نوجوان پر بلا اشتعال فائرنگ پر ڈولفن فورس کے 4 اہلکار معطل

پنجاب انسپکٹر جنرل پولیس عارف نواز خان نے ایم ایم عالم روڈ پر نوجوان موٹرسائیکل سوار پر بلا اشتعال فائرنگ کے الزام میں ڈولفن فورس کے 4 اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکم دے دیا۔

رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے بتایا گیا کہ 20 سالہ موٹرسائیکل سوار رضا اپنی والدہ کے لیے ادویات خریدنے جارہا تھا کہ ڈولفن اہلکاروں نے ایم ایم عالم روڈ پر اسے رکنے کا اشارہ کیا۔

موٹرسائیکل سوار نے ڈولفن اہلکاروں کا اشارہ نہیں نہیں دکھا جس پر اہلکاروں نے نوجوان پر فائرنگ کردی اور ایک لوگ رضا کے پاؤں پر لگی اور وہ روڈ پر گر گیا۔

ڈولفن اہلکار نوجوان کو پہلے لیبرٹی مارکیٹ لے گئے جہاں انہوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس پر زور دیا کہ وہ ڈاکو ہونے کا اعتراف کرے۔

بعدازاں اہلکار زخمی نوجوان کو بجی ہسپتال لے گئے جہاں اسے دوسرے طبی مراکز منتقل کردیا گیا۔

رضا کی والدہ نے میڈیا پر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے مطالبہ کیا کہ وہ واقعہ کو نوٹس لیں اور ڈولفن اہلکاروں کے ہاتھوں تشدد بننے والے لوگوں کی ماؤں کو انصاف فراہم کریں۔

اس دوران آئی جی پی عارف نواز خان نے واقعہ کا نوٹس لیا اور سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کرلی۔

انہوں سی سی پی او کو ہدایت دی کہ ذمہ دارانہ اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیں۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایس پی ڈولفن بلال ظفر نے فائرنگ کرنے والے 4 اہلکاروں کو معطل کردیا اور ان کے خلاف انکوائری شروع کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ڈولفن فورس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک مسیحی خاتون ہلاک ہو گئی تھیں۔

مقتولہ خاتون اپنے خاوند اور بیٹی کے ہمراہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی سے واپس اپنے گھر جاررہے تھے کہ اس دوران بینک اسٹاپ کے پاس ڈولفن فورس کے اہلکاروں نے متاثرہ خاندان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں خاتون سر پر گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئی۔

اس سے قبل نومبر 2018 میں ڈولفن فورس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے گلشن راوی میں ذہنی معذور شخص جاں بحق ہو گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *