کرکٹ ورلڈ کپ 2019: ’پاکستانی ٹیم کا سیمی فائنل میں پہنچنے کا چانس بن سکتا ہے‘

انگلینڈ اور ویلز میں جاری کرکٹ کے ورلڈ کپ میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کی حالت تقریباً ایک جیسی ہے۔ غیر مستقل مزاج کارکردگی نے ان دونوں ٹیموں کو عالمی کپ سے باہر ہونے کے دہانے پر کھڑا کررکھا ہے۔

ایسے میں فاسٹ بولر وہاب ریاض کو امید ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنی حریف ٹیم سے نسبتاً زیادہ باصلاحیت ہونے کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم اب تک پانچ میں سے صرف ایک میچ جیت کر تین پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل پر نویں نمبر پر ہے جبکہ جنوبی افریقہ نے چھ میں سے ایک میچ جیتا ہے۔ اس کے بھی تین پوائنٹس ہیں لیکن بہتر رن ریٹ کی وجہ سے وہ آٹھویں نمبر پر ہے۔

وہاب ریاض کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے پاس جو ٹیلنٹ ہے وہ جنوبی افریقی ٹیم کے پاس نہیں ہے۔ ان کے بولرز بہت اچھے ہیں لیکن یہ دیکھا جاتا ہے کہ بحیثیت ٹیم آپ کی کارکردگی کیسی ہے؟

جنوبی افریقہ بھی کہیں نہ کہیں ناکام ہو رہی ہے اور پاکستانی ٹیم نے بھی میچ ہاتھ سے گنوائے ہیں لہذا اتوار کو جو بھی اچھا کھیلے اور دباؤ کو اچھے طریقے سے ہینڈل کرے گا وہ جیتے گا۔

وہاب ریاض نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے کہ پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم اگر چاروں میچ جیت لیتی ہے اور انگلینڈ اور نیوزی لینڈ اگلے میچوں میں ہارتی ہیں تو پاکستانی ٹیم کا سیمی فائنل میں پہنچنے کا چانس بن سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ آسٹریلیا کے میچ کی وکٹ 270 رنز سے زیادہ کی نہیں تھی لیکن بولرز نے اچھی بولنگ نہیں کی۔ بولرز نے کوشش ضرور کی لیکن وہ اچھی بولنگ نہیں کر سکے۔ بولرز نے وکٹیں ضرور لی ہیں لیکن ابتدائی اوورز میں وہ وکٹیں لینے میں ناکام رہے ہیں۔

یاد رہے کہ خود وہاب ریاض اب تک چار میچوں میں 47.40 رنز کی اوسط سے اب تک صرف پانچ وکٹیں حاصل کرسکے ہیں۔

وہاب ریاض کا کہنا ہے کہ انڈیا سے ہونے والا میچ یقیناً پریشر گیم تھا لیکن پاکستانی ٹیم جتنی اچھی ہے وہ اتنی اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی۔

ٹیم پر ہونے والی تنقید کے بارے میں وہاب ریاض کا کہنا ہے کہ انڈیا کے خلاف شکست کے بعد ہونے والی تنقید میں اگر کارکردگی کو ہدف بنایا جاتا تو بہتر ہوتا لیکن اس میں ذاتیات حاوی رہی جو صحیح نہیں ہے۔ ہمارے لوگ انڈیا کے خلاف ہونے والے میچ کو جنگ بنا لیتے ہیں۔ کھلاڑیوں کو بہت زیادہ مایوسی ہے کہ وہ اپنی قوم کو خوشی نہیں دے سکے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کرکٹرز کے خاندانوں کے بارے میں نامناسب باتیں کی گئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *