مجھے یقین دلاو

وہ میرا پیارا شاگرد ہے۔ یہ ہوتا ہے کچھ شاگرد آپ کے قریب آ جاتے ہیں۔ اور پھر زندگی بھر کا تعلق بن جاتا ہے۔ یہ تعلق بہت خوبصورت ہے۔ اس میں استاد شاگردی والا احترام بھی ہوتا ہے۔ دوستوں والی محبت اور بے تکلفی بھی شامل ہو جاتی ہے۔ اور وہ قربت بھی آ جاتی ہے۔ جب ذاتی باتیں بھی بانٹ لی جاتی ہیں۔ پہلی بار وہ مجھے کلاس کے باہر ملا۔ اور کہنے لگا۔ کیا میں اپنی اسائنمنٹس چیک کروانے آپ کے گھر آ سکتا ہوں۔ میرا جواب تھا۔ جب آپ کا دل چاہے۔ دو دن بعد وہ میری طرف چلا آیا۔ اس نے تھامس ہارڈی کے ناول ٹیس آف دی ڈربرول پر اسائنمنٹ تیار کی تھی۔ میں نے اسے پڑھا کچھ ٹپس دیں اور کہا دوبارا لکھ کر لائے۔ وہ دوبارا آیا۔ میں نے پھر کچھ ٹپس دیں۔ اور کہا۔ پھر لکھ کر لاو۔ اب کے وہ نہیں آیا۔ کافی دنوں بعد کالج میں نظر آیا۔ تو کچھ دل برداشتہ تھا۔ کہنے لگا۔ اگر آپ کے پاس وقت نہیں۔ تو میرا تماشہ تو نہ لگائیں۔ میں نے مسکرا کر کہا۔ کل میری طرف آ جاو۔ وہ آیا اور میں نے وہی اسائنمنٹ اسے لکھوا دی۔ اس نے میری اور اپنی تحریر کا موازنہ کیا۔ اور خاموشی سے اٹھ کر چلا گیا۔ ایم اے کیا۔ اور بیس سال پہلے آئرلینڈ شفٹ کر گیا۔ لیکن میرے ساتھ جڑا رہا۔ اس کی محبت کبھی نظر انداز نہ ہوئی۔ پھر آہستہ آہستہ ہمارے درمیان وقفے آنے لگے۔ تین چار سال پہلے میں نے اس کی فیس بک وال چیک کی ۔ اور مجھے انکشاف ہوا۔ وہ عمران خان کو پیارا ہو چکا ہے۔ اور شاید ہمارے درمیان بڑھتے فاصلوں کی وجہ بھی یہی تھی۔ لیکن وہ اکیلا نہیں تھا۔ وہ بڑا پرآشوب دور تھا۔ میرے بے شمار شاگرد ، رشتے دار اور دوست امید اور خواب کا دامن تھامے خوشی اور کامیابی کی ایک اندیکھی دنیا کی جانب نکل گئے۔ ایک ایسی رومان پرور دنیا جہاں کرپشن نہیں ہو گی۔ کرپٹ افراد کو سزائیں ملیں گی۔ لوٹا ہوا مال برآمد ہو گا۔ جہاں میرٹ ہو گا۔ سادگی اور بچت ہو گی۔ وزیراعظم سائیکل پر سفر کرے گا۔ گورنر ہاوسز اور وزیراعظم ہاوس میں لائبریریاں اور یونیورسٹیاں بنیں گی۔ قرضے اتر جائیں گے۔ نصاب تعلیم اور طریقہ تعلیم یکساں ہو گا۔ ملک ترقی کرے گا۔ قرض نہیں لیا جائے گا۔ بلکہ پرانا قرض بھی اتار دیا جائے گا۔ موروثی سیاست نہیں ہو گی۔ دنیا بھر میں سبز پاسپورٹ کی عزت ہو گی۔ وغیرہ وغیرہ ۔ اور خواب و خیال کی اس رومان پرور اور امید بر آور دنیا میں ہم جیسے لوگوں کو ولن کے طور پر لیا گیا۔ جو بدلتے زمانوں کا ساتھ نہ دے سکے۔ جو اس تبدیلی کو سمجھ نہ پائے۔ جو ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی تھی۔ شاگرد، دوست اور رشتہ دار ہم پر ترس کھاتے اور پھر انہوں نے ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا۔
اور آج دو اڑھائی سال بعد اس کا مجھے فون آیا تھا۔ وہ بہت پرجوش تھا اور مجھ سے سیاست پر بحث کرنا چاہ رہا تھا۔ میں نے مسکرا کر کہا۔ لیکن میں بحث کرنا نہیں چاہتا۔ ہاں ، تم نے جو بولنا ہے۔ وہ بول دو۔ میں آرام سے سن لوں گا۔ ضروری ہوا۔ تو کچھ مزید پوچھ لوں گا۔ کہنے لگا۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں۔ میاں برادران اور زرداری فیملی کرپٹ ہے۔ اور یہ سب کچھ لوٹ کر کھا گئے ہیں۔ یہ نسل در نسل ڈاکہ مار رہے ہیں۔ اب یہ ہمارے ملک کی جان چھوڑ دیں۔ میں نے پوچھا ۔ ثبوت کیا ہے۔ کہنے لگا ان کا لائف سٹائل ۔ میں نے جوابا یہ سوال نہیں کیا۔ عمران خان کا لائف سٹائل کیسا ہے۔ اس کا ذریعہ آمدن کیا ہے۔ وہ بولتا رہا۔ سر ! انہوں نے کرپشن سے ملک برباد کر دیا۔ قرضوں سے معیشت تباہ کر دی۔ ہم تباہ شدہ ملبے سے نئی عمارت تعمیر کر رہے ہیں۔ فوج ہمارے ساتھ ہے۔ عدلیہ ہمارے ساتھ ہے۔ ہم پانچ سال پورے کریں گے۔ فوج فیصلہ کن طاقت ہے۔ اور یہ طاقت ہمارے ساتھ ہے۔ ہم سب کو ٹانگ دیں گے۔ وہ بولتا رہا۔ میں سنتا رہا۔ آخر میں میں نے کہا۔ میں تمہاری کسی بات کو چیلنج نہیں کرتا۔ کسی الزام کو ڈیفینڈ نہیں کرتا۔ سمجھ لو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اب ایک بات بتاو۔ کیا تم مجھے یقین دلا سکتے ہو۔ کہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد پاکستان دو تین سال بعد ترقی کر رہا ہو گا۔ اور تمہارے خواب پورے ہو جائیں گے۔ وہ پھر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔ میں نے پھر پوچھا ۔ مجھے یقین دلاو ۔ اس کا جواب تھا۔ ہم انسانی غلطی کو اگنور نہیں کر سکتے۔ پھر سسٹم کی مجبوریاں بھی ہیں۔ جیسے عمران کو سینٹ الیکشن میں زرداری سے ہاتھ ملانا پڑا۔ جنرل باجوہ کو معاشی ترقی کی کونسل کا ممبر بنانا پڑا۔ میں نے ہنس کر کہا۔ تم سسٹم کی مجبوریوں کا لائسنس عمران خان کو تو دیتے ہو۔ دوسروں کو کیوں نہیں دیتے۔ کہنے لگا۔ عمران خان ایماندار ہے۔ میں کہنا چاہ رہا تھا۔ اس نے چن چن کر اپنے زاتی دوست اہم عہدوں پر لگائے ہیں۔ لیکن میں خاموش رہا۔ بس یہ کہا۔ چلو دو تین سال بعد پھر بات کرتے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *