عید کا سماں اور گزرے ہوئے زمانے

انگلستان ایسے انگریزوں سے بھرا ہوا ہے جو پرانے انگلستان کو روتے ہیں۔ ان پرانے طرز کے انگریزوں کے مطابق گزرا ہوا انگلستان... یعنی مسز مارگریٹ تھیچر سے پہلے کا انگلستان... زیادہ بھلا تھا۔ لوگ زیادہ مہذب ہوا کرتے تھے اور پیسہ ہی ہر چیز نہیں تھا۔ 
اس تصور میں کچھ مبالغہ ہے کیونکہ پرانے طرز کے انگریز عموماً وہ ہیں جو دنیاوی لحاظ سے سوکھے ہوں‘ یعنی انہیں حصولِ روزگار کی اتنی فکر نہ ہو۔ ہر معاشرے میں سوکھے لوگ یہی چاہتے ہیں کہ اُن کی دنیا نہ بدلے اور زندگی نے انہیں جو آسائشیں اور مراعات مہیا کی ہیں‘ وہ ہمیشہ کے لئے قائم رہیں۔
ہم اتنے سوکھے تو نہیں‘ لیکن سوچ کی حد تک پرانے پاکستانی ہیں۔ یعنی ہم بھی پرانے پاکستان کو ترستے ہیں، وہ پاکستان جو ذوالفقار علی بھٹو کے اقدار تک قائم تھا‘ اور جس کو ضیا دور نے قصۂ پارینہ بنا دیا۔ یہ وہ پاکستان تھا جس میں موجودہ وقتوں کی نسبت زیادہ سوشل آزادیاں تھیں۔ ہوٹلوں اور کلبوں میں اُن چیزوں کی ممانعت نہ تھی جو کہ آج قانون و روایت کا حصہ بن چکی ہیں۔ جن آزادیوں کی تلاش میں پاکستانی دوبئی اور بنکاک کا رخ کرتے ہیں‘ وہ اس زمانے کے پاکستان میں موجود تھیں۔ ظاہر ہے کہ پیسے اور طبقات کا فرق‘ جیسے آج ہے‘ تب بھی موجود تھا۔ کلبوں اور بڑے ہوٹلوں میں کچھ طبقات کے لوگ ہی جاتے تھے۔ لیکن پھر بھی وہ دشواریاں نہ تھیں جو کہ آج معاشرے کا حصہ بن چکی ہیں۔ 
ہم جیسے لوگوں کو حالات نے اس چیز کی اجازت دی تھی کہ ہم انگلش میڈیم سکولوں میں جاتے۔ آج کی نسبت عمومی معیارِ تعلیم تب بہتر تھا‘ لیکن پھر بھی جہاں سرکاری نظامِ تعلیم تھا وہاں چیدہ چیدہ انگلش میڈیم سکول بھی موجود تھے۔ اُن کا معیارِ تعلیم آج کے انگلش میڈیم سکولوں سے کہیں بہتر تھا کیونکہ اساتذہ کا معیار بالکل ہی مختلف تھا۔ میں تین سال مری کے سینٹ ڈئنیز سکول میں رہا‘ اور پھر آٹھ سال لارنس کالج میں گزارے۔ سینٹ ڈئنیز کی استانیاں اور لارنس کالج کے استاد آج کل کے پاکستان میں کہیں نہیں ملیں گے۔ وہ لا جواب قسم کے اساتذہ تھے اور سوائے تعلیم و تدریس کے اُن کا زندگی میں اور کوئی مطمح نظر نہ تھا۔ وہ تو درویش منش لگتے تھے کیونکہ سکول اور کالج کے باہر اُنہیں کسی چیز سے دلچسپی نہ تھی۔ اُنہیں کوئی سروکار نہ تھا کہ فلاں سوسائٹی یا ہاؤسنگ سکیم میں پلاٹ یا گھر ہو۔ اُن کی ہاؤسنگ سوسائٹی اُن کی درسگاہ ہی تھی۔ 
اگر سلسلۂ تعلیم کو نشوونما کہا جائے تو ہماری نشوونما اس ماحول میں ہوئی۔ ذہن بھی وہاں بنا اور جو مضبوط یا کمزور اقدار تھیں‘ وہ بھی وہیں سے پائیں۔ سینئر کیمرج کا امتحان دیا اور ایک ڈیڑھ سال بعد بہ امر مجبوری... چونکہ گھریلو حالات ایسے تھے... فوج میں چلے گئے۔ فوج کا پہلا مرحلہ پی ایم اے کاکول میں دو سال کی ٹریننگ تھی۔ اور تب وہاں کا ماحول بھی آج سے قطعاً مختلف تھا۔ جو ہمارے فوجی اساتذہ تھے‘ جنہیں پلاٹون یا کمپنی کمانڈر کہا جاتا ہے‘ بڑے معیار کے افسران تھے۔ تب ادارے میں رہنے والوں کی سوچ بالکل مختلف تھی۔ میرے اپنے پہلے پلاٹون کمانڈر کیپٹن شاہد عزیز تھے جو بعد میں بریگیڈیئر کی رینک سے ریٹائر ہوئے اور جو اب اس دنیا میں نہیں۔ کیا کمال کے افسر تھے۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے پلاٹون میں کوئی بھی ایسا کیڈٹ نہ ہو گا جس کے ذہن پہ انہوں نے گہرا اثر نہ چھوڑا ہو۔ 
وہ دور تھا یحییٰ خان کا جو کہ فوج اور ملک‘ دونوں کے سربراہ تھے۔ اُس دور کے جرنیلوں سے بہت غلطیاں ہوئیں اور انہی کے نیچے ملک دو لخت ہوا‘ لیکن اُس دور کے جرنیلوں کا اصلی قصور یہ تھا کہ ملک میں حالات ایسے پیدا ہوئے جس کی سمجھ اور ادراک وہ نہ رکھتے تھے۔ حالات کی یہ سنگینی نہ ہوتی تو شاید تاریخ کچھ اور ہوتی۔ زیادہ تر اس دور کے جرنیل ذاتی لالچ وغیرہ سے مبرّا تھے۔ اپنے طور پہ اچھا وقت گزارتے تھے لیکن جو مار دھاڑ آج کے پاکستان کا حصہ بنی ہوئی ہے‘ اس کے وہ مجرم نہ تھے۔ یحییٰ خان اپنی اولاد کیلئے کوئی لمبی چوڑی جائیداد نہ چھوڑ کے گئے۔ اُن کے بعد کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل گل حسن بنے۔ وہ بڑے خوش لباس تھے۔ شام کو کلبوں میں جاتے لیکن اُن کے نام کوئی جائیداد نہ تھی۔ انہوں نے تو شادی بھی نہ کی تھی۔ فوج کی کمانڈری کے بعد آسٹریا میں سفیر لگے‘ اور وہاں نسبتاً بڑی عمر میں ایک میم سے شادی کر لی۔ لیکن وہ زیادہ دیر نہ رہی۔ واپس پاکستان آئے تو راولپنڈی کلب کے ایک کمرے میں رہائش اختیار کی اور وہیں اُن کی وفات ہوئی۔ ایک اُن کی سوزوکی مارگلہ گاڑی تھی جو انہوں نے وصیت کے ذریعے اپنے فوجی ڈرائیور کو منتقل کر دی۔ ایسے تھے اس وقت کے سینئر جرنیل۔ 
ہم جب افسر بنے تو اسی ماحول میں قدم رکھا۔ پیسے جیب میں ہوتے نہیں تھے۔ لیکن شام کو فوجی رواج کے مطابق قمیص پہ ٹائی سجائے مقامی فوجی کلب میں چلے جاتے اور جیب خالی بھی ہوتی تو اس سے فرق نہ پڑتا کیونکہ بل پہ دستخط کر دیتے اور مہینے بعد اپنی محدود تنخواہ سے وہ ادا ہو جاتا۔ 71ء کی جنگ لاہور کے ارد گرد تعیناتی میں گزری۔ ہماری ائیر ڈیفنس یونٹ کے ذمے چار مقام تھے: وزیر آباد کے قریب دریائے چناب کا پل، شاہدرہ لاہور میں دریائے راوی والا پل، بی آر بی کینال پہ سائیفن نامی مقام اور دریائے ستلج پہ ہیڈ سلیمانکی۔ ملاحظہ ہو کہ اتنا لمبا محاذ، اتنے اہم مقامات اور ہوائی حملوں سے دفاع کیلئے صرف ایک ائیر ڈیفنس یونٹ۔ دورانِ جنگ ضرورت محسوس کی گئی کہ کچھ ائیر ڈیفنس گنوں کا موبائل کالم ہو جو بوقتِ ضرورت اِدھر اُدھر جا سکے۔ دس گنوں کا یہ کالم بنا اور اُس کی کمان مجھے سونپی گئی۔ پہلے اطلاع ہوئی کہ پاک فوج ایک بڑا حملہ ہیڈ سلیمانکی کے آگے سے کرے گی۔ مجھے آرڈر وہاں جانے کا ملا۔ دورانِ سفر ہی دوسرا آرڈر ملا کہ حملہ لاہور کے شمال سے ہو گا۔ رات کی تاریکی میں ہم دوسری جانب چل پڑے۔ اسی دوڑ دھوپ میں جنگ گزر گئی۔ آخری روز جب ہندوستانی فوج نے ڈھاکہ پہ قبضہ کر لیا تھا تو میری گنیں پتوکی کے قریب ایک ریلو ے پل کے گرد تھیں کہ یحییٰ خان قوم سے خطاب کرنے ریڈیو پہ آئے۔ آواز سے پتہ چل رہا تھا کہ عالم مستی میں ہیں۔ اُنہوں نے اعلان کیا کہ ایک معرکہ ہارے ہیں، جنگ جاری رہے گی۔ اگلے روز ڈھاکہ میں ہتھیار ڈال دئیے گئے۔
عنوان میں عید کا ذکر ہے اور بات کہیں اور چل نکلی۔ لیکن کہنے کا مدعا یہ ہے کہ عید آتی ہے تو خیال وہی اُٹھتا ہے کہ آج کے ماحول میں ہم جیسے عید کیا منائیں اور کیسے منائیں۔ وہ 1971ء کے بعد کا پاکستان ہوتا اور جیسی شامیں تب گزاری جاتی تھیں کچھ ایسا اہتمام ہوتا۔ ہم تب نوجوان تھے اور جب اپنے سے بڑی عمر والوں کو دیکھتے تھے تو حسرت پیدا ہوتی تھی کہ ایک دن ہم بھی ان جیسی مونچھیں رکھ کے کسی موزوں کلب یا ہوٹل میں قدم رکھ رہے ہوں گے۔ 
جب کچھ دن گورنمنٹ کالج لاہور میں گزارے تو شام کو مال پہ سیر کا اتفاق ہوتا۔ جہاں پرانا لارڈز ریسٹورنٹ ہوا کرتا‘ تھا وہاں ایک پرانی سفید رنگ کی امریکن کیڈیلیک گاڑی کھڑی ہوتی تھی۔ صفائی کا تردّد اُس پہ زیادہ نہ دکھائی دیتا تھا۔ شام ڈھلے کسی قریب کے فلیٹ سے ایک صاحب نمودار ہوتے۔ انہوں نے ڈبل بریسٹ سوٹ پہنا ہوتا۔ ٹائی باندھی ہوتی اور کئی دفعہ سر پہ ہیٹ بھی ہوتا۔ گاڑی میں بیٹھتے اور کہیں چل دیتے۔ پتہ نہیں کہاں جاتے تھے لیکن اتنے سال بعد ذہن میں خیال آتا ہے کہ کسی کلب میں ہی جاتے ہوں گے۔ 
وہ زمانے پتہ نہیں کہاں لٹ کے رہ گئے۔ اب ہم ہیں اور ایسی یادیں۔ عید آئے یا نہ آئے کیا کریں۔ کبھی کوئی کتاب پڑھ لیتے ہیں یا موسیقی لگا لیتے ہیں۔ اور جی میں آرزوئیں کیا اُٹھتی ہیں‘ اُن کا ذکر نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *