ابھی تو گرم ہے مٹی اور جسم تازہ ہے

میرے مرحوم والد گرامی اکثر کہاکرتے تھے کہ ”پتر رب کسے نوں اوہدی اولاد دا دکھ نہ وکھائے“تو میں نے سوچنا کہ یہ ایسی بات کیوں کہتے ہیں۔ ساری زندگی خود کو دھوپ کی تلخیوں میں رکھ کر مجھے چھاؤں میں رکھنے والے والد کے احسانات کا بدلہ بھلا کیسے چکایاجاسکتا ہے۔ گزشہ دنوں برادرم عادل سلطان بٹ کے قریبی عزیز محمد حمزہ بٹ اور اسکے دوست اسامہ قمرزمان کی جوان موت نے دل کو ہلا کر رکھ دیا۔محمد حمزہ بٹ جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ کے بیٹے اور اپنے ”جگری دوست“ اسامہ قمرزمان کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا روڈحادثے میں جاں بحق ہوا تھا۔ اس حادثے نے بلاشبہ پورے پاکستان کو سوگوار کردیا۔ ہر طرف سے دونوں نوجوانوں کی اچانک موت پر لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ محمد حمزہ بٹ کی نماز جنازہ اپنے دوست اسامہ قمرزمان کے ساتھ ہی ادا کی گئی۔لیکن کسی قریبی عزیز کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے ہفتے کے روز تدفین نہ ہوئی، جس کو اتوار کے روز لالہ موسیٰ کے نواحی گاؤں میں سپرد خاک کیا گیا۔محمد حمزہ بٹ کی اسامہ قمرزمان سے محبت کا ایک انداز یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ جمعتہ المبارک کو دونوں دوست اکٹھے اس دنیا فانی سے کوچ کرگئے اور پھر ہفتہ کے روز دونوں کا اکٹھے ہی جنازہ ہوا۔جبکہ محمد حمزہ بٹ کی نمازہ جنازہ دومرتبہ ادا کی گئی۔۔۔ لاہور سے مجھے بھی اپنے عزیز دوستوں عادل سلطان بٹ، محمد رضوان بٹ اور محمد زاہد اکرم کے ہمراہ محمد حمزہ بٹ کی نماز جنازہ اور تدفین کیلئے لالہ موسیٰ جانا پڑا۔لالہ موسیٰ کے نواحی گاؤں ”قاضیاں امام شاہ“ میں محمد حمزہ بٹ کے گھر پر صف ماتم بچھی ہوئی تھی۔یعنی ان دونوں نوجوانوں کی اس حادثاتی موت پر لالہ موسیٰ سمیت قریبی علاقوں میں بھی سوگ کا سماں تھا۔مرحوم حمزہ بٹ کے جوان بھائیوں کی حالت دیکھی نہیں جارہی تھی۔جبکہ تدفین کے وقت محمد حمزہ بٹ کے والدسعید امجدزاروقطار روتے ہوئے خودتیز دھوپ میں کھڑے اپنے بیٹے کی لاش اور لحد کو چھاؤں دے رہے تھے، اس دوران ہر آنکھ اشکبار تھی۔جس باپ نے بیرون ملک محنت مشقت کرکے اپنے بیٹے کو جوان کیا اور پھر اپنے بڑھاپے کے سہارے کو پلتا بڑھتا دیکھ کر کچھ خواب بھی دیکھے ہونگے جن کے پورا ہونے کے وقت کاان کو شدت سے انتظار بھی ہوگا۔ پھر اچانک اسی جوان بیٹے کے جاں بحق ہونے کی خبر آجائے۔ کس قدر تکلیف دہ لمحات ہیں جن کو اسامہ قمرزمان اورمحمد حمزہ بٹ کے والدین نے برداشت کیا۔

بحیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ موت کا ایک دن مقررہے اور اس فانی دنیا سے سب نے ہی چلے جانا ہے۔باقی رہنے والی ذات صرف اللہ رب العزت کی ہی ہے۔رمضان المبارک میں روزے سے دونوں دوستوں کی محبت اللہ رب العزت کو بھی کس قدر پسند آئی۔۔۔نماز عصر کی ادائیگی کے بعد محمد حمزہ بٹ کے والدسعید امجد مسجد سے گھر پہنچے تو دروازے پر دو آدمی موجود تھے۔ جن سے دریافت کرنے پرمعلوم ہوا کہ ایک نوجوان روڈ حادثے میں جاں بحق ہو گیا ہے مگر وہ حمزہ کا نام نہیں لے رہے تھے کسی اور نام کا بتا رہے تھے جس پرحمزہ کے والدسعید امجد نے کہاکہ ہمارے بیٹے کا نام تو یہ نہیں اس کا نام تو محمد حمزہ بٹ ہے۔۔۔انہوں نے کہاکہ آپ خود چل کر دیکھ لیں، جب جاکر دیکھا تو وہ انہی کا بیٹا تھا محمد حمزہ بٹ۔۔۔جس پر لالہ موسیٰ اور قریبی علاقوں میں کہرام برپا ہوا۔ سوشل میڈیا پر ان کی تصویریں اور حادثے کی ویڈیوز بہت تیزی سے وائرل ہوئیں۔۔۔لالہ موسیٰ کے نواحی گاؤں ”قاضیاں امام شاہ“ میں محمد حمزہ بٹ کی نماز جنازہ اور تدفین کے بعد میری ملاقات محمد حمزہ بٹ کے ایک کزن سے ہوئی، جس نے بتایا کہ حمزہ کا ایک دوست بتا رہاتھا کہ جس وقت حمزہ اور اسامہ گاڑی میں سوار تھے تو حادثے سے چند منٹ پہلے ان سے فون پر بات ہوئی۔ اس دوست نے حمزہ سے پوچھا کہ تم کہاں ہو۔۔۔حمزہ نے کہاکہ میں ”میں جنت میں ہوں“۔۔۔دوست نے دوبارہ کہاکہ حمزہ مذاق نہیں کرو۔۔۔ بتاؤ آپ لوگ اس وقت کہاں ہو۔۔۔تو حمزہ نے پھر وہی جواب دیا کہ ہم۔۔۔ہم جنت میں ہیں۔انہیں باتوں پر دوست حمزہ سے اصرار کرتا رہا کہ کہاں ہو اور وہ یہی جواب دیتے رہا ہے۔پھر چند منٹ بعد ہی یہ حادثے رونما ہو گیا۔ یقینا محمد حمزہ بٹ اور اسامہ قمرزمان دونوں ہی جنت میں ہونگے، رمضان المبارک کی پرنورساعتوں میں روزے کی حالت میں اللہ کے حضور پیش ہونا بلاشبہ جنتی ہونے کا عملی ثبوت ہے۔بعد ازاں محمد حمزہ بٹ کے چچا نے بتایا کہ انہوں نے کئی دفعہ حمزہ سے بات کی کہ بیٹا اسامہ قمرزماں بڑے لوگوں کا بیٹا ہے ہمارا یہ اسٹیٹس نہیں کہ ہماری دوستی اتنے بڑے لوگوں سے ہو۔لیکن اسامہ قمرزمان اور حمزہ دونوں ہی ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہتے تھے۔دونوں کو آپس میں بہت محبت تھی۔جب بھی موقع ملتا فوری ایک دوسرے سے ملنے کی جستجو میں رہتے۔محمد حمزہ بٹ لالہ موسیٰ کے قریبی کالج میں آئی سی ایس کررہاتھا جبکہ اسامہ قمرزمان لاہورکالج میں زیر تعلیم تھا۔ محمد حمزہ بٹ تین بھائیوں اور اکلوتی بہن کا سب سے لاڈلا اوران سب میں چھوٹا تھا۔

اس ساری صورتحال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر مجھے اپنے والد گرامی کی بات کا جواب مل ہی گیا۔ یقینا بہت مشکل ہوتا ہے بوڑھے باپ کیلئے اپنے جوان بیٹے کا جنازہ اٹھانا۔۔۔ ہم بھی کتنے بے حس ہوچکے ہیں۔جب چوٹ لگتی ہے تو پھر ہی درد محسوس کرتے ہیں لیکن آج کے اس دور میں کسی کا درد بانٹنے کاوقت بھی نہیں رہا۔ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔ایک ”ریس“لگی ہوئی ہے پراسائش زندگی کی۔۔۔پیسے کی۔۔۔شہرت کی۔۔۔ اسی ”ریس“نے ہمیں اس دلدل میں دھکیل دیاہے جہاں ہم اپنے خالق و مالک کو بھی بھول بیٹھے ہیں۔ اور پھر جہاں ہم اپنے خالق و مالک کو ہی بھول چکے ہیں تو پھر باقی معاملات تو ویسے ہی بے معنی ہوجاتے ہیں۔پھر کیسے ہم کسی کے دکھ کا اندازہ یا مداوا کرسکتے ہیں۔۔۔اور کیسے کسی دوسرے کے درد کو بھانپ سکتے ہیں۔۔۔کیسے کسی دوسرے کے درد کو بانٹ سکتے ہیں۔۔۔مگر موت ایک حقیقت ہے جو آ کے رہیگی، لیکن کیا ہم نے اس دنیا داری کی ”ریس“کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھی تیاری کی ہے یانہیں۔۔۔اس کے لئے ہمیں عملی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔باقی لالہ موسیٰ کی تاریخ میں اسامہ قمر زمان اور محمد حمزہ بٹ کے سب سے بڑے جنازے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسامہ قمرزمان اور محمد حمزہ بٹ مرحوم اللہ رب العزت کی رحمت کے کس قدر حقدار ٹھہرے، لالہ موسیٰ میں اس قدر بڑا جنازہ کسی کا نہیں ہوا جس قدر ان دونوں دوستوں کا ہوا۔ایسا لگ رہاتھا کہ جیسے ہر طرف سے ان دونوں سے محبت کرنیوالے لوگ امڈآئے ہیں۔۔۔ آخر میں محترم قمرزمان کائرہ اور محترم سعید امجد کے حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت اسامہ قمرزمان اور محمد حمزہ بٹ کو جنت الفردوس میں عظیم مقام عطافرمائے اور دونوں خاندانوں کو صبر جمیل عطا
فرمائے۔اللہ رب العزت والدین کو اسکی اولاد کا دکھ نہ دکھائے۔۔۔آمین

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *