سیاسی یا فوجی حل

شیخ مجیب الرحمن ملک توڑنا چاھتا ہے۔ اس کے چھ نکات میں علیحدگی چھپی ہے۔ شیخ مجیب الرحمن آئینی حقوق کی آڑ لے رہا ہے۔  شیخ مجیب الرحمن ملک دشمن ہے۔ شیخ مجیب الرحمن غدار ہے۔ شیخ مجیب الرحمن بھارت کے ھاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ مکتی باہنی فوج کے خلاف لڑ رہی ہے۔ ہمارا دشمن بھارت ہمارے ملک کو دولخت کرنے کے درپے ہے۔ ہم ایسے ملک دشمن عناصر کا قلع قمع کر دیں گے۔ وغیرہ وغیرہ ۔
منظور پشتین ملک توڑنا چاھتا ہے۔ اس کی پر امن تحریک میں علیحدگی چھپی ہے۔ وہ آئینی حقوق کی آڑ لے رہا ہے۔ منظور پشتین ملک دشمن ہے۔ منظور پشتین غدار ہے۔ منظور پشتین افغانستان کے ھاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ وہ گریٹر پختونستان کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ وہ فوج کے خلاف لڑ رہا ہے۔ افغانستان ہمارا دشمن ہے۔ ہم اس کی تحریک کا قلع قمع کر دیں  گے۔
مشرقی پاکستان اور فاٹا میں بہت فرق ہے۔ وہ ہزاروں میل دور تھا۔ فاٹا بہت قریب ہے۔ وغیرہ وغیرہ
تب بھارت ہمارا اکیلا دشمن تھا۔ آج بے شمار دشمن ہیں۔ ہم نے تب اپنی ہی قوم کے بنگالی حصے کو اپنے خلاف کر لیا تھا۔ اور بھارت نے اس کا فائدہ اٹھایا تھا۔ اگر آج قبائلی بھی اسی راہ پر چل پڑے تو ؟ کسی بھی قوم کو اپنے خلاف کرنے کا ایک پروسیس چلتا ہے۔ بنگالی بھی بہت محب وطن تھے۔ لیکن آج بھی ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ اس پروسیس کو سیاسی تدبر اور معاملہ فہمی سے روکا جا سکتا ہے۔ فوجی حل اور سنسرشپ اس پروسیس کی رفتار بڑھا دیتے ہیں۔ یہ دشمن کی وکٹ پر کھیلنے کے برابر ہے۔ آج جو لوگ حب الوطنی کے چکر میں بڑھکیں مار رہے ہیں۔ 1971 میں بھی ایسے محب وطنوں کی کمی نہ تھی۔
یاد رکھیں۔ پہلا فیصلہ آپ کرتے ہیں۔ یہ آپ کی فری ول ہے۔ یعنی فیصلہ کرنے کی آزادی، لیکن اس فیصلے کے نتیجے میں جو حالات و واقعات جنم لیتے ہیں۔ ان پر آپ کا اختیار نہیں رہتا۔ الٹا وہ حالات و واقعات آپ کو اپنی جکڑ میں لے لیتے ہیں۔ اور یہی جکڑ آپ کا مقدر بن جاتی ہے۔کسی بھی کامیاب تحریک کی یہی تاریخ ہے۔المیہ یہ نہیں کہ آپ کو اپنے غلط فیصلوں کی سزا ملتی ہے۔ اصل المیہ یہ ہے۔ کہ ایک برائی کے ساتھ نناوے فیصد اچھائی بھی ماری جاتی ہے۔
کوئی بھی کامیاب تحریک ایک دو فیصد لوگ ہی شروع کرتے ہیں۔ اٹھانوے نناوے فیصد لوگ بعد میں اس کا حصہ بنتے ہیں۔
شیکسپیئر کے مشہور المیہ ڈراموں کے مرکزی کردار مرد ( ھیملٹ، اوتھیلو ، لیئر ، میکبیتھ )  جبکہ طربیہ ڈراموں کے مرکزی کردار خواتین( بیٹرس ، روزالنڈ ، وائی اولا )  ہیں۔ المیہ ڈراموں کے یہ مرد ھیرو آخر میں مارے جاتے ہیں ۔ کیونکہ یہ مرد ھیروز بائی ڈیفالٹ ( جرنیل ، شہزادے اور بادشاہ) صلح جوئی کے لیے تیار نہیں ہوتے اور مار دھاڑ پر یقین رکھتے ہیں۔ جبکہ طربیہ ڈراموں کی خواتین ھیروز مصالحت پر عمل کرتی ہیں اور خوشگوار زندگی گزارتی ہیں۔ چناچہ مصالحت، صلح جوئی اور سیاسی حل ہی قومی ضرورت ہے۔ اور یہی حل ہماری زندگیوں کو خوشگوار اور پرامن بنا سکتا ہے۔ یہ وہ حل ہے۔ جس پر چل کر اہل یورپ نے اپنی صدیوں پرانی دشمنیاں ختم کیں۔ وہ دشمنیاں جو لاکھوں کروڑوں انسانوں کو نگل گئیں ۔ ملکوں کو برباد کر دیا۔ انہیں بھوک اور افلاس کا شکار کر دیا۔ یہ جنگیں حب الوطنی اور قومی مفاد کے نام پر برپا ہوئیں۔ تمام قومی وسائل ان جنگوں میں جھونک دیے گئے۔ صرف دو عظیم جنگوں میں دس کروڑ افراد مارے گئے۔ اور اس کے بعد اہل یورپ کو یہ سبق ملا۔ حب الوطنی لڑنے مرنے میں نہیں زندگی بچانے میں ہے۔ قومی مفاد عسرت اور بے روز گاری میں نہیں۔ لوگوں کو زندگی کا آرام اور خوشیاں اور وسائل مہیا کرنے میں ہے۔ صحت اور تعلیم اور مکان دینے میں ہے۔ آخر ہمارے کرتا دھرتاوں کو یہ سبق کب یاد ہو گا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *