'اب حساب کتاب بند کرکے آگے کی بات کی جائے'

سابق صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں حساب کتاب کا بند کیا جائے اور آگے کی بات کی جائے، ایک عام آدمی خوفزدہ ہے کہ اگر آصف زرداری گرفتار ہوسکتا ہے تو اس کا کیا ہوگا؟

قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران آصف علی زرداری اپنے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے پر اسپیکر قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا، جبکہ اس کے لیے کوشش کرنے والی سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کی کوششوں کو سراہا۔

اپنے خطاب کے آغاز میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ کہیں یہ صداقت نہیں ہے کہ یہ بجٹ محکمہ خزانہ نے ترتیب دیا ہے.

انہوں نے کہا کہ خیرپور اور اطراف کے اضلاع میں 'ماکڑ' آئی ہوئی ہے جس سے کپاس کی فصلیں خراب ہونے کا خدشہ ہے لیکن اس کا کوئی انتظام بھی نہیں کیا گیا۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ سعودی عرب سے امداد یا مشینینں آجاتیں تو اس پریشانی پر بھی قابو پالیا جاتا، کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اسے کپاس کو برآمد کرنا ہے۔

اپنے دور حکومت میں کپاس کی صنعت کی ترقی سے متعلق بات کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ صنعت 19 ارب ڈالر پر ملی تھی تاہم حکومت کے اختتام تک اسے 27 ارب ڈالر پر چھوڑا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں 3 یا 4 ایسے مسائل ہیں جس پر حکومت کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ساتھ بیٹھ کر ایک معاشی پالیسی ترتیب دی جائے جیسے ایک ملکیت دی جائے تاکہ وہ چلتی رہے۔

چیئرمین پی پی پی نے مزید کہا کہ کل ایک جماعت کی حکومت تھی، آج کسی اور جماعت کی حکومت ہے کل کسی اور جماعت کی حکومت ہوگی، تاہم معاشی پالیسی چلتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے تو سب کچھ ہے اگر پاکستان نہیں ہے تو کوئی کچھ نہیں ہے۔

سابق صدر نے کہا کہ یہ ملک پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس کے لیے ان کی پارٹی رہنماؤن نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل ہوا تو سندھ میں نعرہ لگ رہا تھا کہ 'پاکستان نہ کھپے' لیکن میں نے کھڑے ہوکر 'پاکستان کھپے' کا نعرہ لگایا تھا۔

بجٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ 'اگر بجٹ اچھا ہے تو پھر صنعتکار کیوں رو رہے ہیں وہ آوازیں لگا رہے ہیں کہ ہمیں بچاؤ، کیوں غریب رو رہا ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ بجٹ میں کچھ مسئلہ ہے۔'

تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ 'جہاں سے میں آرہا ہوں وہاں ایسا خوفزدہ ماحول بنایا ہوا ہے کہ اس سے ایک عام کاروباری شخص کو اتنا خوف ہے کہ وہ کسی کام میں ہاتھ ڈالنے اور کاروبار کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔'

انہوں نے کہا کہ اب جس شخص کے پاس 5 لاکھ روپے ہیں اس کو ایف بی آر کا نوٹس جاری ہوجائے گا، اب کون کون پورے ملک میں حساب دیتا پھرے گا؟

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ یہ حساب کتاب بند کیا جائے اور آگے کی بات کی جائے، ایک عام آدمی خوف زدہ ہے کہ اگر زرداری صاحب پکڑے جاسکتے ہیں تو پھر ہمارا کیا بنے گا؟

ملک میں گرفتاریوں کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ اگر میں گرفتار ہوں گا تو عام آدمی گھبرائے گا کہ اگر آصف زرداری گرفتار ہوسکتا ہے تو ہمارا کیا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جو اس حکومت کو لے کر آئی ہے انہیں اس معاملے پر سوچنا پڑے گا، ایسا نہ ہو کہ معاملات سیاسی رہنماؤں کے ہاتھوں سے بھی نکل جائے۔

اپنی ماضی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آج میری ماضی کی یادیں تازہ ہوگئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *