یہ آپ نہیں ہیں، یہ مرد ہیں

" جسٹن چن "

لمبے عرصے ساتھ رہنے والی دو  گرل فرینڈز  سے لا تعلقی کے بعد  میں نے محسوس کیا کہ سیدھی اور تنگ زندگی جس میں میں جی رہا تھا، اتنی اچھی نہیں تھی۔

کئی ماہ پہلے ایک میری ساتھی کارکن نے مجھ سے میری دلدادہ شخصیت کے بارے میں پوچھا۔

"کیری برونسٹین"، میں نے کہا۔

اصل میں میری کوئی پسندیدہ شخصیت نہیں تھی، لیکن کیری کا نام  زبان پر آیا۔ ''پورٹ لینڈیا'' پر وہ سمارٹ، سنجیدہ اور سخت تھی۔ میں نے پچھلے ہفتے اس پر لکھی سوانح عمری کو لائبریری میں دیکھا تھا اور پڑھنا شروع کر دیا تھا۔

''ہنگر میکس می اے ماڈرن گرل'' کے  وسط میں کیری اپنے بینڈمیٹ کورن ٹکر کے ساتھ اپنے جنسی تعلق  کا تجربہ بیان کرتی ہیں۔  میں نے ایک دوست کو بلایا اور ہنسا۔ میں ایک بڑے مزاح سے متاثر ہوا تھا: مجھے پچھلے دو گرل فرینڈز  سے ختم ہونے والے تعلقات  کے لمحات یاد آ رہے تھے۔ اور اب ایک نظریاتی تصور میں میں کسی سیدھی عورت کو چن نہیں پا رہا تھا۔

میں ابھی تک اپنی پرانی گرل فرینڈز کا دوست ہوں۔ زندگی کو ایک دوسرے سے بالکل لاتعلق کر دینا مشکل تھا۔ ہمارا ادبی ذوق اور ہنسی مذاق ایک جیسا تھا۔ میری پرانی گرل فرینڈز  نے اپنی جنس کو بھی تبدیل کیا جس کی وجہ سے ہمارا رابطہ برقرار رکھنے میں مدد کی تھی۔ یہ قطع تعلق کسی ذاتی وجوہات کی بنا پر نہیں تھے کیوں کہ وہ مجھے نہیں بلکہ تمام  مردوں کو مسترد کر رہی تھیں۔

ایبی اور سوسنا کے تعلقات  نے میری اپنی شناخت بھی تبدیل کی تھی ۔ میری زیادہ تر نوجوانی کی زندگی میں، میں ایک سائنس دان رہا، پہلے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں ایک ریسرچ اسسٹنٹ رہا اور پھر ایم آئی ٹی سے ایک گریجویٹ سٹوڈنٹ، جہاں میں سیکھ رہا تھا کہ  ایمبریوز کی نشومنا کیسے ہوتی ہے ۔

مجھے مالیکیولر بیالوجی سے لگن تھی لیکن میں نے تنہائی اور ایک ہی طرز زندگی پر محنت کی جو کہ ریسرچ کے لیے ضروری تھا۔ پچھلے سال پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد میں نے خوشی سے تعلیم زندگی کو خیر آباد کہتے ہوئے ایک غیر منافع بخش تنظیم کی  کمیونیکشن ٹیم کے ساتھ کام شروع کیا۔

میں ابھی تک یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ  کیوں میں ایک بایولوجسٹ بننا چاہتا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ میں جذبات سے بڑھ کر عملیت اور رسمی توقعات پر پورا اترنا چاہتا تھا، ایک پیٹرن جو کسی نہ کسی طرح میری رومانوی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔

ایبی کے ساتھ میرا پہلا سنجیدہ تعلق پورے کالج دور میں رہا۔ گریجویٹ کرنے کے بعد وہ اور میں واشنگٹن ڈی سی میں منتقل ہو گئے۔ یہ میرا پہلا وقت تھا کہ میں کسی عورت کے ساتھ رہ رہا تھا اور مجھے یہ چیز بہت حیران کن طور پر اچھی لگ رہی تھی۔

میرے والدین کو ہمارا تعلق پسند نہیں آیا۔میرا سامان اپارٹمنٹ  بھیجتے وقت میرے والد نے مجھے کچھ حتمی ہدایات دی تھیں: "ایبی کو پریگننٹ نہ کرنا۔ اپنے گریجویٹ سکول کی درخواستوں کا خیال کرنا۔ بیمار ہونے سے بچنا۔''

چند ماہ کے اندر اندر، میں لیبارٹری کے کام میں لگ گیا اور ایبی کافی میں لمبی شفٹیں کرتے ہوئے اکثر اس وقت گھر پہنچتی جب میں سو چکا ہوتا۔ اپنی تنہائی میں اس نے سارہ سے ملنا شروع کر دیا جو اس کی کالج دوست تھی، اور انہوں نے ایک فاصلے سے رومانس کرنا شروع کر دی۔

میں نے صرف تب محسوس کیا کہ ایبی کے ساتھ میرا تعلق ختم ہو گیا ہے جب اس نے کچن میں ریفریجریٹر کے ساتھ ایک Ikea بیڈ تعمیر کیا۔ بعض اوقات ڈنر کے بعد ہم اس کے بستر پر ساتھ ساتھ لیٹتے لیکن اگر میں بستر میں گھسنے کی کوشش کرتا تو وہ احتجاج کرتی۔

''نہیں جسٹن، جسٹن اوپر ہو، جسٹن باہر نکلو،'' مذاق کرتی جیسے میں ایک پالتو کتا ہوں جو حد سے باہر جا رہا ہو۔

ہم نے قطع تعلق کے بعد کچھ اصول لاگو کیے۔ کوئی پپی جپھی نہیں۔ واحد جسمانی محبت جسے وہ برداشت کرتی اس کے کانوں کو چھونا تھا۔ رات دیر کے وقت جب وہ تقریبا سوئی ہوتی میں اس کے بیڈ کے کونے پر بیٹھتا اور اس کے دائیں  کان  کے نرم گوشت اور ہڈی کے گرد انگلی پھیرتا۔

میں نے آخری مرتبہ جب ہم نے سیکس کیا تھا کے بارے میں سوچا۔ وہ مجھے پر ایسے گر گئی تھی جیسے ادرک ٹھنڈے پانی مین کھسک رہی ہو۔ اس نے اپنے ہاتھ میرے سینے پر رکھے اور چند سیکنڈ کے لیے اس کا چہرہ خالی خالی ہو گیا تھا۔ میں نے انتطار کیا کہ وہ کچھ کہے جیسے ''میں تم سے محبت کرتی ہوں''۔اس کے بجائے وہ افسردگی سے بڑ بڑائی، ''میرا خیال ہے ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں؟''

جب میں واشنگٹن سے گیا تو میں نے دل کا درد محسوس کیا۔ میں ایک رومانٹک ساتھی ایبی کو کھونے جا رہا تھا۔ دوسری طرف  چھ سال بعد سوزانہ سے علیحدگی  زندگی سے جدائی جیسے تکلیف دے رہی تھی۔

وہ 30 سال کی تھی اور میں 29 سال کا۔ ہم 4 سال ساتھ رہے، اگرچہ ہم نے اس کا کھل کر کبھی اظہار نہیں کیا، ایک خیال تھا کہ ہم شادی کر لیں اور روائتی فیملی کے طور پر پرانے دور مین چلتے ہیں۔ اب، میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا سفر تبدیل ہو رہا تھا۔

سوسانا کے میری زندگی مین آنے کے چند ہفتے بعد اس نے مجھ سے نئی ملازمت پر پہلے دن جانے سے پہلے پوچھ گچھ کی۔ لیب میں میں ہائی سکول  کے دور سے ہی مدہم رنگ کی پھٹی ہوئی شرٹ پہنا کرتا تھا۔ اپنے بڑے آئنیے کے سامنے کھڑے ہوئے میں سٹائلش  سفید بٹن والی  شرٹ  ، گندمی پینٹ اور سبز جیکٹ پہنا ہوا تھا۔

میں نے ہچکیاں لینے سے قبل ہی خاموشی سے رونا شروع کر دیا۔

''کوئی بات نہیں،'' سوسنا نے میرے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔ ''ہم اب بھی کیفے پر ساتھ جائیں گے اور گراسری اکٹھے خریدیں گے۔''

مجھے  معلوم نہیں تھا کہ میں کیوں رو رہا تھا۔ اصل میں ہم دونوں ایک اہم تعلق سے آزاد ہو چکے تھے  اور بچہ پیدا کرنے کے دباو سے بھی آزاد تھے۔ یہ ایک ایسی چیز تھی جو ہم  میں سے کوئی نہیں چاہتا تھا۔  لیکن میں ان چیزوں کی خواہش رکھنا چاہتا تھا، اور اس ادھوری خواہش کا نقصان بہت تکلیف دہ تھا۔

سوسنا کے ساتھ میرے تعلق کی طرح، مجھے یقین  تھا کہ میں ایک مالیکیولر بایولوجسٹ   اس لیے بنا کہ یہ محفوظ اور مستحکم  کیریر تھا۔ کالج سے گریجویٹ کرتے ہوئے میں مصنف بننا چاہتا تھا لیکن اس میں مجھے اپنی اہلیت اور ملازمت کے استقلال کے  بارے میں شبہ تھا۔ میرے والدین اور پروفیسروں  کی حوصہ افزائی کی وجہ سے میں نے ایک سائنسدان کی حیثیت سےاپنا بیانیہ بنایا۔ اور اس شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے میں ہفتے میں 80 گھنٹے کام کرتا تھا اور میں نے اپنی دوستیوں کو قربان کر دیا اور اپنے لیے انجان بن گیا۔

مجھے بائیولوجی  پسند تھی کیونکہ اس میں چیزوں کو ٹھوس سے مائع بنانے کے طریقے بتائے جاتے ہیں جن کا آپ مائیکروسکوپ میں  معائنہ کر سکتے ہیں۔ میں ہر روز ایمبریو کی نشو نما  پر تحقیق کرتا کہ کیسے لاکھوں خلیے  ایک جیتے جاگنے حیوان کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

لیکن اب میں زیادہ خوش ہوں،میں  نے توقعات  کو کام اور محبت سے جوڑ لیا ہے۔ ہم 30 سال کی عمر کے کنوائے سوزانا اور میں  اپنا بچپن دوبارہ جی رہے ہیں۔

پچھلے سال میں اس نے ایک پرائڈ پریڈ میں مارچ کیا، اور آئس لینڈ میں بار ہا ڈیٹس پر گئی ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، مین اب اپنے احساسات کا خیال رکھتا ہوں اور ان کے پیچھے چل رہا ہوں، ایک ایسی چیز جو زیادہ تر لوگ تب کرتے ہیں جب وہ نوجوان ہوتے ہیں۔

ان دنوں، سوسنا اور میرا وقت کے ساتھ ایک بدلا ہوا تعلق ہے جہاں ہم مستقبل کا سوچے بغیر اپنے حال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، لیکن دونوں کے پاس ایک راستہ ہے کہ ایک دوسرے میں اپنا خون  منتقل کر سکیں۔

ریاست سے نقل مکانی کرتے ہوئے سوسنا کی ایک گرل فرینڈ نے اسے یہ کہتے ہوئے دوبارہ یقین دہانی کرائی کہ ''میں اب اس رشتے سے جڑ چکی ہوں۔''

بعد میں، قطع تعلق کے بعد سوسنا نے اعلان کیا، ''ہم اب  ایک ہفتہ تک ہمیشہ کی جدائی اختیار کر چکے ہیں۔ "

سوسنا کے برعکس میں ایک ایسا   شخص ہوں جو ڈیٹنگ میں استقلال نہیں دکھا پاتا۔  جب کہ میرے کئی ہم عصر آباد ہو جانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں، مین کسی ایسی چیز کے پیچھے پڑا ہوں جہاں ذمہ داری نہ اٹھانی پڑے۔  مجھے فرصت کے لمحات اپنے آپ میں رہ کر گزارنے میں تسکین ملتی تھی۔ شام کو میں دریائےچارلز کے کنارے دوڑ لگاتا۔ ویک اینڈ پر میں ناول میں کھو جاتا یا دوستوں کے ساتھ ڈنر پر جاتا۔ مجھے نہیں پتہ میری یہ روٹین کب ختم ہو گی، لیکن مجھے نوجوانی سے علیحدگی میں آسودگی ملتی ہے۔

ڈیٹ سے دوری کی ایک وجہ  احساسات کی نہ ختم ہونے والی تھکاوٹ ہے۔ ایک اجنبی کے ساتھ چند گھنٹے گزارنے کا خیال مجھے افسردہ کر دیتا ہے۔ میں اپنی جبلت اور غیروں کی ہدایات  سے بھی اکتا جاتا ہے۔ جب میں نے دل کی  سنتا ہوں تو خواتین میں دلچسپی لینے والی خواتین سے محبت کر بیٹھتا ہوں ۔ جب میں نے اپنے والدین اور اہم شخصیات کا مشورہ لیا، میں نے خود کو ایسے کیرئیر میں کھویا ہوا پایا جس نے مجھے انتہائی قابل ترس بنا دیا۔

میں اب بھی  رومانوی تعلقات کے دنوں کو  یاد کرتا ہوں۔ مجھے  دوستی اور محبت کا ساتھ  اور چھو کر اور نظر سے بات کرنے کی صلاحیت یاد آتی ہے۔ کئی بار جب میں ڈیٹنگ کو مس کرتا ہوں  مجھے یہ دنیا ترو تازہ لگتی ہے۔

رفتہ رفتہ اپنے ہی طریقے سے میں کسی ایسے شخص کو ڈھونڈ رہا ہوں  جو سوچ سمجھ رکھنے والا، بہادر، اور اچھا انسان ہو۔ ایسا بہادر اور مضبوط ہو  کہ اپنی زندگی اپنے طریقے سے جینے کی ہمت رکھتا ہو۔ آپ کو پتہ ہے،ایسی شخصیت کیری برونسٹین جیسی ہی ہو سکتی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *