قرضوں کا حساب

" ڈاکٹر مفتاح اسماعیل "

جب گزشتہ سال بجٹ پیش کیا تو تحریک انصاف کے اراکین نے میری تقریر کے دوران آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔ ان کے تین ارکانِ قومی اسمبلی میرے سامنے مستقل پوزیشن سنبھالے ہوئے تھے۔ کشیدہ صورتحال دیکھ کر مہمانوں کی گیلری میں بیٹھی میری بیٹی رونے لگی لیکن میں جانتا تھا کہ جمہوریت میں یہ دھما چوکڑی کوئی نئی بات نہیں۔ وزرا بشمول وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پی ٹی آئی کے اس شور شرابے اور بے ہنگم نعرے بازی کو دل پر نہ لیا اگرچہ ہمارے لیڈر میاں محمد نواز شریف، جو پارٹی کے سر پرست اور ہمارے لئے باعث عزت و احترام ہیں، پر رکیک ذاتی حملے بھی کئے گئے۔ اس مرتبہ نوجوان وزیر، حماد اظہر نے بالکل مختلف ماحول میں بجٹ پیش کرنا شروع کیا۔ اسمبلی میں مکمل خاموشی تھی۔ درمیان میں وزیراعظم کے خلاف کچھ نعرے بازی ہوئی۔ کہنا پڑے گا کہ حماد اظہر نے دبائوکے باوجود بہت پُروقار طریقے سے تقریر کی۔ بجٹ کے بعد وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں یہ اعلان کیا ہے کہ ایک کمیشن تحقیقات کرے گا کہ گزشتہ دو حکومتوں نے دس سال کے عرصہ میں اتنا بھاری قرضہ کیوں لیا تھا؟ تقریر شاید ایڈٹ کی جاری رہی تھی۔ اس کی روانی کے متاثر ہونے اور تعطل پڑنے کو نوٹ کیا گیا۔ تقریر میں اشتعال کا عنصر غالب تھا۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اُنہیں کسی بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوتے ہوئے خوشی ہوگی، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم کو زیادہ تردد کی ضرورت نہیں، وہ اپنی فنانس منسٹری کو ایک فون کریں، اُن کے پاس تمام تفصیل موجود ہے۔ وہ پریزنٹیشن دے دیں گے کہ یہ قرض کہاں کہاں خرچ ہوا چونکہ وزیراعظم لاعلم دکھائی دیتے ہیں، میں دستِ تعاون بڑھاتے ہوئے قارئین کے سامنے مسلم لیگ(ن) دور کا حساب رکھ دیتا ہوں۔ پی پی پی دور کے حساب کے لئے کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ وزیراعظم اپنے مشیر برائے مالیاتی امور، حفیظ شیخ اور صدر زرداری کے مشیر برائے مالیاتی امور، سلیم مانڈی والا، جنہیں انہوں نے اور زرداری صاحب نے مل کر ڈپٹی چیئرمین بنایا سے پوچھ لیں۔

30,000ارب روپے قرض جو بقول وزیراعظم، مسلم لیگ(ن) نے اپنے دورِاقتدار کے اختتام پر چھوڑا، درست نہیں۔ جون 2018کو (ہماری اقتدار کی مدت تمام ہونے کے ایک ماہ بعد) قرض کا حجم 24,952 ارب روپے تھا۔ حالیہ ’’اکنامک سروے آف پاکستان‘‘ (صفحہxi) کے مطابق ’’مارچ 2019کے اختتام پر کل قرضہ 28,607ارب روپے تھا، جس میں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران 3655ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری مدت تمام ہونے پر قرضہ24,592 ارب روپے تھا۔ جب ہم اقتدار میں آئے تو قرض 14,292ارب روپے تھا (باکس1، صفحہ138،پاک اکنامک سروے) اور جب ہم گئے تو قرضہ 24,952ارب روپے تھا۔ اس طرح ہمارے دور میں 10,660ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ میرے سینئر کولیگ، اسحاق ڈار کا استدلال بالکل درست ہے کہ اس میں وہ رقم شامل نہیں جو ہم مختلف بینک اکائونٹس میں چھوڑ گئے تھے۔ اگر ہم اُس رقم، جس کا حجم ایک ہزار بلین روپے ہے، کو قرض میں اضافے سے منہا کردیں تو ہمارے پانچ سالہ دور میں 9600ارب روپے قرض بڑھا۔ اب موجودہ صورتحال پر ایک نظر ڈالیں۔ موجودہ حکومت پہلے مالی کے سال کے اختتام تک قرض میں 5000ارب روپے کا اضافہ کرچکی ہے۔

وزیراعظم قرض پر اپنی رائے کو حتمی سمجھتے ہیں لیکن حقائق سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔ جب تک آپ حکومت کے تصرف میں کل وسائل کا حساب نہیں کرتے، آپ قرض کے بارے میں نہیں جان سکتے۔ اپنے پانچ سالہ دور اقتدا ر میں مسلم لیگ(ن) نے 16,277ارب روپے کے محصولات جمع کئے۔ اس دوران نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 4056ارب روپے اور فنانس باروئنگ سے 8324ارب روپے حاصل کئے گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ پانچ سالوں میں ہمارے تصرف میں کل 28,661ارب روپے تھے۔ درج ذیل وہ تفصیل ہے کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی۔

ہم نے 8328ارب روپے صوبوں کو اور 6563ارب روپے قرض کی اقساط میں ادا کئے۔ قومی دفاع پر 3997ارب روپے خرچ ہوئے۔ ہم نے 1226ارب روپے پنشن، 755ارب روپے بے نظیر انکم سپورٹ اور نان پی ایس ڈی پی ترقیاتی پروگراموں اور 1379حکومت چلانے پر خرچ کئے۔ اس کے علاوہ ہم نے 1669ارب گرانٹس اور 1440ارب روپے پبلک سروسز پر خرچ کئے۔ ہم نے 2819ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے۔ ان میں حویلی بہارد شاہ اور بھیکھی پاور پلانٹس، تربیلا فورتھ توسیع کی تکمیل، نیلم جہلم ہائیڈرو منصوبہ، کچی کینال، 1700کلو میٹر چھے لین موٹر ویز، 8000کلومیٹر انٹر سٹی موٹر ویز، گوادر ائیرپورٹ وغیرہ شامل ہیں۔ نواز شریف کے ریکارڈ ترقیاتی کام لفاظی کے محتاج نہیں، حقائق خود بولتے ہیں۔ اس طرح پانچ سالوں کے دوران ہم نے 27,748بلین روپے خرچ کئے۔ باقی 913بلین روپے قرضے اور پبلک سیکٹر میں چلنے والی انٹر پرائزز پر خرچ ہوئے۔ یہ ہے ہمارا حساب۔ اب کوئی رنجش دل میں لائے بغیر حکومت سے پوچھتا ہوں کہ اُن کا حساب کہاں ہے؟ وہ 3000ارب روپے کے خسارے میں کیوں جارہے ہیں؟ اس نے ریکارڈ 5000ارب روپے قرض کے بوجھ میں کیوں اضافہ کردیا ہے؟ اگر ہم نے قرض لیا تھا تو ہم نے پاکستان کا انفرااسٹرکچر تعمیر کیا تھا۔ اُنھوں نے پاکستان کو ترقی دینے کے لئے ’’پشاور میٹرو ‘‘ کے سوا اب تک کیا تعمیر کیا ہے؟ حکومت کو جو سبق سیکھنا چاہئے تھا، وہ یہ ہے کہ پاکستان میں خسارے کے بجٹ کا تعلق ایک نظام کی خرابی سے رہا ہے، جسے اسحاق ڈار اور مسلم لیگ(ن) نے بہت حد تک کنٹرول کیا تھا اور یہ کہ اس پر بدعنوانی کا الزام غلط تھا۔ اگر حکومت کا فارمولہ مان لیا جائے کہ مسلم لیگ(ن) نے اپنے پانچ سالہ دور میں 10,660ارب روپے (قرض میں اضافہ) چرائے تھے تو اسی فارمولے کے مطابق حکومت اپنا حساب دے کیونکہ اس نے پہلے ہی سال 5000ارب روپے چرا لئے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *