پاکستان کی فوج میں تبدیلیاں: لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید آئی ایس آئی کے نئے سربراہ مقرر

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ملک کے اہم ترین خفیہ ادارے انٹرسروسز انٹیلیجنس ایجنسی یعنی آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔

وہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کی جگہ لیں گے جو آٹھ ماہ تک اس عہدے پر فائز رہے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو اکتوبر 2018 میں یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی اور اب انھیں کور کمانڈر گوجرانوالہ بنا دیا گیا ہے۔

فیض حمید کو رواں برس اپریل میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی ملی تھی اور ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی سے قبل وہ جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔

نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اس سے قبل پنڈی میں 10 کور کے چیف آف سٹاف، پنوں عاقل میں جنرل آفیسر کمانڈنگ اور آئی ایس آئی میں ہی ’سی آئی‘ یعنی کاؤنٹر انٹیلیجنس سیکشن کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔

ان کا نام نومبر 2017 میں اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر مذہبی تنظیم تحریکِ لبیک کے دھرنے کے دوران بھی سامنے آیا تھا۔

اس تنظیم اور حکومت کے درمیان چھ نکات پر مشتمل معاہدے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ معاہدہ کرنے میں اس وقت میجر جنرل کے عہدے پر کام کرنے والے فوجی افسر فیض حمید کی مدد شامل رہی۔

اسی دھرنے کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں وزارت دفاع کے توسط سے آرمی چیف سمیت افواج پاکستان کے سربراہان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ان ماتحت اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں جنھوں نے ’اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت کی ہے۔‘

فیض آباد دھرنا

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام فیض آباد دھرنے کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے میں بھی سامنے آیا تھا

دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ فیصلہ انھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا تھا جن کے خلاف آج کل سپریم جوڈیشل کونسل میں صدر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرینس کی سماعت ہو رہی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو رواں برس یومِ پاکستان کے موقع پر صدرِ پاکستان نے ہلالِ امتیاز ملٹری کے اعزاز سے بھی نوازا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے پر سوال اٹھے تھے کہ ایک ایسے فوجی افسر کو کیسے اعزاز سے نوازا جا سکتا ہے جو مبینہ طور پر سیاسی معاملات میں ملوث رہے ہوں۔

ڈی جی آئی ایس آئی کتنا طاقتور شخص ہے؟

مبصرین کے مطابق آئی ایس آئی سیاسی اور عسکری دونوں سطح پر کام کرتی ہے اور اپنا اِن پُٹ دیتی ہے۔

آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی لیفٹننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی کے مطابق آئی ایس آئی کا ڈائریکٹر جنرل اپنے ادارے کی حد تک بہت طاقتور ہوتا ہے۔

'ڈی جی آئی ایس آئی اپنے ادارے کے اندر لوگوں کو رکھ سکتا ہے، نکال سکتا ہے، واپس فوج میں بھیج سکتا ہے، پوسٹ آؤٹ کر سکتا ہے۔ لیکن جہاں تک ادارے سے باہر کا تعلق ہے تو آئی ایس آئی کے سربراہ کی طاقت کا انحصار ان کے وزیر اعظم اور آرمی چیف کے ساتھ تعلق پر ہے۔‘

ان کے مطابق ’وزیر اعظم انھیں عہدے سے ہٹا سکتے ہیں اور فوج کے اندر طاقتور تو فوج کا سربراہ ہی ہے'۔

آئی ایس آئی کے نئے ڈائریکٹر جنرل کے علاوہ بھی فوج میں اعلیٰ سطح کی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کے مطابق لیفٹیننٹ جزل فیض حمید کی جگہ لیفٹیننٹ جزل ساحر شمشاد مرزا کو ایڈجوٹننٹ جزل تعینات کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جزل عامر عباسی کوارٹر ماسٹر جزل جبکہ لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز انجینئر ان چیف بنا دیے گئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *