کیا ویب ٹیکنالوجی میں ترقی کے لیے فحش مواد آج بھی اہم ہے؟

دو ہزار سال آگے بڑھ جائیں تو شمالی پیرو میں چینی کے برتنوں پر سیکس کے مناظر ملتے ہیں۔ انڈیا میں 'کاما سوترا' بھی اسی دور کا ہے

اعداد و شمار کے مطابق ویب پر ہر سات میں سے ایک سرچ کسی پورن ویب سائٹ کے لیے کی جاتی ہے۔ یہ چھوٹا نمبر نہیں لیکن اس کا مطلب ہے کہ ہر سات میں سے چھ بار سرچ پورن کے لیے نہیں ہوتی۔

پورن کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویب سائٹ ’پورن ہب‘ تقریباً اتنی ہی مقبول ہے جتنی ’نیٹفلِکس‘ یا ’لِنکڈ اِن‘ جو معمولی بات نہیں لیکن اس کے باوجود سب سے مقبول ویب سائٹوں کی فہرست میں اس کا نمبر 28واں ہے۔

نئی ٹیکنالوجی ہمیشہ مہنگی اور زیادہ قابل اعتبار نہیں ہوتی۔ اسے اپنے مداحوں کی خصوصی مارکیٹ چاہیے ہوتی ہے جن سے حاصل ہونے والی آمدنی کی مدد سے اس میں بہتری لائی جاتی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس ٹیکنالوجی کی قیمت کم ہوتی ہے اور اس کی خامیاں بھی دور ہو جاتی ہیں، پھر اس کو استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔

انٹرنیٹ کے بارے میں بھی ایک تھیوری یہ ہے کہ پورن نے انٹرنیٹ اور دیگر ٹیکنالوجی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن یہ بات کتنی درست ہے؟

انسانی تاریخ میں آرٹ کے آغاز سے ہی سیکس اس کا ایک موضوع رہا ہے۔ قبل از تاریخ غاروں میں انسانی جسم کے مختلف حصوں کی تصاویر ملتی ہیں۔ اس کے بعد گیارہ ہزار سال پرانی تصاویر ملتی ہیں جن میں انسان سیکس کر رہے ہیں۔

چار ہزار سال قبل عراق میں ایک فنکار نے مٹی کی تختی پر ایک مرد اور عورت کو سیکس کرتے ہوئے دکھایا جس میں عورت سٹرا سے شراب کا لطف بھی اٹھا رہی ہے۔

پورن ویب سائئٹ

دو ہزار سال آگے بڑھ جائیں تو شمالی پیرو میں چینی کے برتنوں پر سیکس کے مناظر ملتے ہیں۔ انڈیا میں ’کاما سوترا‘ بھی اسی دور کا ہے۔

لیکن لوگوں کا سیکس کے مناظر کو پینٹ کرنے یا تراشنے کا یہ مطلب نہیں کہ آرٹ کی ترقی میں پورن نے سب سے اہم کردار ادا کیا۔

گٹنبرگ کے پرنٹنگ پریس کی مثال دی جا سکتی ہے۔ وہاں پر بہت سی شہوت انگیز کتابیں شائع ہوئیں لیکن اصل ڈیمانڈ مذہبی کتابوں کی تھی۔

انیسویں صدی میں فوٹوگرافی کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اس زمانے میں کچھ عرصے کے لیے شہوت انگیز تصویر کی قیمت سیکس ورکر سے زیادہ تھی۔

پھر فلموں کا زمانہ آ گیا۔ فلم بنانا مہنگا کام تھا اور اسے منافع بخش بنانے کے لیے شائقین کی ایک بڑی تعداد ضروری تھی۔ بہت سے لوگ گھر میں یا تنہائی میں تو پورن دیکھنا چاہتے تھے لیکن اس کے لیے کسی عوامی جگہ پر نہیں جانا چاہتے تھے۔

اس مسئلے کا ایک حل 1960 کی دہائی میں متعارف ہونے والے ’پیپ شو‘ تھے جن میں آپ اکیلے بوتھ میں بیٹھ کر مشین میں سکے ڈالتے تھے اور فلم چلتی رہتی تھی۔ ایک بوتھ سے ہفتے میں ہزاروں ڈالر کی آمدن ہو جاتی تھی۔

اس کے بعد بڑی تبدیلی وی سی آر کی صورت میں آئی۔ ابتداء میں تو یہ مشین بہت مہنگی تھی اور ایک اہم سوال یہ تھا کہ ایک ایسی مشین کا خرچ کون اٹھائے گا جس کی عمر ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بہت کم تھی۔ اس نئی مشین کی مدد کو وہ لوگ آئے جو گھر بیٹھ کر پورن دیکھنا چاہتے تھے۔

1970 کی دہائی کے آخر میں زیادہ تر سیل پورن کی وڈیو ٹیپ کی صورت میں تھی۔ کچھ ہی عرصہ میں اس کی قیمت اتنی کم ہو گئی کہ جو لوگ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر عام فلمیں دیکھنا چاہتے تھے انہوں نے بھی اسے خریدنا شروع کر دیا۔ جب مارکیٹ پھیلی تو پورن کا شیئر اس میں کم رہ گیا۔

کیبل ٹی وی اور پھر انٹرنیٹ کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ 1990 کی دہائی میں ایک تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر چھ میں سے شیئر ہونے والی پانچ تصاویر پورن کی تھیں۔ اس کے کچھ برسوں بعد ’انٹرنیٹ چیٹ روم‘ کے بارے میں بھی ایسی ہی تحقیق سامنے آئی۔

لوگوں میں پورن دیکھنے کی خواہش نے انٹرنیٹ کے تیز اور بہتر کنیکشن اور بڑی ’بینڈ وڈتھ‘ کو ممکن بنانے میں مدد دی۔ آن لائن پر پورن فراہم کرنے والے ویب کی بہت سی نئی ٹیکنالوجی کا کریڈٹ لے سکتے ہیں۔

ان کی مدد سے انٹرنیٹ تیزی سے پھیلا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس پر پورن کم اور اس کا دیگر استعمال بڑھ گیا۔ اور آج کے دور میں انٹرنیٹ ہی پورن فلموں میں کام کرنے والوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔

روبوٹ

کیا پورن فلموں میں روبوٹ کا استعمال بڑھ جائے گا؟

اب انٹرنیٹ پر اتنا پورن موجود ہے کہ اس کو بیچنا مشکل ہو رہا ہے۔ ایسی فلموں میں کام کرنے والے کم ریٹ پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ غیر قانونی طور پر فروخت کیے جانے والا پورن بھی آمدن میں کمی کی ایک وجہ ہے اور اس کو انٹرنیٹ سے ہٹانا بھی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

اس وقت پورن کی دنیا میں سب سے بڑی کمپنی ’مائنڈ گیک‘ ہے جو پورن ہب اور کئی ایسی ویب سائٹوں کی مالک ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک ہی بڑا خریدار ہونے کی وجہ سے فلم بنانے والوں کو اپنی قیمت کم کرنا پڑ رہی ہے۔ اس سے پورن میں کام کرنے والے افراد کی آمدن کم ہو رہی ہے جو وہ سب کچھ سستے داموں پر کرنے پر مجبور ہیں جو پہلے وہ نہیں کرتے تھے۔

ایک مشہور پروگرام میں ڈائیلاگ تھا کہ ’غیر مستحکم مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے سب سے محفوظ شعبہ پورن ہے‘۔ یہ کسی حد تک سچ ہے لیکن مکمل سچ نہیں۔

پورن میں یقیناً پیسہ ہے لیکن اس کو حاصل کرنے کے لیے آپ کو اس ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے جو پورن بنانے اور اس کی ترسیل میں مدد دیتی ہے۔ اب پورن کے لیے اگلا میدان شاید روبوٹ ہوں گے؟

ٹیکنالوجی میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنے میں سیکس کا کردار ابھی فوری طور پر ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *