’حجاب نہیں پہنا تو گاڑی سے اتر جاؤ‘

ایران: حجاب پر تنازعے کے بعد ٹیکسی سروس کے بائیکاٹ کی دھمکیاں

ایران میں حجاب کی پاسداری نہ کرنے پر ایک خاتون کو ایک ٹیکسی سے اتارے جانے کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری ہے اور ایرانی صارفین اپنے ملک کی مقبول ٹیکسی ایپ سنیپ کے بائیکاٹ کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

خاتون مسافر نے ٹوئٹر پر اس ڈرائیور کی ایک تصویر پوسٹ کی جس نے انھیں ٹیکسی سے اترنے کے لیے کہا تھا۔

اور اس کے ساتھ انھوں نے چھ جون کو لکھا تھا کہ 'یہ وہ ڈارئیور ہے جس نے (تہران میں) مجھے بیچ راستے میں کار سے اتار دیا۔'

خاتون نے بتایا کہ سنیپ نے ان سے معافی مانگ لی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ اس ڈرائیور کو تنبیہ کریں گے۔

قدامت پسندوں نے اسنیپ کے فیصلے پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کمپنی کی اس بات کے لیے تنقید کی کہ وہ ایسے لوگوں کے آگے جھک گیا جو 'اسلامی اقدار' کی بے عزتی کرتے ہیں۔

فارسی زبان کے ہیش ٹيگ '#تحریم_سنیپ' یعنی سنپ کا بائیکاٹ کا سنیچر سے اب تک 66 ہزار بار استعمال کیا گیا ہے۔

ایک صارف نے ٹویٹ کیا کہ 'اگر یہ خبر سچی ہے کہ سنیپ نے ہتک آمیز برتاؤ والی اس لڑکی سے معافی مانگی ہے اور سعید عابد (ڈرائیور) کی تنبیہ کی ہے تو سنیپ کے بائیکاٹ کے علاوہ معافی مانگ کر فحاشی کی حوصلہ افزائی کرنے اور ڈرائیور کو ڈانٹے کے لیے کمپنی کے منیجر کے خلاف، اسلامی تعزیرات کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔'

اسنپ

ایران میں سنہ 1979 میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد حکام نے تمام خواتین کے لیے حجاب کو لازمی قرار دیا تھا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی چینل آئی آر ٹی وی 3 کے ساتھ انٹرویو میں سعید عابد نے کہا کہ اگر پولیس یہ دیکھ لیتی کہ ان کی کار میں بیٹھی مسافر نے حجاب نہیں پہن رکھا ہے تو ان پر جرمانہ ہو جاتا اور انھوں نے جو کیا وہ ان کا 'مذہبی فریضہ' بھی تھا۔

انھوں نے کہا کہ سنیپ کو رپورٹ کر کے اس خاتون نے ان کی 'مخالفت' کی ہے۔

سخت گیر موقف رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ایئروسپیس کمانڈر بریگیڈیئر عامر علی حاجیزادہ نے سنیپ کے ڈرائیور سے ملاقات کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

سنیچر کو ایک بیان میں سنیپ نے کہا کہ اس نے ڈرائیور سے معافی مانگ لی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ 'ہم نے اس ڈرائیور سے معافی مانگ لی ہے جن کے کوائف شائع ہوئے تھے۔ وہ سنیپ میں اطمینان سے اپنا کام جاری رکھیں گے۔

'اس کے ساتھ گاہک کے احترام کی ہماری پالیسی ہم سے یہ کہتی ہے کہ ہم مسافر کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کریں کیونکہ ان کا سفر نامکمل رہ گیا اور انھیں سنیپ کی قوائد اور شرائط سے باخبر کیا گیا ہے۔'

حجاب کے خلاف بغاوت کرنے والی عورت کی کہانی

پیر کو خاتون نے اپنا پہلے والا ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا اور معافی مانگی ہے۔

انھوں نے ٹویٹ کیا کہ 'اس کے ذریعے میں سنیپ کے ڈرائیور، سنیپ کمپنی اور ان تمام لوگوں سے معافی مانگ رہی ہوں جن کی میری کہانی سے دل آزاری ہوئی ہے۔

'میں اعلان کرتی ہوں کہ میں اپنے ملک کے قانون کی پابند ہوں۔'

حجاب کے قانون کے خلاف سڑکوں پر اور سوشل میڈیا میں پُرامن مظاہرے پر حکام نے کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق جنوری سنہ 2018 سے اب تک خواتین کے حقوق کا دفاع کرنے والے 48 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں چار مرد بھی شامل ہیں۔

اس کے لیے مہم چلانے والے گروپ کا کہنا ہے کہ بعض کو اذیتیں دی گئی ہیں اور انتہائی غیر منصفانہ سماعت کے بعد انھیں جیل یا کوڑے مارنے کی سزا بھی دی گئی ہے۔

پولیس نے خبردار کیا ہے کہ جو خواتین حجاب کے خلاف سرعام مظاہرے میں شریک ہوں گی انھیں دس سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *