چیئر مین نیب اور صحافتی اخلاقیات


نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

چیئر مین نیب اور صحافتی اخلاقیات

خامہ بدست کے قلم سے
”فتنہ پرور“ ہارون الرشید صاحب کے تازہ کالم کا عنوان ہے (موصوف آج کل روزنامہ 92نیوز میں اپنا ”ناتمام“لکھتے ہیں)”جسٹس جاوید اقبال بظاہر عدم احتیاط کے شکار ہوئے۔ قانون کی رو سے کیا وہ جرم کے مرتکب بھی ہوئے؟“ ظاہر ہے، موضوع وہ آڈیو، ویڈیو ہے جس میں نیب چیئر مین ایک خاتون کے ساتھ بے تکلفانہ طرِ ز عمل کا مظاہرہ کررہے ہیں۔”قانون کی رو سے وہ کسی ”جرم“ کے مرتکب نہ بھی ہوئے ہوں، لیکن ایک چیز”اخلاقیات“ نامی بھی ہوتی ہے۔ مشرقی(اور اسلامی اخلاقیات) ایک طرف، کیا آزاد خیال مغرب کی اخلاقیات بھی کسی اعلیٰ ریاستی منصب پر فا ئز شخص کو، اپنے سرکاری دفتر میں اس بے تکلفی کی اجازت دیتی ہیں؟خالص قانون ہی نہیں منصب کے اخلاقی تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ ”قرآن کریم، سنت رسولﷺ یعنی شریعت یا قانون کے کسی انصاف پسند عالم سے پوچھا جائے تو اغلباً وہ یہی کہے گا کہ مقدمہ اس آدمی پر نہیں چلایا جاسکتا، کوئی سزا نہیں دی جاسکتی“ یہاں آپ خود مفتی وقاضی بھی بن بیٹھے اور فیصلہ/فتویٰ صادر فرمایا کہ قرآن وسنت کی رُو سے کسی غیر محرم خاتون کے ساتھ اس ”بے تکلفی“ پر مقدمہ چل سکتا ہے، یا نہیں؟ کوئی سزا دی جاسکتی ہے، یا نہیں؟ لیکن اصل مسئلہ تو وہی ”اخلاقی“ ہے۔ پچاس برس صحافت میں گزارنے والے اس طالب علم کی رائے میں کوئی ایسی چیز کبھی شائع نہیں ہونی چاہیے جس سے معاشرے میں فتوراور فساد پیدا ہو۔ حیرت ہے کہ یہ لکھا کیسے گیا اور حیرت ہے کہ چھپ کیسے گیا؟ بلا شبہ آزادیئ اظہار کے علمبردار مغرب میں بھی میڈیا پر کسی ایسی چیز کے نشر واشاعت کی اجازت نہیں جو معاشرے میں فتور اور فساد کا باعث ہو۔ لیکن وہاں بھی صدر نکسن کے خلاف واٹر گیٹ سکینڈل اور صدر کلنٹن کے خلاف لیونسکی کیس میڈیا ہی کے ذریعے منظر عام پر آتا ہے۔ اس سے معاشرے میں فتنہ اور فساد پیدا نہیں ہوتا۔اپنی حدود سے تجاوز کرنے والے کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مدد ملتی ہے اور اصل سوال یہ کہ موصوف کالم نگار کو یہ اعلیٰ تصورات، نیب چیئر مین کے افسوسناک معاملے میں ہی کیوں یاد آئے؟

ایٹمی دھماکے۔ نوازشریف اور جنرل کرامت؟

”یوم تکبیر“ کے حوالے سے نوائے وقت میں جنرل (ر) طارق پرویز کا انٹرویو شائع ہواہے۔ 28مئی1998کے دھماکوں کے وقت وہ کوئٹہ کے کورکمانڈر تھے۔ اکتوبر 1999میں (حکومت کی برطرفی اور وزیر اعظم کی گرفتاری سے چند روز قبل) آرمی چیف جنرل پرویزمشرف نے جنرل طارق پرویز کو اس ”الزام“ میں برطرف کردیا تھا کہ انہوں نے چیف کی اجازت کے بغیر وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی۔ اس انٹرویو میں جنرل طارق پرویز نے یہ اعتراف تو کیا ہے کہ صدر بل کلنٹن نے وزیر اعظم نوازشریف کوپانچ بار ٹیلی فون کرکے، ایٹمی دھما کہ نہ کرنے کا مشورہ دیا اور اس کے بدلے کروڑوں ڈالر کی پیش کش بھی کی لیکن ایٹمی دھما کوں کے فیصلے کا اصل کریڈٹ جنرل جہانگیر کرامت کو دیا ہے۔ جنرل کرامت بلا شبہ پاک فوج کے ان چند سربراہوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنا دامن سیاست سے آلودہ نہ ہونے دیا۔
1997میں وزیر اعظم کے خلاف صدر لغاری اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے سازشی منصوبے کے دوران بھی انہوں نے اپنے آئینی حلف کی پاسداری کرتے ہوئے وزیر اعظم کی حمایت کی۔ اکتوبر98لاہور میں ایک سیمینار میں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام کی بات کی۔ اس پر وزیر اعظم کی جواب طلبی پر رضا کارانہ مستعفی ہو کر گھر چلے گئے۔ 1998کے دھما کوں کے وقت وہ آرمی چیف تھے لیکن ایٹمی دھما کوں کے حوالے سے ان کی رائے مختلف تھی، امریکی جنرل ٹومی فرنیکس اور جنرل زنی(zinnie) کی کتابوں سے بھی اس کی گواہی ملتی ہے اور گھر کے بھیدی جاوید ہاشمی نے بھی اپنی کتاب ”ہاں میں باغی ہوں“میں یہی بات لکھی ہے۔ جنرل زنی کی کتابBattle Readyکے مطابق، وزیر اعظم نوازشریف کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کے لیے صدر کلنٹن نے ایک اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ Tempaائیر بیس پر امریکی طیارہ تیار کھڑا تھا لیکن اسے اسلام آباد سے لینڈنگ کی اجازت نہیں مل رہی تھی۔ طیارے میں وزیر دفاع ولیم کوہن اور امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل زنی بھی تھے۔ آخر کار جنرل زنی نے اپنے دوست جنرل جہانگیر کرامت سے مدد چاہی۔ جنرل کرامت نے وزیر اعظم سے ملاقات میں کہا، سر! آخر ان کی بات سننے میں کیا حرج ہے؟ اس پر امریکیوں کو اسلام آباد آمد کی جازت تو مل گئی لیکن وہ پاکستانی قیادت (وزیر اعظم)کو دھماکوں سے باز رہنے پر قائل نہ کرسکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *