حکومت اور خفیہ طاقتوں سے مقابلہ اور اپوزیشن

ایک طرف بارش سے متاثرہ پاک بھارت میچ چل رہا تھا  تو دوسری طرف لاہو ر میں بھی کچھ دلچسپ واقعات رونما ہو رہے تھے۔ ایک ماہ میں دوسری دفعہ بلاول بھٹو اور مریم نواز کی ملاقات ہوئی۔ ان دونوں رہنماوں کے والد ین اس وقت جیل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان دونوں رہنماوں کی سابقہ میٹنگ رمضان میں کھجوروں اور روح افزا  کی ٹیبل پر ہوئی تھی  جب آصف زرداری ابھی آزاد تھے اور پارٹی کی میزبانی کے لیے موجود تھے۔ لیکن اتوار کے دن تک وہ بھی گرفتار ہونے کی توقع رکھتے تھے۔ کیا سیاسی طاقتوں کے  جانشین   جوشیلے اور نوجوان لیڈران طاقت کے سرغنوں کو مشکلات میں ڈال پائیں گے؟ شاید اس سے زیادہ نہیں جتنا انہوں نے پہلے سے ہی پریشان کر رکھا ہے۔ آخر کار پی ٹی آئی کے اس الزام میں کسی حد تک سچائی ہے  کہ یہ دونوں لیڈران اپنے والدین کے بچاو کی مہم پر اکٹھے ہو رہے ہیں۔

پی پی اور ن لیگ نے  دباو بڑھانے کی ہمت صرف اسی وقت دکھائی ہے جب  انہیں قانونی مشکلات سے ریلیف کی توقع میں کمی آئی ہے۔ فیک اکااونٹ کیس جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا، بلاول کی زبان میں تلخی آتی گئی جب کہ مریم نواز کو اپنی کھوئی ہوئی آواز تب واپس ملتی نظر آئی جب  ان کے والد کی بیماری کی بنیاد پر ضمانت  میں توسیع کی درخواست مسترد ہوئی۔ اگرچہ دونوں پارٹیوں نے جنگ کا بگل بجا دیا ہے لیکن  ان کے مخالفین کے لیے یہ کوئی زیادہ پریشان کن مرحلہ نہیں  ہو گا۔

آپ دیکھیں کہ کیسے اپنی پھپھو کی گرفتاری کے کچھ گھنٹے بعد بلاول نے ایک زبردست اور جارحانہ تقریر کی ۔پہلے یہ کہنے کے بعد کہ ان کی فیملی کے افراد کو گرفتاریوں کا سامنا کرنے کی عادت ہے، انہوں نے حکومت پر معاشی دہشت گردی کا الزام لگایا  اور حکومت کو غریب عوام کے معاشی قتل کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ وہ جب چاہیں پارلیمنٹ سے عمران حکومت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے  کیونکہ پی پی چاہتی ہے کہ  پارلیمان اپنی مدت پوری کرے۔

پارلیمنٹ کے اندر حکومت کو ووٹ کے ذریعے تبدیل کرنا نہ تو غیر جمہوری ہے اور نہ غیر آئینی  لیکن یہ سمجھنا مشکل ہے  کہ پی پی حکومت ختم کرنے کے لیے ایسے اقدامات کیوں نہیں کرنا چاہتی  جب کہ وہ خود الزام لگاتی ہے کہ یہ حکومت قتل اور دہشت گردی کی ذمہ دار ہے۔  (ن لیگ نے ایسا بیانیہ نہیں اپنایا ہے لیکن اس کا بھی یہ موقف ہے کہ موجودہ حکومت کو اس قدر وقت دیا جائے کہ یہ خود بخود لوگوں کی نظروں میں ننگی ہو جائے اور عوام کے سامنے اس کی نا اہلی ثابت ہو جائے۔)

سچ یہ ہے کہ پی پی اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ حکومت ختم کر سکے کیونکہ پی پی اور ن لیگ مشترکہ حکومت  اور وزیر اعظم کے امیدوار پر راضی نہیں ہوں گی  اور نہ انہیں ایسا کرنے دیا جائے گا۔ دوسرے الفاظ میں بلاول کا بیانیہ بھی وہی جو عمران خان کا اپوزیشن میں  رہتے ہوئے نظر آ رہا تھا۔ ان کے بیانیہ کا تعلق صرف بیانات سے ہے اور اس کی حقیقت میں کوئی وقعت نہیں ہے۔

مریم نواز بھی ایسی ہی کشتی پر سوار ہیں۔ انہیں آواز تو واپس مل گئی لیکن یہ وہ آواز نہیں جو وہ الیکشن سے پہلے استعمال کرتی تھیں۔ اب وہ صرف پی ٹی آئی کو ٹارگٹ کرتی ہیں  اور پہلے جو ان کا اداروں پر سخت تنقید کا معمول تھا اس سے بلکہ برعکس رویہ اختیار کرتے ہوئے  اداروں کو بلکل تنقید کا نشانہ نہیں بناتیں۔ جو جنگ انہوں نے اپنے والد کے ہمرا ہ شروع کی تھی  جس کا مقصد ووٹ کو عزت دلانا تھا  وہ اب روایتی سیاست تک محدود ہو چکی ہے  جس میں وہ صرف برسر اقتدار پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ بلاول بھٹو کی طرح  نارووال میں مریم نواز کی تقریر بھی صرف عمران خان پر  تنقید پر مشتمل تھی۔ ان کے ٹویٹس بھی صرف سیاسی حکومت پر فوکس ظاہر کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب وہ حکومت کو ڈیفنس بجٹ میں کٹوتی  پر اور ایران میں عمران خان کے بیان پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی  نظر آتی ہیں۔اس بیان میں  عمران نے کہا تھا کہ ایران پر حملے پاکستان کے اندر سے کیے جاتے ہیں۔

اور ان کے معاملے  میں صورتحال یہ ہے کہ بلاول بھٹو کے  بر عکس انہیں ابھی تک نواز شریف کا حتمی جانشین تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ شاید بالآخر اتفاق ہو ہی جائے لیکن ایسا کب ہو گا کہا نہیں جا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ  اتوار کے دن ہونے والی میٹنگ میں نواز شریف کی پارٹی کے بڑے عہدیداران میں سے کسی نے بھی شرکت نہیں کی۔ اس موقع پر مریم کے ساتھ صرف رانا ثنا ء اللہ، محمد زبیر، پرویز رشید، مریم اورنگزیب اور ایاز صادق جیسے عہدیدار شامل تھے۔ پارٹی صدر سے سیکرٹری جنرل اور سیکرٹری جنرل سے سینئر نائب صدر تک تمام لوگ غیر حاضر تھے۔ شاید یہ صرف لاہوری ن لیگیوں کی سادہ سی ملاقات تھی۔

کیا باقی لوگ اس معاملے میں متفق نہیں ہیں؟  خاص طور پر شہباز شریف جو کہ پارٹی کے سربراہ ہیں؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ یا پھر انہوں نے یہ تاریخ  باقی پارٹی عہدیداروں کی مصروفیات کی وجہ سے  مشاورت کے بغیر طے کی تھی؟  (اس کے ساتھ ساتھ دونوں نوجوان لیڈران نے پارلیمنٹ میں بجٹ کی مخالفت پر اتفاق کیا ہے  لیکن کسی کے ساتھ سینئر لیڈر شپ نہیں تھی۔)

اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک دو بڑی پارٹیوں کے بیچ چپقلش باقی رہے گی تب تک پی ٹی آئی حکومت سکون میں رہے گی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مشرف کا دور حکومت اور چارٹر آف ڈیموکریسی  بھی ان دو جماعتوں کو زیادہ دیر تک متحد نہیں رکھ سکے۔ ان کے بیچ امن صرف مشرف سے مذاکرات  تک محدود تھا۔

سینیٹ انتخابات اور پی پی کے شہباز شریف کو پارلیمنٹ میں سپورٹ نہ کرنے کے فیصلے کو بمشکل ایک سال ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ،اب تک کوئ اشارہ نہیں جو یہ ظاہر کرے کہ دونوں فریقین کو تصویر کھچھوانے کے علاوہ کسی چیز میں دلچسپی ہے۔ دونوں پارٹی کے قائدین نے مشترکہ احتجاج کے سوال کو بہت چالاکی سے نظر انداز کیا ہے۔ کل جماعتی کانفرنس ابھی تک نہیں بلائی گئی اور یہ دو پارٹیاں مل کر سینیٹ چیئیرمین کو ہٹانے تک پر متفق نہیں ہیں۔ مہینوں سے،صحافی دعوی کررہے ہیں کہ پاکستان پیپلزپاڑٹی سینٹ میں تبدیلی لانا چاہتی ہے لیکن اب تک کچھ نہیں ہوا ہے۔

اس سے بھی آگے یہ کہ پچھلے جمعہ کے دن کے ایکشن سے ان دونوں پارٹیوں  کی عدم توجہی کا پتہ چلتا ہے۔  وکلا برادری نے  جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کی سماعت کے دن  ان سے اظہار یکجہتی کے لیے ہڑتال کی  کال دی  لیکن دونوں جماعتیں اس دن غائب رہیں ۔ ‏‏‏‏‏‏ایک رپورٹ کے مطابق،رضاربانی نے اس ہڑتال میں حصہ لیا لیکن بہت دکھ کے ساتھ انہیں یہ بتانا پڑا کہ وہ ایک وکیل کی حیثیت سے اس ہڑتال میں شریک ہوئے تھے  نہ کہ پی پی کی نمائندگی کے لیے ۔ انہیں یہ وضاحت کیوں کرنا پڑی؟ ‏‏

یہ کہنا درست ہو گا کہ دونوں پارٹیاں وقتی طور پر درپیش مشکل پر فوکس کیے ہوئے ہیں اور وہ مشکل ان کے لیڈران  کے لیے قانونی مسائل اور گرفتاریاں ہیں۔ وہ یہاں انقلاب لانے یا ملکی سیاست کا رخ بدلنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ یہ کام بعد میں بھی ہو سکتے ہیں  اور دونوں پارٹیاں ٹھیک ہی کر رہی ہیں لیکن کچھ انقلابیوں کے لیے یہ بات قابل قبول نہ ہو، ایسے لوگوں کے لیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بلاول اور مریم مل کر تمام بھیڑیوں کا سامنا کرنے والے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *