نہیں!محترم کالم نگار ایسا نہیں!!

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

نہیں!محترم کالم نگار ایسا نہیں!!

خامہ بدست کے قلم سے
”نیا ز مانہ، نئے صبح وشام“کے زیر عنوان جناب ارشاد احمد عارف روزنامہ 92نیوز میں ا پنے تازہ کالم میں لکھتے ہیں: حالیہ عام انتخابات کے موقع پر نامور صحافیوں کے تجزیے اس بنا پر غلط ثابت ہوئے اور ان کے پسندیدہ سیاستدان اسی باعث ایوانِ اقتدار کے بجائے جیلوں، حوالات اور نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے بیٹھے نظر آتے ہیں کہ ان بظاہر باخبر اور اونچے ایوانوں تک رسائی رکھنے کے دعویداروں نے ووٹروں کا مزاج پرکھا، نہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوئے تمام عوامل کی چھان پھٹک کی۔ کاتا اور لے دوڑی کے مصداق جواِدھر اُدھر سے سنا، اپنے ناظرین اور قارئین کی نذر کردیا۔ اب شرمندہ ہونے کی بجائی کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق کبھی ”خلائی مخلوق“ پر تبرابولتے ہیں، گاہے ”محکمہ زراعت“ پر غصہ جھاڑتے ہیں۔۔۔ نہیں، میرے محترم کالم نگار ایسا نہیں۔ووٹروں کا مزاج پرکھنے کی ضرورت نہیں تھی، یہ تواندھوں کو بھی نظر آرہاتھا کہ ووٹر کا مزاج کیا ہے؟ ”نااہلی“ کے بعد پنڈی سے لاہور تک چار روزہ جی ٹی روڈ مارچ کے دوران، اگست کی بدترین گرمی اور جان لیوا حبس کے باوجود، جس طرح ہر چھوٹے بڑے شہر کے ووٹر جی ٹی روڈ پر نکل آئے تھے، وہ ان کے مزاج کا اظہارہی تو تھا اور پھر الیکشن والے دن پولنگ سٹیشنوں کے باہر ووٹرو ں کی لمبی لمبی قطاریں بھی بتا رہی تھیں کہ ان کا مزاج کیا ہے۔ تبھی تو ووٹوں کی گنتی پولنگ ایجنٹوں کے بغیر ہوئی۔ ووٹوں کا مزاج ہی تو تھا، جو ریزلٹ ٹرانسمشن سسٹم (آر ٹی ایس) کی خرابی کا سبب بن گیا۔ ”انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے والے دیگر عوامل“ بھی ڈھکے چھپے نہ تھے۔ اسی لیے تو اس کمشن کا قیام اب تک عمل میں نہیں آیا، جس نے انتخابات سے متعلق حقائق کا جائزہ لینا تھا اور جس کا اعلان خود وزیر اعظم نے کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

نواز،مودی تعلقات.... ساڑھے تین سال بعدایک ”انکشاف“

مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!

دوکالموں پر ایک نظر

”ثاقب نثار کی ججی“.... اور کالم نگار کا تصورِ انصاف؟

مزید فرماتے ہیں: جب ایک سیاسی جماعت کی قیادت خود ہی عوام کو یہ باور کرادے کہ طاقتور حلقے اس کی شکست کے خواہش مند ہیں تو کون بے وقوف اپنا ووٹ ضائع کرے گا؟اور الیکٹ ایبلز کو باؤلے کتے نے کاٹا ہے کہ وہ اس کا ٹکٹ لیکر اپنی منزل کھوٹی کریں؟ معاف کیجئے! جان بوجھ کر اپنا ووٹ ضائع کرنے والے ان بیوقوفوں کی تعداد ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ تھی۔ الیکٹ ایبلز پر جو حربے اور ہتھکنڈے آزمائے گئے، وہ بھی سب کو معلوم ہیں۔ اس کے باوجود ملک کے سب سے بڑے صوبے میں مسلم لیگ(ن) کو سنگل لارجسٹ پارٹی بننے سے نہ روکا جاسکا۔
2014کی دھرنا بغاوت کے حوالے سے لکھا: اگر جنرل راحیل شریف عمران خان اور ڈا کٹر طاہر القاادری کے مطالبے کو مسترد نہ کرتے تو میاں صاحب کتنے دن وزیر اعظم رہ سکتے تھے؟وہ تو سامان باندھ کر جاتی امرا پہنچ گئے تھے۔ خواجہ سعد رفیق اور کئی دوسرے رہنما انہیں منت سماجت کرکے اسلام آباد کے وزیر اعظم ہاؤس لے گئے۔ یہ بات تو درست ہے کہ اپنے بعض رفقا کی خواہش کے برعکس جنرل راحیل شریف دونوں ”سیاسی کزنوں“ کا ”مطالبہ“تسلیم کرنے پر تیار نہ ہوئے لیکن یہ بات آپ کو کس نے بتائی کہ میاں صاحب سامان باندھ کر جاتی امرا پہنچ گئے تھے؟ وہ تو معمول کی ہفتہ وار ”چھٹی“ پر جاتی امرا میں تھے جب دھرنے والے آگے بڑھے اور پرائم منسٹر ہاؤس کے دروازے پر جابیٹھے۔ کینیڈا والے ”قائد انقلاب“، پاکستان کو ”لیبیا“ بنانے کی دھمکیوں پر اتر آئے تھے، وہ وزیر اعظم کو لیبیا کے کرنل قذافی کے انجام سے ڈرانے کی کوشش کررہے تھے۔ بعض خیر خواہوں کا مشورہ تھا کہ وہ جاتی امرا ہی میں بیٹھ کر وزارتِ عظمیٰ کے اختیارات استعمال کرتے رہیں، لیکن نوازشریف نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور بذریعہ ہیلی کاپٹر اسلام آباد کے پرائم منسٹر ہاؤس میں اُتر گئے۔ وہ ہر طرح کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار تھے، جب پی ٹی وی پر بلوائیوں نے قبضہ کرلیا اور اس کی نشریات بند ہوگئیں،تو خواجہ سعد رفیق، وزیر اعظم کے پاس موجود تھے اور وزیر اعظم بڑے اطمینان سے ان سے کہہ رہے تھے، کیا کھیل ختم ہوگیا ہے اگر ایسا ہے تو پھر اپنے انجام کے لیے تیار ی کرتے ہیں۔ دھرنے کے ان ہی دنوں میں، ملک کے سب سے بڑے پراپرٹی ٹائیکون، استعفے کا ”پیغام“لیکر، وزیر اعظم ہاؤس پہنچے اور وزیر اعظم نے اسے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا۔ فاضل کالم نگار کو یاد ہوگا کہ 12کتوبر 1999کی شب، حراست کے دوران بھی انہوں نے استعفے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔ مزید لکھا:2017میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد رابطہ کرنے والے چالیس، پچاس مسلم لیگی ارکان اسمبلی کو بغاوت سے روکا، ورنہ شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بن سکتے تھے۔لیکن فاضل کالم نگار کو ان ”باغیوں“ کی اصل تعداد بتانی چاہئیے تھی کہ یہ چالیس تھے یا پچاس اور ان کے نام لکھنے میں بھی کوئی ہرج نہ تھا، بلکہ ان ”موقع پرستوں“ کو بے نقاب کرنا، عظیم قومی خدمت ہوتی۔ اور یہ بھی کہ ان باغیوں کو جنرل صاحب سے رابطے کی کیا ضرورت تھی؟۔فوج میں حالیہ تقرر اور تبادلوں پر لکھتے ہیں: لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بطور آئی ایس آئی چیف تقرر سے بھی اگر ان چالاک اور سردگرم چشیدہ سیاسی گرگوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا تو ان کا اور ملکی سیاست کا اللہ حافظ، فاضل کالم نگار کے اس ارشاد پر ہم کیا عرض کریں، کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ تقرر ان چالاک اور سرد گرم چشیدہ سیاسی گرگوں سے نمٹنے کے لیے ہے؟ پاک فوج سے محبت کے ناطے ان ریمارکس پر ہمارا احتجاج تو بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

”شریفوں کی سیاسی باتیں“

جائز تعریف کے حوالے سے، تنگدلی اور ایسی تنگدلی؟

”صحت“پر ”صحافت“۔ اور ایسی صحافت؟

بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *