گرفتاریوں کی تازہ لہر...اور..”ریاست کی انگڑائی“

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

گرفتاریوں کی تازہ لہر
اور
”ریاست کی انگڑائی“

خانہ بدست کے قلم سے
روزنامہ 92نیوز میں جناب ارشاد احمد عارف کا تازہ کالم پیش نظر ہے۔ ہائی پروفائل گرفتاریوں کی تازہ لہر کو ”ریاست کی انگڑائی“ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”قانون کی بالا دستی اور حکمرانی کی طرف یہ پہلا قدم ہے۔ ریاست نے انگڑائی لی ہے اور وہ ریاست اور جرم کے ملاپ سے وجود میں آنے والے عوام دشمن سیاسی، سماجی اور مالیاتی ڈھانچے کو تہہ و بالا کرنے کے لیے کمر بستہ ہے۔“”ریاست“ کے لفظ کا نیا معانی اور مفہوم ہے جس سے حالیہ برسوں میں ہم روشناس ہو رہے ہیں۔”ریاست کا فیصلہ“، ”ریاست کا بیانیہ“ وغیرہ وغیرہ۔ پولیٹیکل سائنس میں بیان کردہ تعریف کے مطابق ”ریاست“ کے لیے چار بنیادی اجزا کا ہونا ضروری ہے1۔رقبہ2۔ آبادی3۔اقتدارِ اعلیٰ 4۔ انتظام و انصرام (جس میں فوج(اسٹیبلشمنٹ) سول ادارے اور عدلیہ وغیرہ شامل ہیں)لیکن ہمارے ہاں ”اسٹیبلشمنٹ“ کو ریاست قرار دے دیا گیا ہے اور یہ بھی کہ ”عوام دشمن سیاسی، سماجی اور مالیاتی ڈھانچے“ سے کیا مراد ہے جس کے تہہ و بالا ہونے کی فاضل کالم نگار خوش خبری دے رہے ہیں؟سیاسی مخالفین کے خلاف احتساب کے نام پر انتقامی کاروائیوں سے جمہوری ڈھانچہ البتہ تہہ و بالا ہو جائے گا۔ کالم نگار نے فوج میں ایک لیفٹیننٹ جنرل اور بریگیڈیر کے حالیہ کوٹ مارشل کی بات بھی کی ہے۔ فوج کا اپنا ڈسپلن ہے، احتساب کا اپنا طریقہ کار ہے، جنرل شاہد عزیز کے بقول اس میں پروموشن کے لیے مختلف طرح کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں لیکن یہاں سیاسی وفاداریاں خریدنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ اس کے لیے احتساب کا ہتھیار استعمال کیا جائے۔”سول“میں تو احتساب کے نام پر سیاسی مخالفین کو دبانے یا ان کی وفاداریاں خریدنے کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔آگے چل کر فرماتے ہیں: ایک خوددار اور ریٹائرڈ بریگیڈیر اسد منیرتو کرپشن کا الزام لگنے پر خودکشی کر لیتا ہے، مگر منتخب سیاستدان عدالتوں سے سزا یافتہ ہو کر بھی ضمیر کی خلش محسوس کرتا ہے، نہ عوام سے معافی مانگتا ہے۔ معاف کیجئے، بریگیڈیر اسد منیر کی خود کشی، نیب والے نظام احتساب کے منہ پر ایک طمانچہ تھا، اپنی وصیت میں اس نے لکھا تھا کہ وہ اس لیے خود کشی کر رہا ہے کہ انکوائری اور انویسٹی گیشن کے نام پر اس کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کیا جائے گا۔ میڈیا کو اس کی بدنامی اور رسوائی کے لیے استعمال کیا جائے گا اور احتساب کے نام پر اس کے ساتھ بد ترین نا انصافی کی جائے گی۔ جہاں تک سیاستدانوں کو ملنے والی عدالتی سزاؤں کا تعلق ہے، سب جانتے ہیں (اور فاضل کالم نگار بھی اپنے ضمیر کو ٹٹولیں،تو اعتراف کریں گے) کہ اِ ن عدالتوں میں سیاسی معاملات کس حد تک عدل انصاف کا اہتمام ہوتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ سے حمزہ شہباز کو ”ضمانتی ریلیف“ مل رہا تھا۔ نیب چیئرمین نے جاوید چودھری سے انٹرویو میں کہا کہ اب بنچ بدل گیا ہے۔ اب ان کی ضمانت منسوخ ہو گی، اور یہ جو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیا یہ اس بات کا اظہار نہیں کہ کسی ”دباؤ“ میں نہ آنے، اور اپنے ضمیر اور آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرنے والے ججوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟آگے چل کر نیب کے لیے ایک مشورہ نما نصیحت ”آصف علی زرداری کو گرفتار کر کے نیب نے بڑا چیلنج قبول کیا ہے۔ بہت سے مقدمات میں نیب کو کمزور تفتیش کی بنا پر مذامت اٹھانی پڑی۔ اب نیب نعیم بخاری جیسے بلند پایہ وکیلوں کا بندوبست کرے تا کہ فاروق ایچ نائک، لطیف کھوسہ اور اعتزاز احسن جیسے نامور قانون دانوں کے مدمقابل کھڑے ہو کر جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیسز کوپائیہ ثبوت تک پہنچا سکیں۔ عدالتی کاروائی میں وکیل کی قابلیت اور صلاحیت اپنی جگہ لیکن اگر کیس ہی میں کچھ نہ ہو تو وکیل کیا کر لے گا؟ عبد الحفیظ پیرزادہ (مرحوم) کا شمار پاکستان کے چوٹی کے وکیلوں میں ہوتا تھا۔ جب 1973کا آئین بنا، وہ بھٹو صاحب کے وزیر قانون تھے۔ ان کا شمار ملک کے مہنگے ترین وکیلوں میں ہوتا تھا۔ عمران خاں کے انتخابی دھاندلیوں کے الزامات پر چیف جسٹس کی زیر قیادت سپریم کورٹ کے عدالتی کمیشن میں پیرزادہ صاحب، عمران خان کے وکیل تھے۔ عمران خان یہ دعویٰ کرتے رہے تھے کہ ان کے پاس ”35پنکچروں“ سمیت مختلف الزامات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ حفیظ پیرزادہ نے عدالتی کمیشن کے روبرو پیش کرنے کے لیے یہ ثبوت مانگے تو خان صاحب کے پاس کچھ نہ تھا۔ (بعد میں حامد میر کے پروگرام میں خان صاحب نے اعتراف کیا کہ یہ محض سنی سنائی باتوں پر مبنی سیاسی الزامات تھے) چنانچہ حفیظ پیرزادہ جیسا مایہ ناز وکیل بھی عدالتی کمیشن کے سامنے بے بس ہو گیا اور کمیشن نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ انتخابات منصفانہ تھے اور دھاندلی کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔ اب نیب کیسز میں ”ملزموں“ کی وکالت کے لیے فاروق نائک، اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ بڑے وکیل ہیں، اگر نیب کے کیس ہی میں کچھ نہ ہوا تو ان کا کام آسان ہو جائے گا۔ ویسے نعیم بخاری کو بلند پایہ وکیل قرار دینا بھی خوب ہے۔ طاہر ہ سید سے شادی کے دنوں تک وہ ایس ایم ظفر کے چیمبر سے وابستہ رہے لیکن اس دوران بھی ان کے کریڈٹ پر کوئی بڑا کیس نہیں تھا۔ ان کی اصل شہرت ایک اینکر، ایک میڈیا پرسن اور کمنٹیٹر کی رہی ہے۔ البتہ چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف سازش کا وہ اہم کردار تھے۔ ان ہی کے خط پر چیف جسٹس کے خلاف کاروائی کا آغاز ہوا تھا۔اور پھر ایک دن وکیلوں کے ایک مشتعل ہجوم نے ان کے چہرے پر سیاہی پھیر دی۔ ویسے فاضل کالم نگار کو علم ہو گا کہ شریف فیملی کے خلاف کیسوں کی پیروی کے لیے نیب ملک کے اس ”مایہ ناز وکیل“ کی خدمات پہلے ہی حاصل کر چکا ہے اور کیا حسن اتفاق ہے کہ اس وقت نئے پاکستان کے وزیرِقانون بیرسٹر فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل منصور علی خاں بھی مشرف کی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔ نعیم بخاری ان میں ایک اور اضافہ ہیں۔ ڈکٹیٹر نے گزشتہ دنوں فرمایا تھا، موجودہ کابینہ کے آدھے سے زیادہ وزیر تو میرے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *