لڑائی تو کپتان کو ہی لڑنی ہے

" عاصمہ شیرازی "

کوئی بھی سیاسی حکومت عدلیہ، میڈیا اور سیاست دانوں کو بیک وقت ہاتھ لگانے سے ڈرتی ہے سوائے موجودہ حکومت کے۔ اب یہ خان صاحب کی دلیری سمجھیں، تابع داری یا حد درجہ خود کشی کا شوق، یہ صرف کپتان ہی کر سکتے ہیں سو وہ کر رہے ہیں۔

جنرل مشرف کے دورِ آمریت میں میڈیا آزاد تھا عدلیہ پابند۔ پھر عدلیہ آزاد ہوئی اور دھیرے دھیرے میڈیا کو پابند کر دیا گیا۔ صحیح یا غلط میڈیا نے اپنی بساط کے مطابق عدلیہ کو حد سے زیادہ آزادی دلوانے میں کامیاب کردار ادا کیا اور نتیجہ ادارے سے زیادہ فقط افتخار چوہدری صاحب کی خود مختاری اور وکلا گردی پر منتج ہوا۔

مقتدر قوتوں نے سبق حاصل کیا کہ آئندہ سیاسی حکومتوں کو قابو میں لانے کے لیے حادثاتی کردار بہت ضروری ہوں گے۔ میڈیا اس کا پہلا شکار ہوا اور عدلیہ شاید دوسرا۔

موجودہ حکومت کے وجود میں آتے ہی سب سے پہلے میڈیا مالکان کے گرد شکنجے کسے گئے۔ کچھ قدرتی اور کچھ مصنوعی بحران پیدا کیا گیا۔ حکومتیں بدلنے کا زعم رکھنے والے مقتدر مالکان کی طنابیں ایسے کھینچی گئیں کہ اُن کو آزادی اظہار کے اصل معنی معلوم ہو گئے۔

کچھ کو ٹی وی سکرینوں سے غائب کر دیا گیا، جو شرپسند بچ گئے اُن کے خلاف کردار کشی کی مہم کا آغاز کر دیا گیا۔ جو گولی سے نہ ڈرتے تھے اُنہیں گالی سے زخمی کرنے کی کوشش جاری ہے۔

ایسا کرنے والے جانتے ہیں کہ کامیابی اُن کا مقدر نہیں پھر بھی کوششیں جاری ہیں۔ آخر جنرل ضیا الحق کے زمانے میں بھی تو لگ بھگ دس ہزار شرپسندوں کی فہرستیں تیار ہوئی تھیں، چھ ہزار کی اب بن جائے تو کیا؟

محاذ عدلیہ کا ہو یا پی ٹی ایم کا، پنجاب کی قیادت کی جیل بندی کا یا سندھی رہنما کی گرفتاری کا، بلوچ ناخوش ہو ں یا ایم کیو ایم روٹھی ہو، میڈیا بے زبان ہو یا عدلیہ سے محاذ آرائی، لڑائی کپتان کو ہی لڑنا ہے۔۔۔ چہرہ سیاسی ہی ہے۔

اپوزیشن کرداروں کی بے بسی اور میڈیا کی بے حسی دیکھ کر یہ اندازہ لگا لیا گیا ہے کہ عدلیہ کو قابو کیا جا سکتا ہے مگر یہ لڑائی بے حد خطرناک ہے۔ قاضی فائز عیسی اور کے کے آغا کا ریفرنس چو مکھی لڑائی کا سب سے اہم حصہ ہے۔

سیاست دانوں کو اہم گراؤنڈ اور وکلا کو اہم محاذ دستیاب ہو گیا ہے۔ آئی ایم ایف کی اُفتاد سر پر ہے، کپتان ساری لڑائیاں لڑ لیں گے مگر جماعت کے اندر متبادل کی جنگ، حکومتی کارکردگی اور معاشی محاذ پر مسلسل پسپائی وکٹ کمزور کر سکتی ہے۔

ایسے میں کمر توڑتی مہنگائی اور معاشی بے یقینی ہی آنے والے دنوں کا اہم چیلنج ہو گا۔

عمران خان

فواد چوہدری نے اشارہ دیا ہے کہ سیاسی حکومتیں پرفارم نہ کریں تو پھر کسی اور کو ہی کرنا پڑتا ہے

فواد چوہدری صاحب نے اشارہ دیا ہے کہ سیاسی حکومتیں پرفارم نہ کریں تو پھر کسی اور کو ہی کرنا پڑتا ہے۔ حکومت میں موجود غیر منتخب لوگ جماعت کے لیے اصل مسئلہ ہیں حالانکہ اُن میں سے اکثریت کو مجبوری میں لایا گیا ہے تاہم تحریک انصاف کی بڑی اکثریت دیگر جماعتوں سے لائے گئے اور پھر نافذ کئے گئے لوگوں سے خوش نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کے اندر ہیجانی کیفیت ہے جو بجٹ اجلاس میں باہر آ سکتی ہے۔ وزیراعظم نے اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے تنظیمی کمیٹی بر طرف اور کور کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں صرف پی ٹی آئی کے اراکین ہی ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس غیر منتخب گروہ کے قبضے میں ہے۔ پنجاب کا طرزِ حکمرانی بھی مقتدر حلقوں کو کھٹک رہا ہے کیونکہ اُن کی اچھی خاصی محنت محض خراب کارکردگی کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔

اسی لیے مقتدر حلقے کی شخصیت جیل میں بند نواز شریف کو آسائش فراہم کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ کچھ راستہ ملے جو تاحال دستیاب نہیں ہو رہا۔

کیا حالات ایسے بن رہے ہیں یا بنائے جا رہے ہیں کہ سب سڑکوں پر ہوں؟ اگر بجٹ منظور نہ ہوا تو پھر موجودہ آئنی بحران کیا صورت اختیار کرے گا؟

سیاسی تاریخ میں اکتوبر کا موسم تبدیلی لاتا ہے یا تبدیلی کی راہ متعین کرتا ہے۔ یہ تبدیلی کیسی ہو گی؟ اس کے لیے نومبر دسمبر تک دیکھیں اور انتظار کریں۔

بشکریہ بی بی سی اُردو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *