جنرل ضیا الحق پر ایک پرانے الزام کی صفائی

ماہِ مقدس کے آخری عشرے کی الوداعی ساعتیں بھی آگئیں۔ہم افطار پارٹیوں کو بھی اس ماہ کی برکتوں میں شمار کرتے ہیں کہ یہ سال بھرکے بچھڑے ہوئے احباب کے مل بیٹھنے ‘ حالِ دل کہنے اور حالِ دل سننے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ ہم جدے میں ہوتے تھے تو کوشش کرتے کہ مختلف ایام میں آٹھ دس روزے تو ضرور حرمین میں افطار کریں۔ جدہ سے مکہ مکرمہ چالیس پینتالیس منٹ کی ڈرائیوہے۔ یوں بھی ہوتا کہ افطار جدے میں کی اور تراویح کیلئے مسجد حرم پہنچ گئے۔یہاں طوافِ کعبہ بھی کرلیتے‘ اہرام میں ہوتے تو عمرہ کی سعادت بھی حاصل کر لیتے ؛البتہ مدینتہ النبی ﷺ کے لیے ہفتہ وار چھٹی کا انتظار ہوتا۔ حرمین میں افطار کا اپنا لطف ہوتا ہے‘ لیکن دیگر چھوٹے بڑے شہروںمیںبھی اہلِ خیر اس کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ افطار کے وقت مساجد کے علاوہ چوراہوں پر بھی لوگ مسافروں کے لیے افطار کا وافر سامان لئے موجود ہوتے ہیں۔ الحمد للہ لاہور میں بھی یہ کلچر ڈیولیپ ہورہا ہے‘ اب یہاں بھی یہ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کوشش رہی کہ افطار گھر پر ہی کریں کہ روزے کی آخری ساعتوں میں خصوع وخشوع کے ساتھ اپنے رب سے مناجاتوں کا اپنا لطف ہوتاہے‘ لیکن سوشل لائف کے اپنے تقاضے ہیں۔ افطارپارٹیاں سوشلائزیشن اور پبلک ریلیشننگ کا ذریعہ بھی ہوتی ہیں۔ خیراتی ادارے اور رفاہی تنظیمیں اپنے خیر کے کاموں سے آگاہی کے لیے اس کا اہتمام کرتی ہیں(اور بجا طور پر اس کارِ خیر میں آپ کے تعاون کی خواہش مند بھی) ایسی ہی ایک بڑی پارٹی کا اہتمام 15رمضان کو یومِ یتامیٰ پر کیا گیا۔ افطار کی کچھ تقریبات گورنر ہائوس میں بھی ہوئیں( جن میں میزبان گورنرہائوس نہیں تھا)۔ان افطاریوںکا اہتمام مختلف رفاہی اداروں نے کیا تھا۔ گورنر ہائوس کو ''عوام‘‘ کے لیے کھول دینے کی ''بدعتِ حسنہ‘‘کا آغازگورنر میاں محمد اظہر نے کیا تھا۔ یہ نوازشریف کی پہلی وزارتِ عظمیٰ کا دور تھا۔ گورنر صاحب صبح نو‘ دس بجے اپنی گاڑی میں کسی پروٹوکول کے بغیر تشریف لاتے‘ عموماًڈرائیو بھی خود کرتے ۔ دفتری امور نمٹاتے‘ سی ایم سیکرٹریٹ سے آئی ہوئی فائلوں پر تو ثیقی دستخط ثبت فرماتے‘ دوستوں سے گپ شپ کرتے اور شام کو اسی گاڑی میں واپس چلے جاتے۔ سکولوں کے طلبہ وطالبات اپنے استادوں اور استانیوں کے ساتھ آتے۔ گورنر ہائوس میں گھومتے پھرتے‘ یہاں مختلف نادر ونایاب چیزوں کا مشاہدہ کرتے اور گورنر صاحب کیساتھ تصاویر بنواتے۔ 18اپریل1993ء کی شب صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم نوازشریف کی حکومت برطرف(اور اسمبلی تحلیل) کی تو گورنر صاحب نے بھی احتجاجاً استعفیٰ لکھا اوراگلی صبح ایوانِ صدر فیکس کردیا۔ میاں صاحب کی دوسری وزارتِ عظمیٰ کے دوران برسوں کے یارانوں کو کس کی نظر لگ گئی اور تجدید ِوفا کا کوئی امکان باقی نہ رہا ‘ ایک الگ کہانی ہے۔
گورنر رفیق رجوانہ کے دور میں یہاں شعری وادبی تقریبات اور کتابوں کی رونمائی بھی ہونے لگی۔ ان ہی میں الطاف حسن قریشی صاحب کی ''ملاقاتیں کیا کیا‘‘کی رونمائی بھی تھی۔ ہمیں یاد پڑتا ہے ‘ مولاناظفرعلی خاں ٹرسٹ کے زیر اہتمام مولانا کی زندگی پر کوئی پون گھنٹے کی ڈاکو منٹری کی رونمائی بھی اسی دور میں ہوئی تھی۔ مختلف شعبہ ہائے حیات کی نما یاں شخصیات کی کثیر تعداد کے باعث گورنر ہائوس کا مین ہال چھوٹا پڑ گیا تھا۔یہ رسم موجودہ گورنر صاحب کے دور میں بھی جاری ہے۔ کچھ عرصہ قبل ڈا کٹر عارفہ صبح خاں کی دوکتابوں کی تقریب رونمائی میں شرکت کا ہمیں بھی موقع ملا۔یہ چودھری محمد سرور کی گورنری کا دوسرا دور ہے۔ پہلے دور میںانہیں اپنی بے اختیاری کا شکوہ رہا۔ تب عید ملن کے لیے آنے والے بے تکلف احباب سے وہ یہ شکوہ کئے بغیر نہ رہتے کہ گورنر ہائوس کے سٹاف کی عیدی کے لیے بھی انہیں چیف منسٹر سیکرٹریٹ سے را بطہ کرنا پڑا تھا۔ تب آل پاورفل شہبازشریف تھے۔اب سراپا عجز وانکسار ‘ عثمان بزدار ہیں‘ جنہیں جناب وزیر اعظم اپنا ''وسیم اکرم پلس‘ ‘ کہتے ہیں (وزیر اعظم کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے سرکاری وفدمیں بزدار صاحب بھی شامل تھے) گورنر ہائوس کی افطار تقریبات میں ایک تقریب ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی کسٹمز ہیلتھ کیئر کی بھی تھی ‘ تھر کے پیاسوں کے لیے جس کی خدمات بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔
مولاناظفرعلی خاں ٹرسٹ کے زیر اہتمام ہفتہ وار فکری نشست کا سلسلہ رمضان میں معطل رہا‘ البتہ ایک افطار کا اہتمام کیا گیا۔ اس روز چین کے نائب صدر کے اعزاز میں‘گورنر ہائوس میں ڈنر تھا؛چنانچہ بعض مہمان ادھر بھی مدعو تھے‘ اس کے باوجود بابائے صحافت اور تحریک آزادی وتحریکِ پاکستان کے ممتاز رہنما کے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد یہاں بھی موجود تھی۔ کونسل آف نیشنل افیئر ز(CNA) کوئی بیس بائیس برس کی عمر کا تھنک ٹینک ہے جو اپنی ہفتہ وار نشستوں میں باقاعدگی کا شاندار ریکارڈ رکھتا ہے۔ سی این اے اپنے ارکان کے ماہانہ کنٹری بیوشن کے ساتھ خود کفیل ہے۔ سابق وزرا اعظم نوازشریف اور یوسف رضا گیلانی سے لے کر‘ جنرل اے اے کے نیازی اور جنرل حمید گل تک اس کی نشستوں میں آچکے ہیں‘ لیکن یہ کبھی کسی سے ایک پیسہ عطیے کابھی روا دار نہیں ہوا۔ رمضان میں بھی اس کی ہفتہ وار نشستیں(افطار/ڈنر کے ساتھ)جاری رہیں۔ جمعۃ الوداع کی نشست کے میزبان اپنے شامی صاحب تھے‘ جو سی این اے کے قدیم ارکان(اور اب تو سرپرستوں) میں شمار ہوتے ہیں۔ ایئر کموڈور(ر) سلطان محمد مہمانِ خصوصی تھے۔ جنرل ضیا الحق سے ان کی دوستی کا آغاز1960ء کی دہائی کے اواخر میں ہوا۔ تب ضیا الحق بریگیڈیئر تھے اور شاہ حسین کے ساتھ حکومت پاکستان کے معاہدے کے تحت اردن میں موجود پاک فوج کے دستوںکے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ سلطان محمد ان سے چار ماہ قبل اردن پہنچ چکے تھے۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کی شکست کے بعد فلسطینیوں کی بڑی تعداد اردن میں پناہ گزین تھی۔ ان میں فلسطینی مجاہدین بھی تھے‘ جو وقت کے ساتھ شاہ حسین کی حکومت کے لیے خطرہ بننے لگے۔ ان کا خیال تھا کہ عمان پر قبضے سے انہیں اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کے لیے ایک مضبوط بیس مل جائے گا۔ سلطان محمد کا کہنا تھا کہ معاہدے کے مطابق پاکستانی فوج اردن کی سلامتی کے لیے گئی تھی‘ اور اسے شاہ حسین کی حکومت کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا تھا۔ اردن کی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان خانہ جنگی کے دوران ایک مرحلہ ایسا آیا کہ اردن کا جنرل اپنی فوج چھوڑ کر چلا گیا۔ یہی وہ موقع تھا جب بریگیڈیئر ضیا الحق آگے بڑھا اور اس نے فلسطینیوں کو گھیرے میں لے کر ان کی پیش قدمی روک دی(فوجی اصطلاح میں اسے ہولڈنگ آپریشن کہتے ہیں) ایئر کموڈور سلطان محمد کے بقول:اسی بات کو فسانہ بنا کرمخالفین ضیا الحق پر ہزارو ں فلسطینیوں کے قتل کا الزام لگاتے ہیں‘ جس میںکوئی حقیقت نہیں ۔سلطان محمد کا کہنا تھا: ''خانہ جنگی ‘‘ فرو ہوئی تو شاہ حسین نے ضیاالحق (اور پاک فوج) کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ''آپ نے اردن کو بچالیا‘‘ ۔ سلطان محمد بتا رہے تھے: اردن سے شروع ہونے والی دوستی ضیا الحق کی شہادت تک قائم رہی۔ ضیا الحق کی سب سے بڑی خوبی جس سے سلطان محمد متاثر ہوئے یہ تھی کہ ''وہ یاروں کا یا رتھا‘‘ ۔سلطان محمد مشرقی پاکستان میں1971ء کے آپریشن کے بھی عینی شاہد ہیں‘اس حوالے سے ان کے مشاہدات کا خلاصہ تھا کہ ہم سے بھی بہت غلطیاں بھی ہوئیں۔ انہیں جنرل نیازی سے بھی شکایات ہیں ‘لیکن جنرل ٹکا خان کے ذکر پر ان کا لہجہ تلخ تر ہوجاتا ہے۔ سیاستدانوں کی موجودہ کھیپ میں‘ عمران خان ان کے لیے قابلِ ترجیح ہیں لیکن انہیں گلہ ہے کہ خان ''کا نوں کا کچا‘‘ ہے(اس کے لیے وہ پنجابی کا لفظ''لائی لگ‘‘ استعمال کرتے ہیں) سلطان محمد کے صاحبزادے ڈاکٹر آفتاب سلطان‘ شوکت خانم ہسپتال کے تینوں پراجیکٹس (لاہور ‘پشاور ‘کراچی) کے چیف ایگزیگٹو ہیں۔انہوں نے ہنستے ہوئے کہا:آفتاب کا والد ہونا سلطان محمد کے لیے باعث فخر نہیں‘ بلکہ آفتاب کیلئے باعث اعزاز ہے کہ وہ سلطان محمد کے صاحبزادے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *