وادی بدگماں کے ایک باسی کے نام

محمد مشتاق صاحب نے یہ سوال اٹھایا تھا :

کیا غامدی صاحب کے نزدیک صحابہ کی طرف منسوب اقوال حجت ہیں، خواہ ان کی سند کمزور ہو؟
غامدی صاحب کی تحریر اور تقریر کے اقتباسات اور کلپس آگے پھیلانے کاشوق رکھنے والے ایک دوست نے صبح درج ذیل پوسٹ کی تو اس پر احقر نے یہ سوال پیش کیا لیکن تا حال انھوں نے جواب نہیں دیا۔ شاید کسی نئی کلپ کی تلاش میں ہوں۔ المورد کے متعلقین، متبعین اور متاثرین بھی اس سلسلے میں طبع آزمائی کرسکتے ہیں۔
ویسے اس کے بعد کا سوال بھی ابھی سے نوٹ کرلیں: کیا صحابہ قرآن کی تفسیر کےلیے شعر کی طرف رخ کرتے تھے یا رسول اللہ ﷺ کی طرف؟
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے منبر سے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے:

یا أیھا الناس،علیکم بدیوانکم، شعر الجاھلیۃ، فإن فیہ تفسیرکتابکم ومعاني کلامکم.(الجامع لاحکام القرآن، القرطبی۱۰ /۱۱۰ )

’’لوگو، تم اپنے دیوان،یعنی اہل جاہلیت کے اشعار کی حفاظت کرتے رہو، اِس لیے کہ اُن میں تمھاری کتاب کی تفسیر بھی ہے اورتمھارے کلام کے معانی بھی۔‘‘

صحابہ میں دین کے جلیل القدر عالم ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے:

إذا خفي علیکم شيء من القرآن فابتغوہ في الشعر، فإنہ دیوان العرب.(المستدرک، الحاکم، رقم ۳۸۴۵)

’’قرآن کی کوئی چیز تم پر واضح نہ ہو رہی ہو تو اُسے (جاہلی) اشعار میں تلاش کرو، اِس لیے کہ یہی شاعری درحقیقت، اہل عرب کا دیوان ہے ۔‘

میرے سمیت سب قارئین نےاس کا یہی مطلب لیا کہ موصوف کے سوالات اسی پس منظر میں ہیں جہاں سے انھوں نے اقتباسات نقل کیے ہیں ۔ ان کے لفظ حجت کو فہم قرآن میں حجت سمجھا گیا۔  یوں ان کا سوال یہ ہوا کہ "کیا غامدی صاحب کے نزدیک صحابہ کی طرف منسوب اقوال (فہم قرآن میں )حجت ہیں، خواہ ان کی سند کمزور ہو؟  چنانچہ ان کی خدمت عرض کیا گیا کہ یہ اقوال فہم قرآن میں عربی زبان  کی اہمیت و ضرورت سے متعلق ہیں ،اس لیے کمزور ہوں یا مضبوط  یہ ایک غیر متعلق بات ہے ، یہاں ان کو زبان میں مہارت پیدا کرنے کے فن کو سیکھنے  کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے ۔اس لیے ان پر محدثین والی شرائط لاگو نہ کریں۔  اس پر انھوں پینترا بدلا اور کہا کہ آپ تو  فلاں اور فلاں وجہ سے میرے سوال ہی نہ سمجھ سکے۔ کبھی کہا میں نے دو سوال پوچھے ، کبھی فرمایا  کہ میں نے تین سوال پوچھے ۔ اور بپھرے  بیل کی طرح کبھی ادھر ٹکر اور کبھی ادھر ٹکر مارنے کے بعد سوالوں کی دوبارہ صف بندی کی۔ اب ان کے سوال یہ ہوگئے :

کیا میزان میں مذکور ان دو اقوال کی نسبت مذکورہ صحابہ کی طرف درست ہے؟ ان کی استنادی حیثیت کیا ہے؟
صحابہ کے ان اقوال سے استدلال کی حیثیت کیا ہے؟

جبکہ دوسرا سوال جس کواب انھوں نے تیسرا سوال  قرار دیا ، دوبارہ اپنی زنبیل میں ڈال لیا۔

اب کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ حضور والا یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ غامدی صاحب نے ان اقوال کو درست اور ثقہ سمجھ کر یہاں درج کیا ہے یا غلط سمجھ کر؟

مجھےکوئی بتائے کہ یہ سوال پوچھتے ہوئے جناب کی کامن سینس کام کر رہی تھی ؟ یہ مشتاق صاحب کے ہاں ہوتا ہوگا کہ مصنف کسی معاملے میں ایسے اقوال سے دلیل دے جو اس کے نزدیک غیر ثابت شدہ ہوں ۔ لیکن فرض کریں وہ اپنی ڈفلی میں کوئی ایسی نادر تحقیق دبائے بیٹھے ہیں جس سے وہ  ان اقوال کی سند کمزور ثابت کر دیں گے تو سیدھے اعتراض کریں کہ ان اقوال کی سند کمزور ہے ۔ بات ثابت ہو گئی تو مان لی جائے گی ورنہ شکریے کے ساتھ واپس ہو جائے گی۔ توپ سے مکھی مارنے کی مہم آخر کس لیے ؟ اور آپ کا شیر آیا شیر آیا کا شور اگر  درست ثابت ہوا بھی تو کیا ہو گا ؟ زیر بحث معاملے میں غامدی صاحب کی رائے پر کیا اثر پڑے گا؟ کیونکہ ان اقوال پر تو بنائے استدلال ہے ہی نہیں جیسا کہ برادرم عرفان شہزاد  سمیت کئی دوستوں نے نشان دہی کی ۔  رہا دوسرا سوال تو اگر آپ کو مبادی حدیث والا باب پڑھ کر بھی اس کی سمجھ نہیں آئی تو پھر کیا کیا جائے؟ ہم نے اسی کو تو واضح کیا تھا کہ صحابہ کے ان اقوال کی حیثیت وہی ہے جو ایک ماہر زبان کی رائے کی حیثییت ہے ، اسی لیے زمخشری کی مثال دی۔ کیونکہ معاملہ دین کا نہیں زبان کا ہے ۔ مگر آپ کا دھیان تو گدھوں اور گھوڑوں میں اٹکا ہوا ہے۔ {موصوف نے ایک کمنٹ میں ہمیں عربی کا ایک شعر بھی دے مارا تھا جس میں وہ ہمیں گدھے کی سواری کی سنت ادا کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ }

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ انسان بدگمانی کے گٹر میں گر جائے تو اس پر کیا قیامت گزر جاتی ہے۔ میں یہ نہیں تسلیم کر سکتا کہ مشتاق صاحب جیسا صاحب علم میرے جیسے دین کے بہت ہی معمولی طالب علم کے ساتھ ایسی نادر بحث کرے گا۔ مجھے ان سے بات کرنے کا حوصلہ تبھی ہوا جب میں جان گیا کہ وہ بدگمانی میں ، غامدی صاحب کی غلطی نکالنے کے جنون  میں خلط مبحث کا شکار ہو گئے ہیں ۔  یا پھر انھوں نے وہی واردات کی ہے جو ایک فقیہ نے مٹھائی والے سے کی ۔ اس نے حلوائی کہا کہ پائو برفی دے دو ۔ اس نے دے دی ۔ پھر بولا اوہو نہیں ، پائو جلیبی دے دو ۔ اس نے دے دی ۔ فقیہ نے برفی کا لفافہ واپس کر دیا اور چلنے لگا۔ حلوائی نے کہا حضرت پیسے ؟ بولا : کس کے ؟ اس نے کہا جلیبی کے ۔ فرمایا اس کے بدلے تمہیں پائو برفی دے دی ہے ۔ وہ بولا چلیں آپ برفی ہی کے دام دے دیں ۔ حضرت بولے وہ تو میں نے لی نہیں ۔ اس بحث میں کون جیتا یہ تو خیرمشتاق صاحب ہی بتا سکتے ہیں ۔ اور آخر میں اس ساری سخن گسترانہ باتوں کی معذرت ،البتہ مجھے اس کا دکھ ہے کہ انھوں نے میرے بچوں کے لیے لکھے ناول " جن کی ڈائری " کو ہلکا لیا۔ نہیں حضور یہ ہیری پورٹر سے بھی آگے کی چیز ہے ۔ آپ نے اسے نہیں پڑھا  تو میں کیا کہہ سکتا ہوں کیونکہ بندر کا جانے ادرک کا سواد ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *