میں اک گرمی گزیدہ ہوں

مختصر لباس کے شائقین کو نوید ہو کہ انکا پسندیدہ موسم آگیا ہے کیونکہ گرمیوں میں یوں تو بیشمار خرابیاں ہیں لیکن سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ہم خواجہ صاحب کو انکا وہ دیرینہ دمساز پھولدار کچھا پہنے دیکھتے ہیں کہ جس کے پھولوں کے رنگ اب امتداد زمانہ سے محض دھبے سے دکھائی پڑتے ہیں اور جسے وہ عین خط اشتعال کی سرحد پہ باندھ کر ہماری بے داغ نیت اور بے انت تاب نظارہ کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور اگر وہ کہیں ذرا ہل ہلا کے ہاتھ اٹھا  کے انگڑائی لے بیٹھیں تو کچھا دفعتاً حدود برداشت پھلانگتا دکھتا ہے اور بنیان اوپر کو چڑھکے انکی روح فرسا و دانے دار توند کی گولائی دکھاتا ہے۔ یوں ایک ہی منظرنامے میں دو بڑے لرزہ خیزنظاروں سے نگاہوں , اخلاق اور اعصاب پہ بہت برا اثر پڑتا ہے-
ویسے گرمی کا عام مردانہ ملبوس جو تھوڑا بہت باقی رہتا ہے اسے بنیان اور شلوار کہتے ہیں اور گرمی جتنی  بڑھتی جاتی ہے تو بنیان اور شلوار کے پائنچے اتنے ہی اوپر کو مائل پرواز ہوتے جاتے ہیں پھر کسی وقت بنیان تو اڑنچھو ہوجاتی ہے لیکن شلوار کو معاشرہ تھامے رکھتا ہے نامعلوم وجوہ کے تحت ہمارے دیہاتوں میں شلواروں کی جگہ دھوتی کا استعمال مجرب ہے جواندرونی ماحول کافی حد تک ہوا دار رکھتی ہے لیکن ہوا کا دباؤ بڑھ جائے تو خود بھی ہوا ہونے کی تیاری پکڑتی ہے ایسے میں اسے مضبوطی سے پکڑے رکھنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا ورنہ سامان رسوائی کی نمائش کے امکانات یکایک بڑھ جانے سے معاشرے میں بےراہ روی بڑھنے کے امکانات بھی دفعتاً خطرناک حد تک بڑھ جاتے ہیں۔
خواجہ کا کہنا ہے کہ موسم گرما نہایت عشق دشمن اور کیدو پرور موسم ہے کیونکہ ان دنوں عموماً بجلی کا بحران رہتا ہے اور لائٹ غائب ہوتے ہی محبوب کے ابا اور بھائی گھر کے باہر آبیٹھتے ہیں اور گھر کے آس پاس دبکے عاشق زار کو دیکھ کے وہ جوش غضب سے ‘بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں ‘ کی تصویر بن جاتے ہیں ۔۔یوں ان دنوں جو عاشق منہ سے ہائے ہائے کی بانگِ  درا سناتے دیکھے جاتے ہیں اسکی وجہ ہجر و فراق کا غم کم اور محبوب کے ستمگر اہل خانہ کی تابڑ توڑ ضرب کلیمی زیادہ ہوا کرتی ہے –
اس موسم میں اپنے اخلاق اور زبان کو مہذب رکھنے کی ایک اہم احتیاطی تدبیر یہ بھی ہے کہ بجلی جاتے ہی اسکی پیداکار کمپنی کے بارے میں رواں تبصرے سننے سے بچاجائے – اس موسم میں اک عجب سی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ گرما گرما آپا دھاپی مچی ہوتی ہے اور سبھی کو بس اپنی اپنی پڑی ہوتی ہے – ہر روزسہ پہر آتے آتے حالت یہ ہوجاتی ہے کہ فرہادِ وقت اپنا تیشہ ایک طرف کو ڈالے کوہ ستون کی اوٹ میں ایک سائے میں پڑا پیٹ کھجاتا بڑبڑاتا دکھتا ہے تو دوسری طرف شیریں بھی فرہاد کی جانب سے کان لپیٹے ، ٹانگ کے پھوڑے پہ پلٹس باندھے گرمی سے بولائی بولائی غٹا غٹ ستو اور سردائی کے جام لنڈھارہی ہوتی ہے- کھجانے پہ یاد آیا ، کہ اس موسم کے بارے میں جو بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ دراصل کھجلیوں کا موسم ہے کہ جسے حالت سکون میں بڑے رکھ رکھاؤ سے خارش کہتے ہیں لیکن جیسے ہی یہ درپیش ہوجائے تو جانے مانے مہذب لوگ بھی اسے صرف کھجلی کہنے پہ اتر آتے ہیں کیونکہ آزمودہ بات یہ ہے کہ اس صؤتی تاثر سے بھی تھوڑا سا سکون ضرور ملتا ہے – بلاشبہ یہ واحد قومی مشغلہ ہے کہ جس سے ملنے والی بے تحاشا آسودگی پہ ساری قوم متفق ہے اور یہ آسودگی بلا ٹیکس کے ہے –  گرمی کا یہ تحفہ کبھی بھی کسی کو بھی آن کی آن عطا ہوجاتا ہے اور بعضے ایسے لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ محض نہانے دھونے اور صاف ستھرا رہنے سے اجتناب ہی کھجلی پروری کا باعث ہوتا ہے تو وہ تو غسل خانے ہی سے اپنا چمڑا کھجاتے برآمد ہوتے ہیں ۔۔۔ موسم گرما میں جہاں دیکھو جسے دیکھو ہرکوئی کہیں نہ کہیں حسب توفیق کھجانے میں مصروف دکھائی دیتا ہے – لیلیٰ کھجارہی ہے مجنوں کھجارہا ہے ۔۔۔ لیکن جوکوئی جس وقت مصروف کھجلی ہوتا ہے اک عجب سا سرور اور کیف اسکے چہرے سے ہویدا ہوتا ہے شاید ویسا ہی کیف جیسا شہنائی بجاتے وقت بسم اللہ خان یا ستار کے تار چھیڑتے سمے روی شنکر کے چہرے پہ نظر آتا ہے یا ویسا کیف جو بہرکیف کترینہ کیف کے چہرے پہ بلاسبب بھی براجمان رہتا ہے -
گرمیوں میں خیالی اکثر بھنا کے یہ کہتے ہیں کہ ” گرمیوں کا موسم بڑا واہیات ہوتا ہے'  حلانکہ وہ کراچی والے ہیں اور کراچی میں تو شاید سمندر سے ڈر کے چند ہی دنوں میں شہر چھوڑ دیتا ہے لیکن لاہور میں تو جیسے داتا دربار کے سامنے ملنگوں کے ساتھ ہی پڑجاتا ہے – کراچی کی گرمی بس اسی قدر کو ہوتی ہے کہ ہر روز ایک قلفی دکھا کے بھی بھگائی جاسکتی ہے مگر اصل گرمی تو اندرون سندھ پڑتی ہے کہ جو انکے باشندوں کی اکثریت کی عقلوں کو بھی پگھلادیتی ہے اور جسکا ثبوت ہربار کے انتخاب نتائج میں صاف جھلکتا ہے ادھر اپنا ملتان تو جیسے ایک بڑے سے تندور کا نام ہے کہ جہاں کے شہری پورے موسم کے 6-7 ماہ روٹیوں کی مانند اس بڑے تندور کی دیواروں پہ چسپاں ہوئے دکھتے ہیں- حد یہ ہے کہ یہاں موسم گرما ذرا دیر کو نہیں سستاتا بلکہ رات کو اور زیادہ چٹاخ پٹاخ ہوجاتا ہے اور جس برے مانس کو جنت نہ ملنے کا پکا یقین ہو وہ جہنم کی تپش جھیلنے کی پریکٹس کے لیئے مئی جون میں ملتان رہ آئے – ہم بھی پہلی بار وہاں جون میں گئے تھے اور صبح صبح پہنچے تھے اور ارادہ 4 دن ٹھہرنے کا تھا مگردوپہر آتے آتے ہم انگارہ بن چکے تھےاور سہ پہر  سےبہت پہلے ہی ہم بھوبھل میں بھلستی شکرقندی سے نظر آرہے تھے اور شام کو ہی اس بھٹی سے یہ بڑبڑاتے ہوئے نوک دم ہوئے تھے کہ” جان ہے تو جہان ہے ورنہ تو مقدر میں ملتان ہے “۔
اس بات میں شبہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ موسم گرما کا سب سے زیادہ اثر اخلاق و مزاج پہ پڑتا ہے اور جو منش گرمیوں میں بھی اے سی اور پنکھابند ہونے کے بعد بھی خوش اخلاق رہ پائے بلاشبہ اسے ہی بھلمناسٹ کی سند ملنی چاہیے ۔ جس کسی کو اس موسم میں حقیقی نئکو کار و متقی فرد کھوجنا ہو تو وہ کسی تقدس سے لبریز روحانی محفل میں جا کر ، گھومنے والے پنکھے کو اچانک اپنی طرف زیادہ موڑ لے اوراگر پھر بھی وہاں کوئی ایک فرد بھی ایسا رہ پائے کہ جوآن کی آن آگ بگولہ سا نہ ہوجائے اورتتیا مرچ بنتا نہ دکھائی دے اور چپ شانت رہ جائے تو بس بیشک آنکھ بند کرکے اسی کے ہاتھ پہ بیعت کرلے ، مگر شرط یہ ہے کہ وہ تقدس ماب طبعاً دمے اور مزاجاً بلغم کا مارا نہ ہو ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ موسم قطعی رومان دشمن ہے اور گرمیاں عروج کو پہنچتے ہی  یہ نوبت بھی آجاتی ہے کہ روزانہ کئی بار نہانا مشکوک نہ رہ جانے کے باوجود بھی زوجہ کا دائرہء اشتہاء ، چھپی باردودی سرنگوں سے ُپر میدان محسوس ہونے لگتا ہے ۔۔۔ یہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ اگر گرمیوں میں لائٹ چلی جائے اور بجلی کا متبادل انتظام نہ ہو تو جو خاتون ابھی تھوڑی دیر پہلے پرفیوم کی مہکار سے چمن زار بنی ہوئی تھی دو تین گھنٹے ہی میں باسی و کھٹے دہی کے کونڈے جیسے بھپکوں کا منبع بن جاتی ہے۔
موسم گرما کا اک پہلو برسات بھی ہے اور پہلے کبھی ساون بھادوں اسکی خاص پہچان بھی ہوا کرتا تھا ، لیکن اب بدلتے زمانے میں یہ بھی سیاسی ہوگیا ہے اور کبھی برستا ہے تو کبھی صرف گرج چمک کے ہی رہ جاتا ہے ۔۔۔ لیکن ہمارے شہر میں تو یہ  جب کبھی برستا ہے آن کی آن سڑکوں پہ دریائے کرپشن بہہ نکلتا ہے ۔ سڑکیں جوہڑ بن جاتی ہیں اور گلیاں تالاب اور دیکھتے ہی دیکھتے گٹر بھی بہہ  نکلتےہیں ، ایسے میں کہاں کا کوچہء یار اور ‘ کتھے مرزا یار پھرے’ ۔۔۔ اس وقت پھر یوں ہوتا ہے ”انجانی راہوں پہ سنسان راتوں میں ۔۔۔ ایک مسیحا نکلتا ہے جسے لوگ ایتھے آجا کہتے ہیں“ ۔۔۔  اور وہ مسیحآ ہاتھوں میں تھامی لکڑی کی طویل کھپچی کی بدولت آپکو ساون بھادوں کی فیوض و برکات کے رواں سیلاب سے وقتی امان دلوا دیتا ہے ۔۔ اس سارے عمل میں خرابی مگر یہ ہے کہ ڈنڈا کرنے سے خرابی دور کرنے کا یہ فارمولا ایک خاص ادارے کی انسپریشن بنتا ہے اور اسکا عملی اطلاق ہمیں ہر چند برس بعد دیکھنے کو مل جاتا ہے مگر ہر بار وہی پرانی غلطی دہراتی نظر آتی ہے یعنی غلط زور لگانے سے ڈنڈا بھی پھنس کے ٹوٹ جاتا ہے اور صاف صفائی کا کام بھی دھرا رہ جاتا ہے اور پھر کئی ساون بھادوں ہمیں یونہی مسائل کے سیلاب میں ڈولتے ڈمکتے گزارنے پڑجاتے ہیں –
 گرمی کا ایک اور خاص عطیہ بار بار نہانے کے لیئے دل کی رضاکارانہ آمادگی بلکہ بیتابانہ مچلاہٹ ہے کیونکہ لوگوں کو موسم سرما میں پانی سے بھری جس پالٹی کی طرف نظر بھر کے دیکھنے سے کپکپی چڑھتی تھی اب اسی کو ہلہلا کے جھٹ پٹ سر پہ انڈیل لینے کو بیقرار ہوئے دکھتے ہیں- اسی لیئے لاریب ، موسم گرما کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر طرح کے فرد کو نہانے کی توفیق عطا کرتا ہے اور اکثر کو تو بار بار ۔۔۔ یوں محض ایک خوشبو دار صابن کے بل پہ ایک دوسرے کو برداشت کرنا بہت آسان بناتا ہے -لیکن واضح رہے کہ نہانے کے لیئے لازمی درکار شے صابن نہیں پانی ہے جسکی ناگزیر اہمیت اس وقت زیادہ عیاں ہوتی ہے کہ جب شاور کے نیچے موجود نہانے والے نے پورے بدن پہ صابنی جھاگ کا جبہ یا لبادہ سا پہن رکھا ہو اور اسکی آنکھیں متعدد مرچیلے بلبلوں کی اوٹ میں ہوں ۔۔۔ اس سمے اگر دفعتاً پانی غائب ہوجائے  توپھر شاور تو خاموش رہتا ہے مگر غسلاتا فرد انگ انگ سے بولتا ہے مگر کچھ ایسا کہ سننے والوں کو صابن لگائے بغیر بھی مرچیں لگ سکتی ہیں ۔۔۔  اس وقت انکے پورے جسم پہ جتنا جھاگ ہوتا ہے اس سے کئی گنا زیادہ انکے منہ سے نکل رہا ہوتا ہے-
لیکن اس خرابے میں بھی اچھائی کا ایک بڑا پہلو پنہاں ہے اور بلاشبہ گرمی کی قہرسامانی کی کافی تلافی اور پوری ڈھارس آم ہیں ۔۔۔ اور محض اسی سوغات کی وجہ سے گرمیاں نہایت بری ہوکے بھی خاصی گوارا رہتی ہیں ۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر آم نہ ہوتے تو چلچلاتی گرمیوں سے بلبلاتے ہم اہل برصغیر اس موسم میں کیا کرتے ؟؟ ۔ یہی تو وہ معجزاتی پھل ہے کہ ایک سیزن کی حد ہی سہی مگرامیری غریبی ، رنگ و نسل اور دین دھرم کے سب امتیازات مٹا دیتا ہے
ع – بندہ و سرکار وہ محتاج و غنی ایک ہوئے ۔۔۔ آم کے تھال تک پہنچے تو سبھی ایک ہوئے ۔۔۔
کیونکہ پلمبر سے وائس چانسلر تک سبھی امبوا کی بور کی مہک سے ہی میعادی باؤلے پن کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ پھل اس قدر عجیب ہے کہ جو اسے بڑے ولولے اور واضح بدتمیزی سے نہ کھائے اسے خوش ذوقی کی داد بھی نہیں ملتی .
موسم گرما کے رنگوں میں ایک اہم رنگ کسی برہن کے دل کی ہوک کا ہے جو کوئل کے گلے ہوک بن کے نکلتی ہے اور ہر طرف ہجر کا سوگ اور انتظار کی اداسیاں سی چھاجاتی ہیں امبوا کی ڈاریوں پہ جھلنے میں بیٹھی ناری ساون میں ڈھیروں روپیہ کمانے کو بدیس گئے اپنے پی کا بڑی بیقراری سے انتظار کرتی ہے کہ شاید اب کے ساون میں  وہ ہولے سے آجائے اور اسے چپکے چپکے جھلنا جھلانا شروع کر دے لیکن پھر جب کافی دیر کوئی نہیں آتا تو وہ برہا کی ماری آہستہ آہستہ پینگیں لیتی دکھائی دیتی ہے جھولے کی زنجیروں کی کٹکٹاتی ، کھڑکھڑاتی آواز بھی یوں سنائی دیتی ہے جیسے وہ بھی کسی یاد میں سسک رہی ہیں اور پھر دفعتاً وہ آس نراس کے بیچ ڈولتی ناری بھی دو چار جھونٹوں ہی میں بیٹھے بیٹھے آپ ہی آپ سسک اٹھتی ہے اور جھولا چھوڑ کے بلکتی سی بھاگ لیتی ہے ۔۔۔ پھر سارا ساون جھولا یونہی سونا پڑا رہتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ جیسے فریاد کناں ہو ، کیا پیا کو معلوم ہی نہیں کہ اسکی گوری کے گاؤں ساون کب کا اتر آیا ۔۔۔ لیکن وہاں بدیس بیٹھے بلماء تو نوٹوں کی خوشبو کے آگے مدہوش ہوچلے ہیں اور ُبور کی سوندھی مہک اور ایئرکنڈیشنڈ کی خنکی پاکے برگد کی ٹھنڈی میٹھی چھاؤں تو جیسے بھول ہی گئے ہیں ۔۔۔ اور اب جب گاؤں کے پیڑوں پہ بیٹھی کوئی کوئل جب کوکتی ہے تبھی آپ ہی آپ گوری کے من اندر بڑے زوروں سے ساون بھادوں اترتا ہے اور پہروں آنچل بھگوتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *