پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

کسی بھی حکومت کے پاس بیچنے کے لیے اور اپنی مقبولیت قائم رکھنے کے لیے دو طرح کا مواد ہو سکتا ہے ۔ اول ، وہ اپنی مثبت کارکردگی ، سماجی و معاشرتی حصولیات ، مالی و معاشی ترقی ، سیاسی و سفارتی استحکام اور عام لوگوں کو ریلیف ، ان کے مسائل میں کمی ، اور دکھوں کے علاج پر مبنی پالیسیاں بناتیہے ۔ ریاست کی آمدن میں اضافہ کرتی ہے ۔ اور چھوٹے اور میگا پروجیکٹس کے ذریعے نوکریوں کا بندوبست کرتی ہے ۔ اور زرعی و صنعتی پیداور میں اضافہ کرتی ہے ۔ اور بغیر کسی خوف کے تجارتی سرگرمیوں کے لیے آزادانہ ماحول تیار کرتی ہے ۔ اور آجر اور اجیر کا اعتماد بحال کرتی ہے ۔ دوئم، حکومت ان میںسے کوئی بھی کام کرنے میں ناکام رہتی ہے ۔ اپنی مستقل نااہلی سے ملکی معیشت کو تباہ کر دیتی ہے ۔ اور خوف و ہراس کی ایسی صورتحال پیدا کرتی ہے۔ کہ سرمایہ دساور کو پرواز کر جاتا ہے ۔ دوست ممالک اعتماد نہیں کرتے۔ تاجر اور سرمایہ دار کو اپنی پڑ جاتی ہے ۔ خوامخواہ کی بڑھک بازی سے ملک سیاسی و معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اور اپنی ناکامی اور نااہلی کو چھپانے کے لیے یہ حکومت اپنا بوجھ سابقہ حکومتوں پر ڈالتی رہتی ہے ۔ کہ وہ لوٹ مار کر گئے۔ قرضے لے کر کھا گئے۔ یعنی اپنی کامیابیاں تو ہوتی نہیں۔ جن کا پرچار کریں۔ ایک تصوراتی اور دروغ گوئی پر مبنی پروپیگنڈہ جاری رہتا ہے ۔ اور ملکی ناؤ گہرے پانیوں میں ڈوبتی چلی جاتی ہے ۔ ن لیگ حکومت کے پاس بتانے کو اس کے میگا پروجیکٹس ہیں۔ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہے ۔ سی پیکہے ۔ موٹر ویز ہیں۔ اور بہت کچھ ہے ۔ پیپلزپارٹی بھی اپنی کامیابیوں کی کوئی نہ کوئی فہرست مہیا کرتی رہتی ہے ۔ لیکن پی ٹی آئی حکومت کے پاس ان دس ماہ کی کارکردگی کیا ہے ؟ کوئی ایک ایسا قدم جو ریاست کی آمدن بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہو۔ سیاسی استحکام لانے کی کوشش کی گئی ہو۔ بجٹ تقریر کے بعد اگر وزیراعظم نے کچھ کہنا ہوتا ہے ۔ تو بجٹ پر بات کرتا ہے ۔ پہلا وزیراعظم دیکھا۔ جو ایک خوفناک بجٹ دینے کے بعد ، اس بجٹ سے توجہ ہٹانے کے لیے اپوزیشن کو خوفناک دھمکیاں دے رہا ہے ۔ ان دھمکیوں سے تحریک انصاف کے فالوورز تو شاید خوش ہو جائیں۔ لیکن 31 کھرب کے خسارے اور 11 کھرب سے زائد نئے ٹیکس والا 71 کھرب کا بجٹ اپنی تمام تر مہنگائی اور بے روزگاری کے بہت دیر تک ان جعلی بڑھکوں کے پیچھے چھپایا نہیں جائے گا۔ معاشی سچائی ان ڈرامہ بازیوں سے کہیں زیادہ خوفناک ہے ۔ عمران خان اس خوف ، وہم اور خود فریبی ( شیزو فرینیا) کا شکار نظر آتے ہیں کہ اپوزیشن سمیت کچھ مخصوص قوتیں ان کو حکومت سے نکالنا چاہتی ہیں۔ جس کے بعد ان پر سختی شروع ہو سکتی ہے ۔ اس خوفزدہ سوچ کو کاونٹر کرنے یا پری ایمپٹ کرنے کے لیے وہ نہ صرف احتساب اور کرپشن کے نعرے کو استعمال کر رہے بلکہ انہوں نے یہ کہنا بھی شروع کر دیا ہے ۔ کہ کرپٹ مافیا ان کے پیچھے پڑ گیا ہے ۔ اور یہ کہ وہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے۔ حالانکہ اپوزیشن ان کے خلاف کسی قسم کی تحریک نہیں چلا رہی۔ خان صاحب کا کام ہے ۔ انتقام ، غصے ، بغض اور ڈرانے دھمکانے کی پالیسیوں سے باہر نکلیں۔ اور ملکی معیشت پر توجہ یںد۔ نوازشریف کی حکومت کو چار سال تقریبا مفلوج کر دیا گیا تھا۔ لیکن وہ کسی سے الجھے بغیر ترقی اور معیشت پر خاموشی سے کام کرتے رہے۔ کیا خان صاحب یہ پالیسی اختیار نہیں کر سکتے ؟

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *