عوامی حکومت کا عوامی بجٹ

راؤ شکیل

پنجاب کامیزانیہ برائے 2019-20ء پیش کر دیا گیا ہے۔ حکومت اس بجٹ کو تاریخی متوازن عوام دوست اور غریب نواز قرار دے رہی ہے جبکہ اپوزیشن اسے عوام دشمن اور غریب کش کہہ رہی ہے۔ تاہم اگر حکومت بجٹ میں منصوبہ جات کے لیے مختص کی گئی رقم کو میرٹ پر اور شفاف طریقے سے خرچ کروانے میں کامیاب ہو سکی اور تمام وسائل عوام کی فلاح و بہبود کے لیے نیک نیتی سے وقف کر دئیے گئے تو یہ بجٹ عوامی امنگوں کے مطابق بن سکتاہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا پہلا مکمل بجٹ پیش کیا ہے جس کے مطابق ان کی ترجیحات میں تعلیم کا فروغ، صحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی، زراعت کی ترقی، چھوٹے کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ، فوری اور سستے انصاف کی فراہمی،شلٹر ہوم کا قیام، نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم اور عوام کے جان و مال کا تحفظ سرفہرست ہے۔ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ترقی اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنے کے لیے ان ترجیحات پر تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے بجٹ میں عملی اقدامات کئے گئے ہیں۔


موجودہ بجٹ پاکستان تحریک انصاف کے منشور اور عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کی جانب اہم سنگ میل ہے- پنجاب کے 23 کھرب 57 کروڑ کے بجٹ میں شعبہ صحت کیلئے 308ارب50کروڑ روپے، شعبہ تعلیم کیلئے 382ارب90کروڑ روپے، ترقیاتی کاموں کیلئے350 ارب روپے میں، غیر ترقیاتی بجٹ17 کھرب 17 ارب روپے، اخراجات کا تخمینہ 1298 ارب، ٹیکس وصولیوں کاتخمینہ 19 کھرب 90 ارب،بیوواؤں، یتیموں کیلئے2 ارب روپے، خواتین کو معاشی طورپر خود مختار بنانے، 55 کروڑ درخت لگانے، زراعت کیلئے 113.60 ارب، صاف پانی کی فراہمی کیلئے اتھارٹی کا قیام، انفراسٹرکچر کیلئے 34 ارب، پیداواری سیکٹر کیلئے 24 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، تنخواہوں، پنشن میں 10 فیصد اضافہ، 9 نئے جدید ہسپتال اور 6 نئی یونیورسٹیاں بھی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ موجودہ بجٹ میں مقامی حکومتوں کے لئے437 ارب10 کروڑ،سروس ڈلیوری اخراجات کیلئے279 ارب20 کروڑ، سوشل سیکٹر کیلئے 125 ارب،34 ارب روپے پروڈکشن سیکٹر اور 21 ارب سروسز سیکٹر کے لئے رکھے گئے ہیں۔گزشتہ 10برس کے دوران ترقیاتی منصوبوں کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا گیااور صوبے کے زیادہ تراضلاع پسماندہ ہی رہے-جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے بڑے حصے کو ترقیاتی منصوبوں سے محروم رکھا گیا-سابق حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کے لئے مختص فنڈز کو بھی ذاتی پسند کے منصوبوں پر خرچ کیااور جنوبی پنجاب کو265ارب روپے کی رقم سے محروم کیا گیااور جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے ترقی وخوشحالی کے منصوبے صرف کھوکھلے نعرے ہی رہے، یہی وجہ ہے کہ عام انتخابات میں سابق حکمرانوں کو جنوبی پنجاب میں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے-پاکستانتحریک انصاف کی حکومت پنجاب پورے صوبے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقی کے یکساں مواقع کی فراہمی پر یقین رکھتی ہے-جنوبی پنجاب کے ساتھ سابق دور میں ہر سطح پر زیادتیاں روا رکھی گئیں لیکن اب جنوبی پنجاب کے عوام سے ماضی میں کی گئی زیادتیوں کے ازالے کا وقت آ گیا ہے اور اس مقصد کے لئے تحریک انصاف کی حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کا 35فیصد جنوبی پنجاب کے لئے مختص کیا ہے۔ آئندہ جنوبی پنجاب کے علاقوں کے لئے مختص رقوم کو کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکے گااور جنوبی پنجاب کے لئے مختص فنڈز کسی دوسرے شہر یا منصوبے کو ٹرانسفر نہیں ہوسکیں گے - پنجاب کا بینہ نے اس فیصلے کی منظوری دے دی ہے اور آئندہ سے جنوبی پنجاب کے لئے مختص ترقیاتی بجٹ کو صرف جنوبی پنجاب ہی میں استعمال کیاجائے گا-


تحریک انصاف کی حکومت عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اور عوام کی خوشحالی اور صوبے کی ترقی کیلئے مثالی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ خلوص نیت سے کی گئی شبانہ روزمحنت سے عوام کی زندگیوں میں بہتری لا رہے ہیں۔اپوزیشن کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں اور وہ محض تنقید برائے تنقید کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے لیکن عوام کے مسترد شدہ عناصر کی سیاسی ساکھ ختم ہو چکی ہے اور عام انتخابات میں عوام کی جانب سے رد کئے جانے والے عناصر کا کوئی مستقبل نہیں۔مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی جان لے کہ جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ سابق حکمرانوں کے دور میں کرپشن اپنے عروج پر رہی اور حکومتی خزانے کو بے دردی سے غلط منصوبوں پر ضائع کیا گیااور ملک و قوم کی بجائے صرف اپنا مفاد مقدم رکھا۔اب نئے پاکستان میں کرپشن کی گنجائش ہے نہ کرپٹ عناصر کی۔ وزیراعظم کی قیادت میں نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔ سابق ادوار میں ہونے والی لوٹ مار سے عوام بخوبی واقف ہیں۔سابق حکمران آج وہی کاٹ رہے ہیں جو انہوں نے بویا۔ عوام کے خون پسینے کی کمائی پر عیش کرنے والے رہنما نہیں ہوسکتے۔ بیرونی قرضوں کا دیانتداری کے ساتھ درست استعمال یقینی بنایا جاتا تو آج ملک کی یہ حالت نہ ہوتی۔ اب ملک درست سمت رواں دواں ہو چکا ہے۔ مختصر عرصے میں مختلف شعبوں میں اصلاحات کر کے نئی مثال قائم کی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نئے پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنائے گی۔ حکومت میں صرف عوام کی خدمت کا ایجنڈا لے کر آئے ہیں اور صوبے کے عوام کی خوشحالی اور ترقی سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان اوران کی ٹیم نے معیشت کو درست کرنے کیلئے ٹھوس اقداما ت کئے ہیں۔ سمت درست اور نیت نیک ہے۔ ملک و قوم کی بہتری کیلئے کئے گئے فیصلوں کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور انشاء اللہ فلاح عامہ کے انقلابی پروگرام پر عملدرآمد کرتے ہوئے اہداف حاصل کریں گے اور عوامی خدمت کا شروع ہونے والا سفر رکے گا نہیں، چلتا رہے گا۔
تحریک انصاف کا ایجنڈہ عوام دوست ایجنڈہ ہے جس کا مرکز پاکستان کے عوام ہیں یہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا مربوط پروگرام ہے اور اس ایجنڈے کے تحت بلدیاتی نظام کو حقیقی معنوں میں نچلی سطح پر منتقل کرنے کیلئے کام مکمل کر لیا گیا ہے۔صوبے کی ترقیاتی منصوبہ بندی تعلیم،صحت،مکان اور روز گار کو مد نظر رکھ کر ترتیب دی گئی ہے تاکہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کی جا سکیں۔تحریک انصاف کی حکومت کا ایجنڈہ اس تبدیلی کا پیش خیمہ ہو گا ثابت ہو گا جس کا عزم لے کر تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آئی۔ صوبے کے عوام کو معیاری تعلیمی و طبی سہولتوں کی فراہمیتحریک انصاف مشن ہے جسے رواں مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے صوبے میں ترقی و خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔ صوبہ کے تمام وسائل عوام کی امانت ہیں اور ان کی فلاح و بہبود پر خرچ کئے جا رہے ہیں -تحریک انصاف نیفنڈ ز کے بروقت استعمال کو یقینی بنانے کی بھی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے جس سے نہ صرف منصوبے مقررہ مدت میں مکمل بلکہ عوام بھی ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہوں گے۔ہم توقع رکھتے ہیں کہ حکومت کے اعلان کردہ بجٹ کے بعد یہ فنڈزپنجاب میں ایمانداری اور نیک نیتی سے خرچ کئے جائیں گے اور یہاں کے عوام کو واضح فرق محسوس ہو گا۔ یہی وزیراعظم عمران خان کا وژن اور پالیسی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *