ہمارے ادریس بختیار

عشرۂ مغفرت... 23ویں افطار کا وقت تھا جب بندہ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا۔ ہم ادریس بختیار نامی جس مردِ امانت و دیانت کو جانتے تھے (اور دنیا جس پیکرِ جرات و استقامت سے آشنا تھی) وہ اگلے جہان روانگی کے لیے انہی مقدس ساعتوں کا مستحق تھا۔ 
قدرت نے ادریس بختیار کو صحافیانہ اہلیت و صلاحیت کے ساتھ پیشہ ورانہ دیانت کے اوصاف سے بھی وافر مقدار میں نوازا تھا۔ انسانی تعلقات اور معاملات کے حوالے سے بھی حد درجہ حساس کہ اس میں کسی کوتاہی کے مرتکب نہ ہوں۔ بے نظیر صاحبہ کی پہلی وزارتِ عظمیٰ کے دوران، پنجاب میں آئی جے آئی کی حکومت تھی۔ وزیر اعلیٰ نواز شریف آئی جے آئی کے سربراہ تھے اور وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دے رہے تھے۔ ایک صنعت کا ر خاندان پہلی بار اس سطح کی اپوزیشن حاصل کر رہا تھا۔ کہا جاتا تھا، تاجر اور صنعت کار تو سی بی آر کے ایک نوٹس کی مار ہوتے ہیں (آج کا ایف بی آر تب سی بی آر، سنٹرل بور ڈ آف ریونیو ہوتا تھا) لیکن پنجاب کا صنعت کار خاندان خاصا سخت جان واقع ہوا تھا۔ اتفاق سٹیل ملز کا سکریپ لانے والے بحری جہاز (جوناتھن) کو مہینوں کراچی کی بندرگاہ میں داخلہ نہ ملا۔ اتفاق کے لیے منظور شدہ بینکوں کے قرضوں کی ادائیگی روک دی گئی، ایک دلچسپ واقعہ بھی ہوا۔ اتفاق کی بجلی کی چوری پکڑنے کیلئے میٹر چیک کیے گئے تو پتہ چلا کہ یہ تو معمول سے تیز چل رہے ہیں۔
ادریس بختیار ''ہیرالڈ‘‘ کے لیے اتفاق فیملی کی انڈسٹریل ایمپائر پر سٹوری کر رہے تھے۔ اس کے لیے اتفاق والوں کا نقطہ نظر جاننا بھی ضروری تھا۔ ادریس لاہور آئے اور شہباز شریف سے فون پر رابطہ کیا۔ بڑے میاں صاحب (مرحوم ) کے ساتھ کاروباری معاملات کو وہی دیکھا کرتے۔ شہباز شریف نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا: دوپہر کو آ جائیں، لنچ بھی کر لیں گے۔ ادریس کا جواب تھا کہ وہ صرف چائے کا ایک کپ پئیں گے۔ شہباز صاحب کی طرف سے گاڑی بھیجنے کی پیشکش پر بھی معذرت کر لی اور کہا کہ انہوں نے ہوٹل والوں سے گاڑی کا کہہ دیا ہے۔ اس ''مکالمے‘‘ کے وقت ہم ادریس بختیار کے پاس موجود تھے۔ فون بند ہوا تو ادریس ہماری طرف متوجہ ہوئے، ''شہباز صاحب روایتی وضعداری کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ عام حالات میں اسے قبول کرنے میں کوئی ہرج نہ تھا، لیکن یہاں معاملہ اور ہے۔ میں ان کے بزنس پر انویسٹی گیٹو سٹوری کرنے آیا ہوں۔ ایسے میں لنچ اور گاڑی کی سہولت حاصل کرنا مناسب نہ ہوتا‘‘۔
ادریس نے 1945ء میں مسلم لیگی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کے دادا صوفی نور محمد چشتی اجمیری راجپوتانہ مسلم لیگ کے صدر اور والد ہارون الرشید بختیار، قائد اعظم کے نیشنل گارڈز میں شامل تھے۔ باپ بیٹا 23 مارچ 1940ء کے اجلاس میں شرکت کے لیے اجمیر سے لاہور بھی آئے۔ ہجرت کے بعد اجمیر سے کراچی آ گئے۔ ماڑی پور ایئر پورٹ پر کینٹین کا ٹھیکہ لے لیا اور نواب مظفر حسین کے ساتھ مسلم لیگ میں سرگرم بھی رہے۔ ایوب خان کی آمریت کے خلاف آئے روز جیل یاترا سے کینٹین کا کاروبار ٹھپ ہو گیا۔ فیملی حیدر آباد میں ہوتی تھی۔ ادریس کی ساری تعلیم وہیں ہوئی۔ چار بھائیوں اور دو بہنوں میں وہ سب سے بڑے تھے۔ اُس دور کے رسم و رواج کے مطابق بڑے بیٹے نے باپ کا بوجھ بٹانے کے لیے دوران تعلیم ہی جاب بھی شروع کر دی۔ ادریس کے چچا انوار قمر لاہور چلے آئے تھے، شعر و ادب سے خاص رغبت رکھتے تھے، روٹی کمانے کے لیے صحافت میں چلے آئے۔ چچا کی پیروی میں بھتیجے نے بھی صحافت کا رخ کیا‘ اور تعلیم کے دوران ہی حیدر آباد کے انڈس ٹائمز میں ملازمت کر لی۔ پروف ریڈر کے طور پر کیریئر کا آغاز کرنے والے ادریس بختیار کی ملک کے بڑے میڈیا ہائوسز میں اہم پوزیشنز تک رسائی اہلیت و صلاحیت، امانت و دیانت اور ہمت و حوصلے کی کہانی ہے۔ صلاح الدین شہید کے زیر ادارت 'جسارت‘ کے سوا، ادریس کی ساری صحافت انگریزی کی تھی۔ سعودی عرب کے ایک بڑے پبلشنگ ہائوس نے 1970ء کی دہائی میں عرب نیوز نکالنے کا فیصلہ کیا۔ دنیائے عرب سے نکلنے والا پہلا انگریزی روزنامہ۔ یہاں ریالوں میں تنخواہ سمیت کئی پُر کشش مراعات تھیں‘ لیکن ادریس جلد ہی لوٹ آئے کہ ان کے خیال میں اپنے وطن میں چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے ان کی موجودگی زیادہ ضروری تھی۔ ہم برسوں بعد اس ادارے سے وابستہ ہوئے تو ادریس سے وابستہ خوشگوار یادوں کی مہک وہاں موجود تھی۔ 
کراچی واپس آ کر ادریس نے ایک بڑے انگریزی گروپ سے وابستگی کے ساتھ وائس آف امریکہ اور کلکتہ کے ٹیلی گراف کے لیے بھی رپورٹنگ کی لیکن اپنی پاکستانیت کے تقاضوں سے کبھی صرفِ نظر نہ کیا۔ 1992ء میں ادریس کراچی میں بی بی سی کے بیوروچیف ہو گئے۔ شہرِ قائد‘ جو کبھی روشنیوں کا شہر اور منی پاکستان کہلاتا تھا، اب ایم کیو ایم کا کراچی تھا۔ (تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ یہ اپنے زخموں کو تازہ کرنا ہو گا) آزاد صحافت کے لیے یہ بڑا بھیانک دور تھا، ادریس بختیار اس آزمائش میں بھی سرخرو رہے، غیر ملکی اخبار نویس کراچی آتے تو آغاز ادریس بختیار کے ساتھ ملاقات سے کرتے۔ ایم کیو ایم سے متعلق سٹوریز کے علاوہ بھی ادریس نے معرکے کی رپورٹس لکھیں۔ صدر غلام اسحاق کے داماد عرفان اللہ مروت کی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنا معمولی دل گردے والے کا کام نہ تھا (قارئین کو ''وینا حیات کیس‘‘ بھولا تو نہ ہو گا) ادریس کی کریڈٹ لسٹ میں مہران بینک بھی اہم حوالہ تھا۔
ادریس بختیار ان انسانوں میں سے تھے جن کی سرشت میں قناعت اور استغنا کے عناصر وافر مقدار میں شامل ہوتے ہیں۔ اپنے صحافتی قد کاٹھ کے باعث اقتدار کے ایوانوں اور طاقت کے مراکز تک انہیں رسائی حاصل تھی‘ جن سے روابط ادریس کی پیشہ ورانہ ضرورت بھی تھی، لیکن اپنا پیشہ ورانہ وقار، ساکھ اور اعتبار انہیں کسی بھی اور چیز سے عزیز تر تھے۔ اپنی زندگی کے کتنے ہی ماہ و سال سکوٹر پر گھومتے پھرتے گزار دیئے۔ ایک بڑی فیملی کے ساتھ وہ لیاقت آباد میں الاعظم سکوائر کے دو کمرے کے فلیٹ میں بھی رہے۔ بھٹو صاحب کے دور میں گلشن اقبال کی صحافی کالونی میں، سبھی صحافیوں کو چار چار سو گز کے پلاٹ ملے، ان میں ادریس بھی تھے، یہ پلاٹ چھوٹے بھائی کو کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرانے کے لیے 40 ہزار میں بیچ دیا۔ جام صادق سندھ حکومت کے وزیر بلدیات تھے۔ ان کے دور میں بارش کی طرح پلاٹوں کی الاٹمنٹ ہوتی تھی۔ مشہور تھا کہ کاغذ نہ ہوتا تو جام صاحب سگریٹ کی ڈبی پر کے ڈی اے کو الاٹمنٹ آرڈر جاری کر دیتے۔ ایک دن بھٹو صاحب نے مزاحاً کہا، جام صاحب! مزار قائد اور میرا 70 کلفٹن بھی الاٹ نہ کر دینا۔ جام نے ہنستے ہوئے کہا: ابھی کسی نے ان کی الاٹمنٹ کے لیے درخواست ہی نہیں دی۔ جام صاحب نے بہت سوں کو دو، دو پلاٹ بھی الاٹ کر دیے، کہ ایک کو بیچ کر دوسرے پر مکان بنا لیں۔ لیکن ادریس نے ادھر آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ ساری عمر کرائے کے چھوٹے چھوٹے گھروں میں گزار دی۔ آخری برسوں میں گلشن اقبال میں، تقریباً اڑھائی سو گز کا سنگل سٹوری مکان خریدا، کچھ پیسے جمع ہوئے تو دوسری منزل بنا لی۔ ادریس بختیار صاحبِ نظر ہی نہیں، صاحبِ نظریہ بھی تھے۔ دائیں بائیں کی کشمکش میں، دائیں بازو کے ہراول دستے میں شمار ہوتے لیکن اپنی شخصی خوبیوں کے باعث بائیں بازو والوں میں بھی محبت اور احترام سے دیکھے جاتے۔ لبرلز سے ان کی دوستیاں، اپنے اسلام پسندوں سے کم نہ تھیں۔ پروفیشن میں جونیئز کے ساتھ شفقت کا خاص سلوک کرتے۔ شیری رحمن نے ان کی وفات پر ان دنوں کو بھی یاد کیا جب وہ ہیرالڈ میں ان کی کولیگ تھیں۔ صدر عارف علوی نے انہیں ذاتی دوست قرار دیا۔ عارف علوی ایک دور میں کراچی میں جماعت اسلامی ضلع شرقی کے امیر بھی رہے تھے‘ اور ادریس سے تب سے ان کی یاد اللہ تھی۔ ادریس ایک دنیا کی محبتیں سمیٹ کر اگلے جہاں روانہ ہوئے تو کراچی سے باہر بھی ہزاروں ہاتھ ان کی بلندیٔ درجات کے لیے بلند ہوئے۔ جدہ سے ایک دوست کی کال آئی، ماہِ مقدس کی شبوں میں حرمین میں ہزاروں پاکستانیوں کی دعاؤں میں بھی ادریس شامل ہوتے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *