خود مختاری کی قیمت

اس وقت جو چیز رسک پر ہے و ہ عدالتی احتساب ہی نہیں بلکہ عدلیہ کی خود مختاری بھی ہے۔ عدالتی احتساب کسی ایک طرف دھول اچھالنے کا نام نہیں ہے اس امید کے ساتھ کہ یہ کہیں چمٹ کر اڑنا بند کر دے گی۔ ججز کو بھی اپنے کاموں کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے۔جو لوگ قانون کی خلاف ورزریوں کے مرتکب ہوتے ہین انہیں ججز کے عہدے پر براجمان نہیں ہونا چاہیے ۔ اسی طرح جو ججز آزادی اور انصاف پسندی سے فیصلہ نہیں کر سکتے اور ریاست اور معاشرے کے دباو  میں آ جاتے ہیں انہیں بھی انسانی حقوق کے تحفظ کا ذمہ کسی صورت نہیں دیا جا سکتا۔ پچھلے کئی دہائیوں سے نا اہلیت اور حماقت  میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے ۔ سب سے محفوظ لوگ وہ ہیں جو کچھ نہیں کرتے، کچھ نیا کرنے کی ہمت نہیں کرتے، کسی کو ناراض نہیں کرتے، دشمن نہیں بناتے، بزدلی دکھاتے ہیں  اور ہوا کے رخ کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں، کچھ نہ کرنے کا کوئی احتساب نہیں ہوتا۔ جو لوگ جانتے ہیں کہ ڈبل روٹی کو مکھن کس طرف لگانا ہے وہ کامیاب اور محفوظ ہیں ۔ یہ ایسے اثاثے ہیں جنہیں ریاست کا تحفظ حاصل ہوتا ہے اور طاقتور طبقہ ان کو چلا رہا ہے۔ کوئی ان کی پرفارمنس پر سوال نہیں اٹھاتا، ان کے ایکشن،  ان کے رشتہ داروں کے اقدامات وغیرہ پر کوئی سوال  نہیں اٹھایا جاتا جب تک وہ مزاحمت نہیں کرتے۔

جن کو کنٹرول یا بلیک میل نہیں کیا جاسکتا  وہ سسٹم کے لیے حقیقی خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ لیکن جہاں بھی ہیں انہیں ڈی فیکٹو سسٹم کے راستے کا کانٹا ہی تصور کیا جاتا ہے۔ سسٹم کسی طرح اس طرح کی راست بازی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کرتی  جو ڈی جورے سسٹم کے استعمال اور اسے ڈی فیکٹو کے راستے ہموار کرنے کے لیے استعمال کو نہیں سمجھتے۔ بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ جسٹس عیسی کو ایسے ہی ایک معاملے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

لیکن ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ احتساب نہیں ہے۔ یہ انتقامی کاروائی ہے۔ یہ آئیڈلازم کو تباہ کرتی ہے ، سینکازم کو فروغ دیتی ہے اور  لوگوں کو پبلک سروس میں فرائض کو تندہی سے انجام دینے کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ جب اس کا استعمال عدلیہ پر ہوتا ہے تو یہ عدلیہ کی آزادی کو ختم کرتی ہے  جس کے بغیر قانون کی حکمرانی ممکن نہیں ہو سکتی۔ قانون کی حکمرانی  ریاست اور عوام کے بیچ حقوق کی جنگ   کو طے کیے گئے قوانین کے مطابق ختم کرتی ہے۔ اس لیے ریاست کو بھی قانون کا تابع ہونا چاہیے نہ کہ قانون سے بالا تر۔

عدلیہ ہمارے حقوق کے تحفظ  کے لیے قائم کی گئی ایک مشینری ہے۔ آئین کی شق 7  کے مطابق عدلیہ کو  ریاست کی تعریف سے جان بوجھ کر  باہر رکھا گیا ہے۔ریاست کو ایسے قوانین اور رسومات جاری کرنے سے منع کر دیا گیا ہے جو بنیادی  انسانی حقوق  کی خلاف ورزی پر مبنی ہو اور  ججز جو عدالتوں میں بیٹھتے ہیں وہ فیصلہ کریں گے کہ  آیا ریاستی اقدامات درست ہیں یا غلط ۔ لیکن اگر ریاست ججوں کو کنٹرول کرنے لگے  یا قومی مفاد میں دوسری طرف دیکھنے لگے تو یہ سکیم بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ آپ قانون کی حکمرانی یا  قومی مفاد میں سے صرف ایک چیز کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

جسٹس عیسی نے اس وقت سرخ لائن کراس کی جب انہوں نے ڈی فیکٹو سسٹم کو  للکارتے ہوئے فیض آباد دھرنا میں دوسری طرف منہ موڑ لینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اس فیصلے میں جو  ریاست کےکردار پر سوال اٹھائے  وہ  ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اگر وہ ایسا کر کے آنکھ بچا کر نکل جاتے ہیں تو اس سے دوسرے ججز کو بھی حوصلہ مل سکتا ہے جو ڈی فیکٹو سسٹم کے لیے کسی بھی طرح موزوں نہیں ہو گا۔ پردے کے پیچھے سے کنٹرول تبھی  تک فائدہ مند رہتا ہے جب تک ایکٹرز ایکٹنگ کرنے پر راضی ہوں۔

بہت سے لوگ شاید یہ سمجھیں کہ اس طرح کی ناکام چالیں  اعلی اخلاقی اصولوں اور قانون کی حکمرانی  اور عدلیہ کی آزادی کے نام سے  جو شروع کی گئی ہیں وہ سٹیٹس کو اور کرپٹ طبقہ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے  چلی جا رہی ہیں۔ جس دن جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس ہیڈ لائن کا حصہ بنا اسی دن یہ خبر بھی آئی کہ کچھ سینئر ملٹری افسران  کو بھی جاسوسی کے الزام میں سزائیں سنائے جانے کی  بھی خبر چلی۔  کیا یہی وہ چیز نہیں ہے جو آئیڈیلسٹ لوگ چاہتے تھے؟

اب ہم وزیر اعظم اور صدر کی طرف سے جسٹس عیسی کے خلاف داخل کیے گئے ریفرنس کے میرٹ پر روشنی ڈالتے ہیں۔ جسٹس عیسی پر الزام ہے کہ انہوں نے برطانیہ میں  اپنے بچوں اور بیوی کے نام سے جائیدادیں خرید رکھی ہیں جو انہیں انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 116 کے تحت ڈیکلیر کرنی چاہیے تھیں  جو انہوں نے نہیں کیں۔ یہ الزام ہے کہ ایسا کر کے انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ جرم منی لانڈرنگ کی شق  کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے  کیونکہ جسٹس عیسی نے   غیر ملک میں ایک حاضر سروس جج کی حیثیت سے پراپرٹی خرید کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس معاملے کو پہلے حل کر لیتے ہیں۔ اگر جسٹس عیسی کی بیوی اور بچوں نے جسٹس عیسی کی رقم سے پراپرٹی خریدی لیکن  جسٹس فائز نے اس پراپرٹی کو ظاہر نہیں کیا تو پھر وہ مس کنڈکٹ کے مرتکب ٹھہریں گے۔ اس صورت میں فیض آباد دھرنا کیس، ان کی ایک آزاد اور خود مختار سچائی کا پیروکار جج کی حیثیت سے شہرت بھی بے معنی ہو جائے گی۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے اس قانون کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں؟  مکمل طور پر یہ جانے بغیر کے  انہوں نے یہ خلاف ورزی کی ہے یا نہیں  صدر اور وزیر اعظم  کیسے اس طرح کا خوفناک الزام  جج پر لگا کر اس کا میڈیا ٹرائل  کر کے ان کی شہرت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟

انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 116  کے مطابق اگر بچے اور بیوی زیر کفالت نہ ہوں تو ان کے اثاثے ڈیکلیر کرنا لازمی نہیں ہے۔ہمارے ٹیکس قوانین  ایک ایسا نظام دیتے ہیں جس میں ویلتھ ٹیکس سٹیٹمنٹ  میں شامل اثاثوں پر انکم ٹیکس لگتا ہے  نہ کہ ٹیکسیبل اثاثوں پر۔ دوسرے الفاظ میں آپ ہر سال انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں  اور ٹیکس والی انکم کے فارم کی تفصیلات ویلتھ سٹیٹمنٹ میں شامل کی جاتی ہیں۔ ویلتھ سٹیٹمنٹ میں شامل اثاثے اس انکم کے مطابق ہونے چاہیے  جس پر ٹیکس ادا کیا جاتا ہو۔ ویلتھ سٹیٹمنٹ ایک بیلنس شیٹ ہوتی ہے۔ ہر سال آپ ایک ایسی سٹیٹمنٹ فائل کرتےہیں جو آپ کے انکم ٹیکس ریٹرن سے مطابقت رکھتی ہے  اور اپنی دولت میں تبدیلیاں ظاہر کرتے ہیں۔ آپ اپنی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں وہ اثاثے ظاہر نہیں کرتے جو آپ کی آمدن سے نہ بنائے گئے ہوں مثلا جو آپ کو وراثت یا تحفہ میں ملے ہوں۔ اس لیے آپ اپنی سٹیٹمنٹ میں اپنی بیوی بچوں کے اثاثے ظاہر نہیں کر سکتے   جب تک وہ اثاثے آپ کی انکم سے نہ بنائے گئے ہوں۔ سپریم کورٹ کے جج کے خلاف ریفرنس کی کوئی بنیاد ہی موجود نہیں ہے  جب تک یہ نہ واضح ہو کہ صدر یا وزیر اعظم کو یہ معلوم ہے کہ جج کے بیوی بچوں کے اثاثے جج کی رقم سے خریدے گئے ہیں۔

جسٹس عیسی نے صدر کو جو خط لکھا اس میں یہ بتایا ہے کہ ان کے بیوی بچے ان کے زیر کفالت نہیں ہیں۔ اگر ان کی بیوی نے ان کی انکم کے علاوہ کسی ذریعے سے اثاثے خریدے ہیں تو  آرٹیکل 209 کے تحت اسے مس کنڈکٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انکم ٹیکس حکام  صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ جج کی بیوی سے ٹیکس کی ادائیگی کا مطالبہ کریں  اگر ان کے اثاثوں کی رقم پاکستان میں ٹیکسیبل تھی۔ اگر استعمال ہونے والی رقم  پاکستان میں ٹیکسیبل نہیں تھی  تو پھر ان کے جج کی بیوی کے خلاف بھی کسی قسم کے دعوی کا جواز نہیں بنتا۔

موجودہ ایف-بی-آر چیرمین نے بزنس ریکارڈر میں شائع ہونے والے اپنے آرٹیکل میں قانون کی تشریح کی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ واحد متعلقہ چیز یہ ہے کہ کیا جس آمدنی سے یہ پراپرٹی خریدی گئی وہ پاکستان میں ٹیکسیبل ہے یا اس پر ٹیکس لگایا گیا ہے یا نہیں۔ اگر آمدنی  پر ٹیکس نہیں لگتا یا پھر اس میں سے ٹیکس ادا کر دیا گیا ہے  تو پھر ایسی پراپرٹی کا ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ذکر محض ثانوی معاملہ ہے۔ کیا ہمارے وزیر اعظم نےاس معاملے مٰں ایف-بی-آر چیف  سے مشورہ کیا اور ان کی رائے لی کہ آیا جج کی طرف سے اپنی بیوی بچوں کی غیر ملکی جائیدادوں کو ظاہر نہ کرنے کا عمل ہمارے انکم ٹیکس لاء کی خلاف ورزی ہے یا نہیں؟

یہ کہنا کافی نہیں کہ جج کی الماری میں اگر کوئی ڈھانچہ نہیں ہے تو انہیں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ سپریم جوڈیشنل کونسل اسکو بری کردے گی۔ بندوقیں چل چکی ہیں اور خون نکل چکا ہے۔جسٹس عیسیٰ بچ سکتے ہیں یا نہیں ،عدلیہ کے لیے پیغام واضح ہے: کہ ڈی فیکٹو سسٹم پر تنقید ایک ایسی لائن ہے جس کو کراس نہیں کیا جاسکتا۔ کیا قانونی برادری سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ خوشی سے اس دور کی طرف لوٹ جائے جب عدلیہ  کو کمزور اور بے وقعت تصور کیا جاتا تھا؟

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *