عمر جتنی مختصر ہوگی حساب اتنا آسان ہو گا

رائٹر: سرمد سلطان

خالدحسینی۔۔مشہورمصنف ہیں۔۔انکاناول ہے۔۔Kite runner۔۔جوانکےخاندان۔۔طالبان کےعروج کےبعد۔۔وہاں سےہجرت کی کہانی بیان کرتاہے۔۔وہیں۔۔وہ اپنےدوست۔۔حسن کی بات کرتےہیں۔۔جس کاتعلق ہزارہ قبیلےسےہے۔۔پشتون علاقے میں۔۔خالدسےملنے۔۔کم آتاہے۔۔احتیاط سےآتاہے۔۔کتاب افغان حالات پرروشنی ڈالتی ہے۔۔

افغانستان میں۔۔ہزارہ۔۔افغان تنازعہ کاآغاز۔۔امیرعبدالرحمان کے دورمیں ہوا۔۔جب رحمان نے۔۔سب اختیارات اپنے پاس رکھنے کی کوشش کی۔۔انہوں نے۔۔چھوٹوں قبیلوں کی عملداری ختم کرنےکی کوشش کی۔۔اس دوران رحمان نے۔۔ان قبیلوں کاقتل عام۔۔جو اسکے چچا۔۔شیرعلی کی حمایت کررھےتھے۔۔جوسابق حکمران تھے۔۔

1888میں۔۔امیررحمان کے۔۔کزن۔۔محمداسحاق نے۔۔اسکےخلاف بغاوت کی۔۔شیعہ ہزارہ قبائل نے۔۔اسحاق کاساتھ دیا۔۔بغاوت کچلنےکیلئے۔۔رحمان نے۔۔شیعہ سنی کارڈکھیلا۔۔ہزاروں ہزارےوال قتل ہوئے۔۔اسکےبعد1892میں۔۔افغان فوجیوں کےہاتھ۔۔ایک ہزارہ عورت کی عزت آبروئی نے۔۔حالات خراب کردیئے۔۔

اہل ہزارہ کی بغاوت کچلنےکیلئے۔۔امیررحمان نے۔۔بڑی فوج اکٹھی کی۔۔جس کو۔۔انگریزوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔۔فوج نے۔۔ہزارہ قبائل کے مردوں کاقتل عام کیا۔۔انکی خواتین۔۔بچے۔۔بازاروں میں بیچےگئے۔۔اور۔۔اہل ہزارہ نے۔۔ہجرت اختیارکی۔۔وہ بلوچستان۔۔ایران۔۔خلیج ممالک میں جابسے۔۔

امیر رحمان نے۔۔بغاوت کچلنےمیں۔۔انگریزوں کی۔۔مدد کاشکریہ اداکیا۔خیرسگالی کےطورپر۔۔مشہورزمانہ معاہدہ۔۔ڈیورنڈ معاہدہ پر۔۔دستخط کئے۔۔جسکے تحت۔۔کئ علاقوں سے۔۔دستبرداری اختیارکی گئ۔۔اور اس طرح صوبہ سرحد کی۔۔نئ صورت سامنےآئی۔۔اب سوچیں۔۔انگریزوں کےساتھی۔۔ہزارےوال تھے۔۔یاامیررحمان۔؟

ہزارہ قبائل کے۔۔جن مشہور لوگوں نے۔۔ہجرت کی۔۔ان میں قندھار کےقاضی۔۔جلال الدین کاخاندان بھی شامل تھا۔۔جو قندھار کےقاضی تھے۔۔جوبعد میں۔۔ریاست قلات کے۔۔وزیراعظم بنے۔۔انہی کی وجہ سے۔۔قلات کےنوابین نے۔۔مسلم لیگ کی قیادت کےساتھ نرم سلوک رکھا۔۔جبکہ وہ صمد خان۔۔جیسےلوگوں کےخلاف تھے۔۔

قاضی جلال الدین کے۔۔بیٹے۔۔قاضی عیسی۔۔بلوچستان کے پہلےفرد تھے۔۔جنہوں نے۔۔قانون کی اعلی تعلیم حاصل کی۔۔1939میں۔۔بمبئ میں وکالت شروع کی۔۔قائدکےدوست تھے۔۔پھرمسلم لیگ کیلئےکام شروع کیا۔۔بلوچستان میں۔۔لیگ کی بنیادانہوں نےرکھی۔۔بلوچستان میں لیگ کاپہلا۔۔اجتماع انہوں نےہی کروایا۔۔

قرار داد لاھور کی۔۔ایک بدقسمتی ہے۔۔اسکی تائیدکرنے والے۔۔کاتوغدارقرار پائے۔۔یاانکی نسل غدارقرار پائی۔۔فضل الحق۔۔سھروردی۔۔نواب اسماعیل۔۔خواجہ ناظم الدین۔۔جی-ایم سید ہوں۔۔یاقاضی عیسی کےفرزند۔۔فائز عیسی۔۔قرار داد پاکستان میں یہ خامی پتہ نہیں کون لایا۔؟کیوں لایا۔؟

قاضی عیسی نے بلوچستان میں مسلم لیگ کیلئے۔۔بہت کام کیا۔۔بلکہ1946کے انتخاب میں انہوں نے۔۔سرحدمیں بھی۔۔مسلم لیگ کیلئےکام کیا۔۔وہ مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے۔۔کمعمررکن تھے۔۔1940سے47تک انہوں نے۔۔تین لاکھ میل کاسفرکیا۔۔جوقیام پاکستان کیلئےتھا۔۔مسلم لیگ کےنمائندہ اخبار۔۔الاسلام کےبانی تھے۔۔

لوگ پوچھتےہیں۔۔ایوب نے۔۔فاطمہ جناح کو۔۔غدار کیسےقرارددیا۔؟جواب میں۔۔زیڈ-اے-سلہری کاوہ کالم دکھایاجاتاہے۔۔جس میں فاطمہ جناح کے۔۔بھارت سےتعلقات کازکرہے۔۔ایوب اسکولہراتے۔۔مس جناح کو۔۔غدار کہتےتھے۔۔سلہری صاحب جیسی رسم آج بھی۔۔کچھ صحافی نبھارھےہیں۔۔بانیان پاکستان کو۔۔غدارکہنےکی رسم۔۔

بشکریہ : ٹوئٹر پوسٹ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *