وزیر اعظم کی کال کے15منٹ بعد…

28مئی کے ایٹمی دھماکوں کی پہلی سالگرہ پر کہوٹہ کے خالق ڈاکٹر قدیر خاں کا کہنا تھا: میری اور میرے ساتھیوں کی ساری محنت ‘ تمام جستجو اور عرق ریزی فسانہ بن سکتی تھی ؛اگر ہندوستانی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں وہ فیصلہ نہ کیا جاتا ‘جو نوازشریف نے کیا اور پاکستان ساتویں ایٹمی قوت بن کر ابھرا‘ جس طرح14اگست کو قیام پاکستان نے دنیا کا نقشہ بدل دیا‘28مئی نے طاقت کا توازن دوبارہ قائم کردیا تھا۔ ہندوستان جو 11مئی کے بعد آزاد کشمیر پر قبضے کی دھمکیاں دینے لگا تھا‘ اس کا لب ولہجہ بدل گیا۔ بھارتی وزیر اعظم واجپائی‘ بس پر لاہور آئے اورمینار پاکستان پر مہمانوں کی کتاب میں پاکستان کو ایک حقیقت لکھا۔ ''اعلان ِلاہور ‘‘میں مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا تھا۔سعودی شہزادہ سلطان عبدالعزیز نے مہمانوں کی کتاب میں لکھا: یہ پاکستان ہی کی نہیں ‘ عالم اسلام کی عزت وتوقیر کی علامتیں ہیں۔
پرانی فائلوں میں سابق وزیر خارجہ آغا شاہی( مرحوم) سے اپنے طویل انٹرویو پرنظر پڑی۔ کچھ حصہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے متعلق بھی تھا۔آغاشاہی کہہ رہے تھے :بھٹو دور میں فرانس سے اٹامک ری پراسیسنگ پلانٹ کا سودا ہوا تو امریکہ نے اس کی بھی شدید مخالفت کی ۔ بھٹو صاحب نے 1976ء میں نہایت اعلیٰ سطحی میٹنگ بلائی‘ جس میں جنرل ضیا الحق ‘ائیر مارشل ذوالفقار اورغلام اسحاق خان شریک تھے۔ بھٹو صاحب نے ہنری کسنجر کی اس پیش کش کے متعلق بتایا کہ پاکستان ری پراسیسنگ پلانٹ کی خریداری ترک کردے ‘تو امریکہ ایک سو جنگی طیارے دینے پر آمادہ ہے۔ جنرل ضیا الحق سمیت سب نے امریکی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ خریدنے پر زور دیا۔
س:یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہنری کسنجر نے بھٹو کو ''خوف ناک مثال‘‘ بنا دینے کی دھمکی دی تھی؟ 
ج:یہ بات میرے علم میں نہیں... پاکستان اس سودے پر قائم رہا اور امریکہ نے پاکستان پر اقتصادی اور دفاعی پابندیاں لگا دیں۔ جولائی1977ء میں مارشل لاء کے چند روز بعد امریکی پھر سرگرم ہوگئے۔ امریکی سفیر نے ضیا الحق سے ملاقات میں ری پراسیسنگ پلانٹ کا سودا منسوخ کرنے پر اصرار کیا تو ان کا جواب تھا : ہم تو90دن کے لیے آئے ہیں‘ اتنا اہم فیصلہ جس پرپوری قوم کا اتفاق رائے ہے‘ کیسے بدل سکتے ہیں؟ اس پر امریکہ نے پابندیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ بالآخر امریکہ کے مسلسل دبائو پر خود فرانس نے یہ سودا منسوخ کردیا ۔امریکہ نے سُکھ کا سانس لیا اور پاکستان پر پابندیاں ختم کردیں۔1979ئکے آغاز میں امریکیوں کو احساس ہوا کہ پاکستان کہوٹہ میں''کچھ‘‘ کررہا ہے؛ چنانچہ دوبارہ پابندیاں لگ گئیں (تب کارٹر امریکہ کے صدر تھے) میں ضیا الحق کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے واشنگٹن گیا۔ صاحبزادہ یعقوب خان‘ جنرل جیلانی اور جنرل کے ایم عارف بھی ہمراہ تھے۔ مذاکرات میں سائرس وانس‘ برزنسکی اور وارن کرسٹوفر جیسی اہم ترین شخصیات کے علاوہ پینٹا گان کے اہم لوگ بھی شریک تھے۔ ان کے اصرار پر کہ پاکستان نیو کلیئر پروگرام سے دستبردار ہو کر این پی ٹی پر دستخط کردے‘ ہمارا جواب تھا کہ انڈیا‘ برازیل‘ اسرائیل ‘ ارجنٹائن اور سائوتھ افریقہ ایٹمی قوت بننے کے قریب ہیں‘ آپ ادھر کیوں توجہ نہیں دیتے؟ جب تک انڈیا دستخط نہیں کرے گا‘ ہم بھی نہیں کریں گے۔ امریکیوں نے کہوٹہ کے بین الاقوامی معائنے کی بات کی‘ ہم نے یک طرفہ طور پر اسے بھی قبول کرنے سے معذرت کرلی۔ اب ان کا اصرار تھا کہ ہم افزودہ (Enriched) یورینیم کسی اور ملک کو منتقل نہ کرنے کی ضمانت دیں‘ ہم نے اس پر آمادگی کا اظہار کردیا۔ اب ان کا مطا لبہ تھا کہ ہم دھماکہ نہ کرنے کا وعدہ کریں‘ ہمارا جواب تھایہ بات قبل از وقت ہے۔ ہمارا ایٹمی پروگرام پرُ امن مقاصد کے لیے ہے۔ ابھی ہم نے دھماکے کی صلاحیت حاصل نہیں کی‘ جب حاصل کرلی تو غور کریں گے۔ امریکیوں کا کہنا تھا کہ ہم مبہم بات کرنے کی بجائے واضح بات کریں ۔ہم نے کہا کہ یہ ساری ٹیکنالوجی ہی مبہم ہے‘ اسے پرُ امن مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور جنگی مقاصد کے لیے بھی۔ اس کے بعد سائرس وانس مجھے ایک کمرے میں لے گئے جہاں گیراڈ سمیتھ موجود تھے۔ یہ وہ صاحب تھے جنہوں نے1972ء میں روس کے ساتھ تحدید اسلحہ کے معاہدے(سالٹ1) اور ایٹمی بیلسٹک میزائل معاہدے کے دوران امریکی وفد کی قیادت کی تھی۔ گیراڈ سمتھ نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا: یہ آپ کیا کررہے ہیں؟ کیا آپ کو احساس ہے کہ آپ موت کی وادی میں داخل ہورہے ہیں؟ آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے آپ کی سلامتی محفوظ ہوجائے گی حالا نکہ انڈیا اس میں آپ سے بہت آگے ہیں اور وہ آپ کو نیست ونابود کرسکتا ہے۔ میں نے کہا: ضروری تو نہیں کہ حریف ملکوں کے پاس برابر کی ایٹمی صلاحیت ہو۔ اس صلا حیت کے اپنے سیاسی ‘ سفارتی اور نفسیاتی اثرات ومضمرات بھی ہوتے ہیں۔ 1962ء میں جب خروشیف نے کیوبا میں میزائل لگا دیئے تھے‘ سوویت یونین کے پاس صرف ایک سو سے تین سو تک نیو کلیئر وارہیڈز تھے‘جبکہ امریکہ کے پاس تین ہزار سے زائد تھے۔ اس کے باوجود صدر کینیڈی نے خروشیف کو کوئی الٹی میٹم نہیں دیا تھا۔ یہ بحران مذاکرات کے ذریعے حل ہوا اور طے پایا کہ امریکہ کیوبا پر حملہ نہیں کرے گا اورترکی میں نصب اپنے میزائل ہٹالے گا۔افغانستان میں روسی آمد کے بعد سارا منظر بدل گیا۔ اب امریکیوں کی ترجیح اوّل افغانستان میں روسی پسپائی تھی جس سے فائدہ اٹھا کر پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام مکمل کرلیا۔ 
گیارہ مئی کے ہندوستانی دھماکوں کے وقت وزیر اعظم نوازشریف ''ایکو‘‘ سمٹ کے لیے قازقستان میں تھے۔ ایک رائے یہ تھی کہ وزیر اعظم کو فوراً وطن واپسی کی راہ لینی چاہیے لیکن وزیر اعظم کا موقف تھا کہ اس سے یہ تاثر جائے گا کہ پاکستان دبائو میں آگیا ہے۔ وہ دنیا کو پاکستان کے مضبوط اعصاب کا تاثر دینا چاہتے تھے؛ چنانچہ شیڈول کے مطابق14مئی کو واپس آئے۔ آتے ہی وفاقی کابینہ کا غیر معمولی اجلاس ہوا ۔ حفاظتی عملے کو ہدایت کی گئی کہ کانفرنس روم کے نزدیک کسی کو نہ آنے دیا جائے۔ چائے اور خورد ونوش کا سامان لانے والوں کو بھی منع کردیا گیا۔ شرکا سے قرآن مجید پر حلف لیا گیا کہ اجلاس کی ہر بات ان کے سینوں میں دفن رہے گی۔ البتہ وزیر اعظم اس سے مستثنیٰ رہے کہ وقت آنے پر انہیں قوم کو ہر بات بتانی تھی۔ اصولی فیصلہ یہی تھا کہ پاکستان جوابی دھماکے ضرور کرے گا‘ مگر کب اس کا جواب وزیر اعظم کے سوا کسی کے پاس نہیں تھا۔ وزیر اعظم نوازشریف کا موقف تھا: پاکستان پر دبائو ڈالنے والے ہندوستان کو کیوں نہ روک سکے اور اب اس بات پر سارا مغرب متفق کیوں نہیں کہ ہندوستان کو 11مئی کے دھماکوں کی سزا دی جائے۔ اب ہندوبم بھی بن گیا ہے اور یوں دنیا میں موجود تمام تہذیبیں ایٹمی قوت بن گئی ہیں۔ صرف مسلم تہذیب کو ایٹمی کلب سے باہررکھنے کی تگ ودو کیوں کی جارہی ہے؟ 
21مئی کو سائنسدانوں کو ''چاغی‘‘ روانہ کردیا گیا۔ دھماکوں کے بعد چاغی جانے والے صحافتی وفد میں ہم بھی شامل تھے۔ ایک سائنسدان نے بتایا: 26مئی کی شام تک ہم تیاریاں مکمل کرچکے تھے۔''آملیٹ تیار ہے‘‘ خفیہ کوڈ تھا۔ تھوڑی دیر بعد ریت کے زبردست طوفان نے آلیا۔ یہاں طوفان ہفتوں ایک ہی رخ پر جاری رہتے ہیں۔ پرائم منسٹر ہائوس سے تھوڑے تھوڑے وقفے سے فون آرہے تھے۔ بار گاہِ الٰہی میں ہماری دعائیں قبول ہوگئیں اور 27مئی کو نصف شب کے قریب طوفان کا رخ بدلنے لگا۔ ایک بجے اسلام آباد کو''آل اوکے‘‘ کی رپورٹ دے دی گئی ۔ ڈاکٹر قدیر اور ڈاکٹر اشفاق بھی اس عظیم تاریخی لمحے کویادگار بنانے کے لیے پہنچ گئے تھے۔ کنٹرول روم میں ڈاکٹر قدیر‘ ڈاکٹر اشفاق‘ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دوسرے سینئر سائنسدانوں نے اپنی اپنی پوزیشن سنبھال لی۔ تین بج کر ایک منٹ پر وزیر اعظم کی کال موصول ہوئی۔ تین بج کر دس منٹ پر آخری بار سب چیزیں ٹیسٹ کی گئیں۔ ڈاکٹر ثمر نے قرآنی آیات کی تلاوت شروع کی اور تین بج کر سولہ منٹ پر اس سائنسدان نے جس کے پاس دھماکے کے الیکٹرانک نظام کی ذمہ داری تھی‘ اللہ اکبر کی صدا کے ساتھ بٹن دبا دیا۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *