ایفل ٹاور کے سائے میں 600 میٹر طویل فن پارہ

پیرس کے ایفل ٹاور پارک میں حیاتیاتی طور پر فنا ہو جانے والے فن پارے کی نمائش

پیرس میں معروف ایفل ٹاور کے دامن میں واقع پارک میں فن کے ایک نمونے کی سنیچر کو باضابطہ رونمائی ہوئی ہے جس میں ایک انسانی ہاتھ دوسرے ہاتھ کو تھامے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔

سپرے سے پینٹ کیا جانے والا یہ فریسکو یعنی استر کاری والا فن فرانس کے دارالحکومت پیرس کے چیمپ دی مارس پارک میں 600 میٹر سے زیادہ طویل رقبے پر پھیلا ہوا ہے جسے معروف ایفل ٹاور کی بلندی سے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کا عنوان دیواروں سے پرے دیا گيا ہے

 

یہ فرانسیسی فنکار سیپے کے فن کا نمونہ ہے۔ سیپے کا اصل نام گیوم لیگرو ہے اور ان کے فن کی خصوصیت حیاتیاتی طور پر فنا ہو جانے والی پینٹنگز بنانا ہے۔

ان کے فن کے نمونے دنیا بھر میں پہاڑوں اور پارکوں میں نظر آئے ہیں اور چند دنوں یہ فن پارے از خود مٹی میں مل جاتے ہیں۔

سیپے اپنے عظیم نمونے پر کام کرتے ہوئے یہاں دیکھے جا سکتے ہیں

ان کے تازہ فن کا نمونہ 'بیانڈ والز' یعنی دیواروں کے پار میں ایک سلسلے میں انسانی ہاتھ ایک دوسرے کو تھامے ہوئے ہیں یہ فن پارہ 'ایس او ایس میڈیٹرانی' نامی خیراتی ادارے کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ ادارہ بحرِ روم میں ڈوبنے کے خطرے کے باوجود وطن چھوڑ دینے والوں کو بچانے کا کام کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال ہر دن اوسطاً بحر روم کو عبور کرنے والے چھ تارکینِ وطن کی موت واقع ہوئی ہے۔

دیواروں کے پرے اس فن پارے کی تصویر 13 جون کو لی گئی ہے

سیپے نے گارڈین اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ ایسے زمانے میں میل جول اور ساتھ ہونے کی علامت ہے جب کہ نفسا نفسی کا عالم ہے۔'

پریس کی میئر این ہنڈالگو نے سنیچر کو باضابطہ طور پر اس پینٹنگ کا افتتاح کیا۔

فنکار اپنے فن کے نمونے کے ساتھ

یہ سیپے کے تین سال تک جاری رہنے والے پروجیکٹ کی ابتدا ہے۔ وہ دنیا کے 20 اہم شہروں میں اپنے اس فن کا مظاہرہ کریں گے۔

لندن، برلن، نیروبی اور بیونس آئرس میں بھی اسی قسم کی تصویر بنائی جائے گی جس میں ہاتھ کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہاتھ دیکھے جائيں گے جو گرنے سے بچانے کی علامت ہیں۔

فنپارے کا ایک منظر

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *