ورلڈکپ: پاکستان، بھارت کے خلاف شکستوں کا ’جمود‘ توڑنے کیلئے تیار

ورلڈکپ 2019 کا آج سب سے بڑا مقابلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے جارہا ہے جہاں دونوں ہی ٹیمیں جیت کے لیے پُر عزم دکھائی دے رہی ہیں۔

پاکستان کی ٹیم بھارت کے خلاف عالمی میلے میں اپنی مسلسل شکستوں کے جمود کو توڑنے کے لیے تیار ہے۔

باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل پاکستانی ٹیم چیمپیئنز ٹرافی 2017 کے فائنل والی پرفارمنس دہرانے کے لیے پُر عزم ہے جہاں اس نے بھارتی ٹیم کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے ٹورنامنٹ اپنے نام کیا تھا۔

مانچسٹر میں ہونے والے اس میچ کے لیے 5 لاکھ شائقین نے درخواستیں دیں تھیں، تاہم 25 ہزار تماشائیوں کی جگہ کے حامل اس میدان کے لیے صرف مطلوبہ خوش نصیبوں کو ہی ٹکٹ موصول ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے اس میچ کے لیے ٹکٹ خریدنے والے 65 فیصد شائقین بھارتی ہیں جبکہ 20 فیصد پاکستانی ہیں جبکہ بقیہ افراد نے اپنے آپ کو نیوٹرل ظاہر کیا ہے۔

اس کے علاوہ اس میچ کے لیے 75 پاؤنڈ کا ٹکٹ کی بلیک میں بھی فروخت دیکھنے میں آئی جہاں دونوں ممالک کے شائقین اسے 2 ہزار 500 پاؤنڈ میں خریدنے کے لیے بھی تیار تھے۔

اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے مانچسٹر کی تاریخ میں سب زیادہ پولیس کی نفری آج اپنے فرائض انجام دے گی جو نہ صرف اسٹیڈیم کے اندر بلکہ اسٹیڈیم کے باہر اور اس کی اطراف میں سڑکوں پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تیار ہوگی۔

پاک-بھارت میچ بارش سے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، تاہم امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ بارش میچ کو مکمل طور پر نہیں بلکہ جزوی طور پر متاثر کر سکتی ہے اور میچ کے ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

ہیرو بننے کا موقع

اس حوالے سے قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر کہتے ہیں کہ ’روایتی حریف بھارت کے خلاف میچ سے کھلاڑی کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام رقم کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے کھلاڑیوں کو ڈریسنگ روم میں بتارہا تھا کہ تم سب ہیرو بن سکتے ہو، تمہارا کیریئر اس گیم کے ایک ایک لمحات سے واضح ہوگا‘۔

واضح رہے کہ کرکٹ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے میچز تاریخ کا حصہ رہے ہیں اور ورلڈکپ کے لیے اولڈ ٹریفورڈ اسٹیڈیم میں اتوار کو ہونے والے اس میچ کو تاریخ کے لیے نیا باب سمجھا جارہا ہے۔

اپنے بیان میں مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ یہ سب سے بڑے حریف ہیں تاہم فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل کو دنیا بھر سے 1.6 ارب لوگوں نے دیکھا تھا اور اس میچ کو تقریباً 1.5 ارب لوگوں کے دیکھنے کی امید ہے‘۔

پاک-بھارت کشیدگی اور میچ منسوخی کی دھمکی

رواں برس فروری میں بھارتی فضائیہ نے پاکستان حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش کی تھی جسے پاکستانی فضائیہ نے ناکام بنادیا تھا۔

ایک روز بعد پاکستانی فضائیہ نے ایک مرتبہ پھر دراندازی کرنے والے بھارتی طیارے کو مار گرایا تھا جبکہ پاکستانی طیاروں نے بھارتی حدود میں بھی بم گرائے جس کا مقصد پڑوسی ملک کو اس کے جارحانہ عزائم سے روکنا اور اپنی صلاحیت منوانا تھا، اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے تھے جبکہ گوتم گھمبیر سمیت کچھ بھارتی کھلاڑیوں نے بھارت کے ورلڈکپ میں میچ نہ کھیلنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم دوسری جانب سچن ٹنڈولکر اور سنیل گواسکر جیسے عظیم کھلاڑیوں نے اس میچ کی حمایت کی تھی۔

ماضی کے مقابلے

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کا ورلڈکپ کے میچز میں پہلی مرتبہ آمنا سامنا 1992 کے ورلڈکپ میں ہوا تھا جب قومی ٹیم کے کپتان عمران خان تھے جنہوں نے اپنی قیادت میں ٹیم کو عالمی چیمپیئن بھی بنوایا تھا لیکن بھارت کے خلاف میچ جیتنے میں ناکام رہے تھے۔

اس کے بعد 1996 کے ورلڈکپ میں پاکستان اور بھارت کا مقابلہ بنگلور میں ہونے والے کواٹر فائنل میں ہوا جہاں مضبوط پاکستانی ٹیم کو کمزور بھارتی ٹیم سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

انگلینڈ میں 1999 میں ہونے والے عالمی کپ کے سپر-6 مرحلے میں دونوں ٹیموں مد مقابل آئیں اور اس مرتبہ بھی بازی بھارت کے نام رہی۔

2003 کے عالمی کپ میں دونوں ٹیموں کے درمیان میچ بھارت نے سچن ٹنڈولکر کی بہترین بلے بازی کی بدولت اپنے نام کیا، اس کے بعد 2011 کے عالمی کپ کے سیمی فائنل میں دونوں ٹیموں کا ٹکراؤ ہوا جہاں اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے بھارتی ٹیم نے پھر میدان مار لیا۔

آسٹریلیا میں ہونے والے عالمی کپ 2015 کے میچ میں بھارتی سورماؤں نے قومی ٹیم کو آوٹ کلاس کردیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *