 5 سے 7 منٹ تک جاری رکھیں۔

4۔ ان کو چار کونوں والے پیسز بنا کر کارنر پانی سے گیلے کر لیں۔

5۔ ایک برتن میں گھی کو گرم کریں اور ان چار کونوں والے پیسز کو ڈیپ فرائی کر لیں اور پھر ایک طرف ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیں۔

6۔ چینی کا شربت بنائیں اور پیسز اس میں گیلے کر لیں۔ جب سیرپ جذب ہو جائے تو اس پر پستاکیوز چھڑک دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *