اعلیٰ تعلیم۔۔۔۔مسئلہ معیار اور مقدار کا۔۔۔!

معیار تعلیم کا معاملہ بے حد اہم بھی ہے اور توجہ طلب بھی۔ آئے روز کوئی نہ کوئی قصہ سننے کو ملتا رہتا ہے۔ چند دن پہلے یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے جامعہ پنجاب کے ایم۔فل اور پی۔ایچ۔ڈی کے درجنوں پروگرام بند کر دئیے ہیں۔ جامعہ کو ان شعبہ جات میں مزید داخلوں سے روک دیا گیاہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا تعلیم کی بہتری کے حوالے سے ایک متعین کردار ہے۔ کمیشن، پولیس کی کوئی چھاپہ مار ٹیم نہیں ہے۔ نہ ہی کوئی فوڈ اتھارٹی کہ فوری طور پر مضر صحت کھانے کی دکانیں بند کرتی پھرے۔ کمیشن میں ملک بھر کے چنیدہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد براجمان ہیں۔ ایک طرف تو کمیشن نئے تعلیمی ادارے بنانے اور جامعات میں نئے شعبہ جات متعارف کروانے پر زور دیتا ہے۔ دوسری طرف یکایک درجنوں پروگراموں کی فوری بندش؟۔سو اس خبر پر تشویش لازم تھی۔ تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ خبر جزوی طور پر درست سہی۔ حقائق مگر مختلف ہیں۔
پہلی بات یہ کہ پنجاب یونیورسٹی کے علاوہ، کچھ دیگر جامعات کے حوالے سے بھی کمیٹی نے اپنی رپورٹ دی ہے۔ تاہم صحافتی توجہ کا مرکز فقط جامعہ پنجاب ٹھہری۔ ایچ۔ای۔سی حکام سے بات ہوئی۔ کہنا ان کا یہ تھا کہ جائزہ رپورٹ ہرگز کوئی حکمنامہ نہیں ہے۔ نہ ہی ہدایت نامہ۔ یہ محض مشاہدات (observations) ہیں۔ پتہ یہ چلا کہ کمیشن باقاعدگی سے ایسی رپورٹیں مختلف جامعات کو بھیجتا رہتا ہے۔ متعلقہ یونیورسٹی کا استحقاق ہے کہ وہ رپورٹ کے مندرجات سے اتفاق کرئے۔ ان پر تنقید کرئے۔ یا انہیں مسترد کر دے۔ یونیورسٹی کے جواب کے بعد (اور اسکی روشنی میں) کمیشن کوئی فیصلہ کرتا ہے۔لہذا اس ابتدائی رپورٹ سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کر لینا قطعا درست نہیں۔
اس ضمن میں جامعہ پنجاب کے وائس چانسلرڈاکٹر نیاز احمد کا موقف یہ ہے کہ وہ خود احتسابی پر یقین رکھتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد جو معاملات انکی اولین ترجیح ٹھہرے، ان میں سے ایک معیار تعلیم ہے۔ تمام شعبہ جات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ صورتحال اصلاح احوال کی متقاضی ہے۔ لہذا فوری طور پر فیصلہ کیا گیا کہ جامعہ میں مزید داخلے روک دئیے جائیں۔ صرف ان شعبوں میں نہیں، جن کا ذکر کمیشن کی رپورٹ میں ملتا ہے۔ بلکہ تمام شعبہ جات میں۔ بلاشبہ مالی لحاظ سے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔ تاہم2018 کے آخر تک، اس پر عمل درآمد ہو چکا تھا۔ چنانچہ نہ تو داخلوں کے لئے اخبارات میں اشتہارات شائع ہوئے اور نہ ہی (جنوری2019 میں)نئے داخلے کیے گئے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جائزہ ٹیم نے 2019 میں یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ اور اس دورے کے کم و بیش دو ماہ بعد اپنی مرتب کردہ رپورٹ وائس چانسلر صاحبان کو بھجوائی۔
جہاں تک معیار تعلیم کا تعلق ہے، اس میں راتوں رات بہتری لانا ممکن نہیں۔ اسکے لئے مستقل اور مسلسل جدوجہد درکار ہے۔ بہت سے دیگر عوامل اس معاملے سے جڑے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر جائزہ ٹیم نے رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی نے کچھ ایسے ایم۔فل اور پی۔ایچ۔ڈی پروگرام شروع کر رکھے ہیں، جن کو پی۔ایچ۔ڈی اساتذہ کی مطلوب تعداد میسر نہیں۔ رپورٹ میں طلباء اور اساتذہ کے تناسب(student-teacher ratio) کا بھی تذکرہ ہے۔ یہ دونوں باتیں درست ہیں۔تاہم اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ 2017 کے آغاز میں کم وبیش چالیس سینئر پروفیسر صاحبان کو بیک جنبش قلم یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ ان اساتذہ کی خدمات جامعہ نے انکی ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹرکٹ پر حاصل کر رکھی تھیں۔ (دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے)۔ ان میں سے کچھ تو شعبہ تعلیم کی نامور شخصیات تھیں۔ 2018 میں بھی پنجاب ہائر ایجوکیشن دیپارٹمنٹ کے ہدایت نامہ کی روشنی میں اڑھائی سو سے زائد کنٹرکٹ اساتذہ کوفارغ کر دیا گیا۔ ان اساتذہ میں تقریبا 70 پی۔ایچ۔ڈی ڈگری ہولڈر تھے۔ لہذا ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ٹیم نے بجا طور پر مطلوبہ تعداد میں پی۔ایچ۔ڈی اساتذہ نہ ہونے کی نشاندہی کی ہے۔ مگر اسکی ذمہ داری حکومتی پالیسیوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ تاہم بلاشبہ ان عوامل سے ہٹ کر بھی بہت سے معاملات میں بہتری لانے کی گنجائش موجود ہے۔

تعلیمی بجٹ کا معاملہ بھی معیار تعلیم سے جڑا ہوتا ہے۔ اگرچہ میرا ماننا ہے کہ کمرہ جماعت میں استاد کی کارکردگی (جو براہ راست معیار تعلیم سے جڑی ہے) کا تعلیمی بجٹ سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ جو استاد محنت سے لیکچر کی تیاری کرتا ہے۔ وہ معیاری لیکچر دیتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ استاد اور اسکی کارکردگی کو حکومتی پالیسیوں کیساتھ ساتھ ملک کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر استاد کی تنخواہ کم ہو گی اور ملک میں مہنگائی ذیادہ۔ تو لامحالہ وہ اضافی لیکچرز تلاش کرتا پھرے گا۔ اپنے ادارے میں بھی اور دیگر تعلیمی اداروں میں بھی۔ کام کے اضا فی بوجھ کے باعث اسکی کلاس روم پرفارمنس یقینا متاثر ہو گی۔اسی طرح جب اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے یونیورسٹیاں اندھا دھند داخلے کریں گی۔ اور استاد کو ایک وقت میں ستر، اسی، طالب علموں پر مشتمل جماعت (بلکہ ریوڑ) کو پڑھانا پڑے گا۔ تب وہ طالب علموں کو انفرادی طور پر کتنی توجہ دے سکے گا؟ بالکل اسی طرح جب یونیورسٹی استاد کی ترقی کو(اور اسکے علمی رتبے کو)تھوک کے حساب سے تحقیقی مضامین لکھنے اور مقالہ جات کی نگرانی سے جوڑ دیا جائے گا، تب وہ کلاس روم سے ذیادہ انہی کاموں پر توجہ دے گا، جن سے اسکا ذاتی مفاد وابستہ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد اس صورتحال کے حوالے سے فکرمند تھے۔ وہ تدریسی اور تحقیقی رحجان کیمطابق اساتذہ کی الگ الگ درجہ بندی کے حوالے سے کچھ منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ معلوم نہیں کہ اب یہ معاملہ کہیں زیر غور ہے بھی یا نہیں۔نہایت ضروری ہے کہ استاد کی تدریسی، تحقیقی اور انتظامی ذمہ داریوں میں توازن لایا جائے۔
اگرہم تعلیمی درسگاہوں اور استاد کو وہ عزت و وقار دینے لگیں، جسکے وہ مستحق ہیں، تو انکی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ یہ کیا کہ نیب کسی بھی استاد کو کان سے پکڑ کر دھر لے اور کوئی شنوائی نہ ہو (ڈاکٹر اکرم چوہدری کا معاملہ ہمارے سامنے ہے)۔ میڈیا بھی ذرا سی لغزش پر تعلیمی اداروں کو لتاڑنے لگے۔ دیگرمتعلقہ ادارے اور حکام بھی جامعات کو کٹہرے میں کھڑا کیے رکھیں۔تاہم یہ خصوصی سلوک صرف سرکاری اداروں کیساتھ خاص ہے۔ نجی ادارے عام طور پر جوابدہی سے مستثنی ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں جعلی میڈیکل کالج، غیر قانونی لاء کالج، اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے بلیک لسٹ کئے گئے تعلیمی ادارے کھلے عام کام کرتے ہیں۔ دھڑلے (بلکہ ڈھٹائی) سے اخبارات میں اشتہارات دیتے ہیں۔ کسی کی مجال نہیں کہ ان اداروں کا نام لے کر کوئی خبر چھاپ دی جائے۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ وزیر، مشیر اور گورنر صاحبان(صوبے کی جامعات کے چانسلر) ان تعلیمی اداروں کے کانووکیشن اور دیگر تقریبات میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ آج تک کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ پوچھا جائے کہ ایک غیر قانونی تعلیمی ادارے میں اعلیٰ حکومتی عہدے دار کے جانے کا کیا جواز ہے؟۔
ایچ۔ای۔سی سے درخواست ہے کہ اپنا رخ نجی تعلیمی اداروں کی طرف بھی مرکوزکرئے۔ بہت سے نجی تعلیمی ادارے ڈگری بیچنے والی دکانوں کے طور پر مشہورہیں۔ تاہم اس گرفت کا مقصد کسی ادارے یا شعبہ کو بند کروانا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر student-teacher ratio قواعد کے مطابق نہیں ہے، تو داخلے روک کرطالب علموں کی تعداد کو کم کرنے کے بجائے، اساتذہ کی تعداد بڑھانی چاہیے۔ کسی شعبہ میں اگر مطلوبہ تعداد میں پی۔ایچ۔ڈی اساتذہ موجود نہیں، تووہ شعبہ بند کرنے کے بجائے،مزید استاد بھرتی کرنے چاہییں۔ کسی تعلیمی ادارے کا معیار تعلیم ناقص ہے تو اس کا معیار بہتر کرنے کیلئے ضروری اقدامات اٹھانے چاہییں۔دراصل معیار تعلیم میں بہتری کا معاملہ توجہ بھی مانگتا ہے اور وسائل بھی۔ حکومت، ہائر ایجوکیشن کمیشن،جامعات کے سربراہان اور اساتذہ کو مل کر معیار تعلیم میں بہتری کا بیڑا اٹھانا ہو گا۔ تب ہی اصلاح کی کوئی صورت نظر آئے گی۔ ورنہ ڈھلوان کا یہ سفر جاری رہے گا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *