سعودی عرب: مذہبی پولیس کے اختیارات میں کمی، ’عوامی تہذیب‘ کا قانون منظور

سعودی عرب نے ملک کو روشن خیالی کی راہ پر لانے کی مہم میں سخت گیر مذہبی پولیس کے اختیارات میں بڑے پیمانے پر کمی کی تھی لیکن اب ایک متوقع 'عوامی تہذیب' کے قانون لائے جانے سے ایک بار پھر ملک کے معتدل حلقوں میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب کے انتہائی قدامت پسند تاثر کو ختم کرنے کے لیے ملک میں سنیما گھروں، موسیقی کے مخلوط کنسرٹس اور کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کو شروع کیا اور اس بات کا تہیہ کیا کہ ملک کو اب اعتدال پسند اسلام کی جانب لے جایا جائے گا۔

ان سماجی تبدیلیوں کو ملک کی عوام میں کافی پذیرائی ملی ہے جہاں کی آبادی کی دو تہائی اکثریت 30 برس سے کم کی ہے اور ملک میں اقتصادی پالیسیوں میں تبدیلیوں کے باعث معاشی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب نے اب فیصلہ کیا ہے کہ شہریوں کے رویے کی نگرانی کی جائے جس کے لیے سعودی کابینہ نے عوامی تہذیب کے نئے قانون کو اپریل میں منظور کیا تھا لیکن یہ اب تک واضح نہیں ہے کہ اس کا اطلاق کب سے ہوگا۔

اس قانون کے مطابق سعودی شہری 'اخلاقی اقداروں' کی پاسداری کریں گے، عوامی مقامات پر ایسے کپڑے، بشمول مردوں کے لیے نیکر، نہیں پہنیں گے جس سے دوسروں کی دل آزاری ہو، اور دیوار پر ایسے نقش و نگار اور نعرے بازی نہیں لکھی یا بنائی جائے گی جو کہ عوام کے لیے 'نقصان دہ' ہو۔

اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر پانچ ہزار ریال تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

سعودی عرب کے ایک محقق سلطان العامر نے ٹوئٹر پر اس نئے قانون کے حوالے سے لکھا کہ 'مذہبی پولیس ایک بار پھر واپس آگئی ہے، اس بار بغیر داڑھی کے۔'

سعودی

کھیلوں کے مقابلے دیکھنے کے لیے مخلوط سکریننگ کا انعقاد ہوا

ماضی میں مذہبی پولیس کے اہلکار گلیوں اور بازاروں میں گھومتے تھے اور ایسی خواتین کو تنبیہ کرتے جنھوں نے شوخ رنگ کی پالش لگائی ہوئی ہوتی اور ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بناتے کہ مرد اور عورت ساتھ نہ اٹھیں بیٹھیں۔

'تبدیلی لانا ایک فن ہے'

اس مبہم قانون کی آمد سے عوام میں کافی تشویش پائی جاتی ہے اور خدشہ ہے کہ اس کی ترجمانی سخت نوعیت کی ہو جس کی وجہ سے لوگوں کو سزا مل سکتی ہے لیکن ساتھ ساتھ اس قانون کا سوشل میڈیا پر مذاق بھی اڑایا گیا۔

عربی زبان میں ہیش ٹیگ 'نیکر عوامی اخلاقیات کو مجروح نہیں کرتے' کافی مشہور ہو گیا ہے اور کئی میمز بھی سامنے آئی ہیں جن میں مرد روایتی عربی جبہ پہن کر ایکسرسائز کر رہے ہیں۔

سعودی میڈیا کے مطابق یہ قانون 25 مئی سے لاگو ہونا تھا لیکن لیکن دو دن بعد کہا گیا کہ ابھی اس کا اطلاق نہیں ہوا ہے اور یہ نہیں بتایا گیا کہ کب ہوگا۔

سعودی تھنک ٹینک عربیہ فاؤنڈیشن کے بانی علی شہابی نے اس قانون پر کہا کہ اسے لانے کا مقصد ملک کے قدامت پرستوں کو خوش کرنا ہے جو حکومت کے اعتدال پسند فیصلوں خلاف دباؤ ڈال رہے تھے۔

'سماجی تبدیلی لانا ایک فن ہے۔ اگر آپ تیزی سے تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور وہ بھی بغیر کسی رد عمل کے، تو وہ قطعی آسان نہیں ہے۔'

جدیدت کی مہم

سعودی

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاست میں انتہائی قدامت پرست مذہبی اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں کردار کم کر دیا ہے

ولی عہد، شہزادہ محمد بن سلمان نے جہاں پچھلے حکمرانوں کی نسبت سب سے زیادہ سیاسی قوت حاصل کی ہے، وہیں انھوں نے سعودی ریاست میں انتہائی قدامت پرست مذہبی اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں کردار کم کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے سخت قوم پرستی کو فروغ دیا ہے۔

سلطنت کے حقیقی حکمران شہزادہ محمد بن سلمان نے خود کو ایک جدید اصلاح کار کے طور پر پیش کیا ہے۔ اُن کے دور میں کئی علما گرفتار ہوئے، جن میں بعض اعتدال پسند سمجھے جانے والے بھی شامل ہیں۔ مذہبی بیانیے پر ان سخت پابندیوں کو کچھ مبصرین نے طاقت کی وسیع مرکزیت کا نام دیا ہے۔

سعودی عرب میں اب زیادہ تر علما سرکاری بیانیے کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں، جس میں شہزادہ محمد بن سلمان کی جدیدیت کی مہم کی مذہبی انداز میں حمایت کرنا بھی شامل ہے۔

معروف سلفی سکالر آیدہ القرنی، جو اسلام کی سخت تشریح کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں، انھوں نے حال ہی میں ٹی وی پر معافی مانگتے ہوئے 33 سالہ شہزادے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

سعودی

ملک میں اب سنیما گھر بھی کھولے جا رہے ہیں

اس کے علاوہ سعودی عالم اور سابق امامِ کعبہ عادل القلبانی نے مردوں اور خواتین کے اکھٹے نماز پڑھنے کا قدیم مدعا چھیڑدیا ہے اور مساجد میں جنسی تفریق کو 'بیماری' سے تشبیہہ دی ہے۔

تاہم اس کے باوجود سعودی عرب میں سماجی تبدیلیوں کے اقدامات کو قدامت پرست حلقوں کی جانب سے پسند نہیں کیا جارہا۔ کئی قدامت پرست گروہ چاہتے ہیں کہ ریاست عوامی رویوں کو مذہبی بنیادوں پر قابو میں رکھے۔

گذشتہ سال سعودی عرب میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک آدمی اور نقاب پوش خاتون کو مصروف سڑک پر ڈانس کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس ویڈیو پر کئی لوگوں نے اِعتراض کرتے ہوئے غصے کا اظہار کیا تھا اور پوچھا تھا کہ مذہبی پولیس کہاں ہے۔

مبصرین کے مطابق قدامت پسند حلقوں کے ایسے مطالبات مزید بڑھ جائیں گے کیونکہ سعودی حکومت اب دبئی کی طرز کی تفریحی سرگرمیاں شروع کرنے جارہی ہے، جو پہلے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔

سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے کا اجازت ملنا بھی ایک بڑا قدم تھا

عوامی ردِعمل کا جائزہ لینے کے لیے اِبتدائی طور پر مذہبی علما نے نماز کے اوقات میں اپنے کاروبار بند نہ کرنے کی وکالت کی ہے، اور یہاں تک کہ ملک کے مغربی حصے میں واقع شہر جدہ میں ایک ثقافتی تہوار کے دوران شراب سے پاک نائٹ کلب کو عارضی طور پر کھولنے کی بھی حمایت کی ہے۔

واشنگٹن میں واقع عرب گلف سٹیٹ انسٹٹیوٹ کی کرسٹن دیوان کہتی ہیں کہ سعودی حکمران چاہتے ہیں کہ لوگوں کے لیے ذاتی اظہار رائے کا دائرکار صرف ریاست کی مرضی کے ساتھ وسیع کیا جائے۔

' مثال کے طور پر گرافیٹی کے لیے ریاست کی اجازت لینا لازمی ہے۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *