اکنامک سروے کے اہداف میں ناکامی کیوں؟

عمران خان کی حکومت کا پہلا مالیاتی بجٹ: اکنامک سروے کے اہداف میں ناکامی کیوں؟

پاکستان کے وفاقی مشیرِ خزانہ عبد الحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ ’میرا ارادہ خوف و ہراس پھیلانے کا نہیں لیکن کل (منگل) بجٹ میں عوام کے سامنے ملکی معیشت کی درست صورتحال اور اس سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو پیش کیا جائے گا۔‘

وہ اسلام آباد میں سنہ 2018-19 کے لیے اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کر رہے تھے۔

مشیرِ خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کے باوجود حکومت نے غریب طبقے پر بوجھ نہیں ڈالا اور نئے بجٹ میں بھی نچلے طبقے پر بوجھ نہیں پڑنے دے گی۔

حکومت اقتصادی سروے کے تقریباً تمام اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

قومی اقتصادی سروے کے خدوخال پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ ہارون شریف کا کہنا تھا کہ سال 2018-2019 کے لیے مقرر کردہ اہداف غیر حقیقی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ترقی کے جو اہداف ہوتے ہیں ان کو اگر تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو ہماری ملکی معیشت کا رحجان اس حوالے سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے ’ہماری ترقی کی شرح نمو اوپر جاتی ہے پھر انتظامی ڈھانچے کی سپورٹ نہ ملنے کی وجہ سے نیچے گرتی ہے۔ اس طرح ہم اپنے اہداف نہیں حاصل کر پاتے۔ اور پھر چند برس میں آہستہ آہستہ دوبارہ بڑھنا شروع ہوتی ہے۔ اگر اس حساب سے دیکھا جائے تو جو اہداف رکھے گئے تھے ان کو حاصل کرنا خاصہ مشکل تھا۔‘

ہارون شریف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ترقی کی شرح نمو کے ہدف کو حاصل نہ کرنے کی بڑی وجہ ہماری معیشت پر سٹیبلائزیشن کا دباؤ تھا اور ہماری برآمدات بہت کم جبکہ درآمدات کا بوجھ بہت زیادہ تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک کو مرکزی پلاننگ سے نکل کر بڑے واضح اور حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کرنے چاہییں اور ’ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے آنرشپ لینی ہوگی تاکہ عام آدمی کو سمجھ آئے کہ ہماری معاشی ترقی کے مسائل کیا ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہماری ترقی کے شرح نمو میں کردار ادا کرنے والے عوامل میں سروسز سیکٹر 50 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔ جبکہ زرعی اور بڑے صنعتی شعبے کی شرح نمو گذشتہ 30 برس سے تقریباً وہی رہی ہے۔

اکنامک سروے

ان کا کہنا تھا کہ جن ممالک نے اپنی ترقی کی شرح نمو کو مستحکم کیا ہے انھوں نے یہ صرف سروسز سیکٹر سے نہیں بلکہ دیگر شعبوں میں بھی ترقی سے حاصل کیا ہے۔

ان کے مطابق ’پاکستان کو اپنی پراڈکٹ انوویشن کو بڑھانا ہے، صنعتی پیدوار بڑھانی ہے اور سب سے اہم اپنے برآمدات کا زرمبادلہ بڑھانا ہے۔

'جب تک ہم معیشت کی صورت میں ان عوامل پر اہم سٹریکچرل تبدیلیاں نہیں کریں گے تب تک ہم اس ہی سائیکل میں پھنسے رہیں گے۔'

حکومت کو اگلے مالی سال 2019-2020 کے لیے کیا حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کرنے چاہیے، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ہارون شریف کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے پر معیشت دانوں کے دو مکاتب فکر ہیں۔ ایک وہ جو یہ کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس، بجٹ کے اعداد و شمار اور معاشی دباؤ اتنے زیادہ ہیں کہ معاشی و مالی سطح پر قابو پانا ہوگا تاکہ اپنے اخراجات اور بجٹ خسارے کو کنٹرول کیا جا سکے اور ملکی قرضے کو قومی پیداوار کے تناسب سے ایک مستحکم سطح پر لا سکیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جو وہ دیگر ممالک میں دیکھ رہے ہیں اس حساب سے پاکستان کو اس کے ساتھ ساتھ داخلی سطح پر ملکی شعبوں میں پیداوار بڑھانے کا ایک پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ’جیسے ہی آئی ایم ایف کا پروگرام ختم ہو ہمارے ایک دو پیداواری شعبے اتنے مسابقانہ ہو جائیں کہ مستحکم سطح پر ترقی کر سکیں۔‘

اکنامک سروے

پاکستان میں روزمرہ ضرورت کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے

ماہر معیشت ایس اکبر زیدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مالی سال 2018-2019 کے لیے رکھے گئے اہداف حقیقت پسندانہ نہیں تھے لیکن اس میں ہمیں اس امر کا خیال بھی رکھنا پڑے گا کہ قومی پیداوار اور ترقی کے شرح نمو کے یہ اہداف تحریک انصاف کی حکومت نے نہیں بلکہ گزشتہ حکومت نے رکھے تھے جو ان کے لیے بھی قابل حصول نہیں تھے۔

’مگر جس طرح سے پی ٹی آئی کے حکومت نے اقتدار میں آکر کام شروع کیا تو علم ہو گیا تھا کہ یہ اہداف حاصل نہیں ہو سکتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سیاسی تبدیلی نے بھی اہداف حاصل نہ ہونے میں کردار ادا کیا ہے۔ البتہ تحریک انصاف کی حکومت کی کوشش یہ ہونی چاہیے تھی کہ جہاں تک ممکن ہو سکے ان اہداف کے قریب پہنچا جا سکے۔‘

اگلے مالی سال 2019-2020 کے لیے قومی پیداوار اور ترقی کی شرح نمو کے حقیقت پسندانہ اہداف کیا ہونے چاہییں، اس کے جواب میں اکبر زیدی کا کہنا تھا کہ ’رواں سال، گذشتہ نو برسوں میں قومی پیداوار اور فی کس آمدنی، ملکی معیشت کے حوالے سے سب سے برا سال گزرا ہے۔ جلد ہی ہم آئی ایم ایف کی پروگرام میں جا رہے ہیں اور آنے والا بجٹ یہ واضح کرے گا کہ اس میں کیا کیا شرائط عائد کی جائیں گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب آئی ایم ایف کی شرائط نہیں تھیں تو تب بھی اہداف حاصل کرنے میں اتنی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو اب آئی ایم ایف کی پروگرام میں جانے کے بعد اہداف کا حصول اور زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

'جیسا کہ حکومت کا کہنا ہے کہ اگلے مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار کا ہدف چار فیصد ہوگا۔ اگر ہم اس ہدف کا آدھے سے تھوڑا زیادہ بھی حاصل کر لیں تو بہت زیادہ ہوگا۔'

اکبر زیدی کا کہنا تھا کہ ’حکومت اگلے مالی سال 2019-2020 کے لیے جو بھی اہداف رکھے گی وہ گذشتہ مالی سال سے کم ہو ں گے اور حکومت ان کو بھی حاصل نہیں کر پائے گی۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *