ناکامی اور حل

ان کا خیال تھا۔ عمران خان کی ہر قسم کی فائل ان کے پاس ہے۔ اسے وزیراعظم بناتے ہیں۔ ہمیشہ ان سے دب کر رہے گا۔ آسانی سے بلیک میل ہوتا رہے گا۔ کبھی اختیارات نہیں مانگے گا۔ نہ کبھی سویلین سپریمیسی کی بات کرے گا۔ ایک نمائشی وزیراعظم ہو گا۔ جبکہ اصل حکومت ہم کریں گے۔ اپنی مرضی کا بجٹ لیں گے۔ بلکہ بجٹ سے مبرا بھی خرچے مانگتے رہیں گے۔ عمران کو مانگنا آتا ہے۔ ڈالروں کی کبھی کمی نہیں ہو گی۔ بس یہی سوچ کر اس کی امیج بلڈنگ کی گئی۔ الیکشن جتوایا گیا۔ اور نیا سیٹ اپ وجود میں آ گیا۔ دوسری جانب نوازشریف کا امیج اپنے تئیں تباہ کیا گیا۔ اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔ اور سوچ لیا گیا۔ اب خیر ہی خیر ہے۔ بلکہ ستے خیراں ہیں۔ اور پھر نو ماہ بعد معلوم ہوا۔ خیر تو بالکل نہیں۔ عمران خان آج تک کی ملکی تاریخ کا سب سے کمزور وزیراعظم ہے۔ جو اپنے اختیارات کے حوالے سے مکمل خاموش ہے۔ حکومت کوئی اور کر رہا ہے۔ یہاں تک تو پلان مکمل ہو گیا۔ لیکن جو سیٹ اپ بنایا تھا۔ وہ تو اپ سیٹ ہو چکا۔ ڈالر آئے نہیں۔ وہ اختیارات استعمال تو کر رہے۔ لیکن مہنگاء اور غربت اور بے روزگاری بڑھ رہی۔ خسارہ بڑھ رہا۔ ریاست کی آمدن بڑھنے کی بجائے کم ہو رہی۔ اور تنخواہوں کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ پٹرول ، بجلی ، گیس اور روز مرہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں دن رات ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔ روپئے کی گراوٹ جاری ہے۔ سیاسی عدم استحکام اور معاشی بے یقینی ملک کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال رہی۔ ایسے میں وہ ادارے جو اس ملک کے تحفظ، استحکام اور معاشی ترقی کے ضامن ہیں۔ وہ کب تک خاموش رہ سکتے ہیں۔ یا تو وہ اس ناکام سیٹ اپ کے تسلسل پر قائم رہیں۔ اور اپنے حصے کی بدنامی سمیٹتے رہیں۔ اور یا پھر حالات و واقعات سے سبق حاصل کریں۔ اور اس ملک کے عوام کو ایک صاف شفاف جمہوری نظام اور غیر جانبدار انتخابات کے ذریعے اپنے حکمران چننے کا موقعہ دیں۔ اور پھر ان حکمرانوں کو یہ ملک چلانے دیں۔ یاد رکھیں۔ یہ ملک سیاستدانوں نے بنایا تھا اور سیاستدان ہی اس ملک کو چلائیں گے۔ پہلے بھی عرض کیا تھا۔ ملک کو یکجا اور متحد رکھنے کے لیے مندرجہ ذیل عناصر بنیاد مہیا کرتے ہیں۔

1۔ قومی سیاسی پارٹیاں 2۔ قومی سطح پر مقبول سیاسی رہنما 3۔ ووٹ اور جمہوریت یعنی اپنے حکمران چننے کا عوامی اختیار 4۔ باہمی منحصر تجارتی منڈیاں 5۔ صوبائی خودمختاری بدقسمتی سے پہلے تین عناصر مہیا کرنے کی بجائے بوجہ ان کی توڑ پھوڑ کی گئی۔ اور آخری دو عنصر کبھی ہماری ترجیح نہیں رہے۔ ہاں اٹھارویں ترمیم ایک اہم قدم ضرور ہے۔ ان پانچ عناصر کو مذہب اور ایک طاقت ور اور بالا دست مقتدرہ سے یہ کہہ کر تبدیل کیا گیا۔ کہ یہ دو عناصر یعنی مذہب اور طاقت ور مقتدرہ ہمارے ملک کو متحد رکھ سکتے ہیں اور معاشی و سماجی ترقی لا سکتے ہیں۔ نتائج سب کے سامنے ہیں۔ اگر وزیراعظم آئینی اختیارات کی بات کرے۔ وزیراعظم نااہل ، اگر کوئی سیاستدان آئین پر اصرار کرے۔ سیاستدان جیل میں یا جلاوطن ، اگر کوئی سیاستدان آئین کی تکرار کرے۔ اگر کوئی جج آئین کی بات کرے۔ اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے خلاف فیصلہ دے۔ جج کے خلاف ریفرنس اور جج فارغ ، اگر چھوٹے صوبوں کا کوئی سیاسی رہنما آئین کی بات کرے۔ وہ ملک دشمن اور غدار اور مقدمات کا حق دار ، اگر کوئی صحافی آئین کی بات کرے۔ وہ صحافی غائب اور پھر اس کی لاش برآمد، اگر کوئی اخبار یا میڈیا ہاوس آئین کی بات کرے۔ اس کے اشتہار بند۔ اگر کوئی وکیل آئین کی بات کرے۔ اس کا لائسنس منسوخ ، اسٹیبلشمنٹ آئین سے مبرا اختیارات استعمال کرتی ہے۔ اور جو اس اسٹیبلشمنٹ کو اس کا آئینی کردار یاد کروائے۔ وہ قابل گردن زدنی ٹھہرتا ہے۔ بس یہی مختصر کہانی ہے ہمارے ملک کی۔ جب کہ اس دلدل سے نکلنے کا راستہ ہم نے بتا دیا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *