معاشی صورت حال، حکومت کرنا کیا چاہتی ہے؟

" نعیم صدیقی "

قومی اسمبلی کا موجودہ اجلاس ہنگاموں سے بھرپور ہو تا جا رہا ہے۔ بجٹ پر حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے سنجیدہ بحث کا کوئی امکان نظر نہیں آتا اور اب تک کوئی بھی قابلزکر پیش رفت نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کے لیے یہ بجٹ زندگی کا ایک بہت بڑا امتحان بن جائے گا۔ اگرچہ بجٹ ابھی تک باقاعدہ پاس ہو کر ایک آئینی دستاویز نہیں بنا لیکن مہنگائی کا وہ طوفان اٹھا ہے کہ لوگوں کی ابھی سے چیخیں نکل رہی ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ بجٹ پاس کرا پائے گی۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اراکین شور شرابہ کرتے ہیں اور بجٹ پر سنجیدہ بحث نہیں ہوتی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی طرٖ ف سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی اپوزیشن اجلاس کو چلانے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے لیکن ہنگامہ آرائی میں سب پیش پیش ہوتے ہیں۔پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائیمعمول کی کاروائی بن گیا ہے۔اسمبلی اجلاس کے دوران چور چور اور ڈاکو ڈاکو کی آوازیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے ایک دوسرے پر شدید تنقید کی جاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب ہی کسی نہ کسی طرح سے کرپشن کا شکار ہیں۔بجٹ کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔حکومتی اراکین کے رویے کو اپوزیشن کی جانب سے نامناسب کہا جا رہا ہے اگر ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے تو اس حکومت کے لیے بجٹ پاس کرانا بہت دشوار ہو جائے گا جو کہ ایک آئینی تقاضا اور لازمی ضرورت ہے۔ شہباز شریف نے اسمبلی اجلاس میں حکومت کو میثاق معیشت کی پشکش کی تھی لیکن مریم نوازنے اس کو مذاق معیشت قرار دیا تھا کیونکہ حکومت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اسے ملک کی معیشت کی کوئی فکر نہیں ہے اسی لیے حالات مسلسل خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔احسن اقبال کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس کوئی تجربہ نہیں ہے۔دس سال کے قرضوں پر انکوائری کمیشن میں انٹیلی جنس اداروں کے لوگوں کو شامل کرنے پر اعتراض کیا جا رہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کے جج کو بنایا جائے تا کہ حکومت کی نیت پر شک نہ کیا جائے۔حکومت کے اتحادی اور کچھ اراکین اسمبلی بھی عمران خان کی حکومت سے نالاں دکھائی دیتے ہیں،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کو بیک وقت کئی محاذوں پر معاملات کو نہ صرف دیکھنا ہے بلکہ ان کا مناسب حل بھی نکالنا ہے۔ایک ق لیگ ہے جو حکومت کو مکمل سپورٹ کر رہیہے اور دوسرا شیخ رشید ہیں۔ایم کیو ایم کے ساتھ پیپلز پاٹی کے رابطے ہیں اور دیکھنا ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔اب تک ایم کیو ایم کو بغیر مانگے ایک اور وزارت مل گئی ہے۔اختر مینگل حکومتی رویے سے سخت ناراض ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ وہ کسی بھی وقت اپوزیشن کی طرف چلے جائیں کیونکہ انھوں نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت پر نیم رضامندی ظاہر کر رکھی ہے۔26 جون کو مولینا فضل الرحمن نے آل پارٹیز کانفرنس طلب کررکھی ہے۔جماعت اسلامی اس میں شرکت نہیں کرے گی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جدوجہد مشترکہ اپوزیشن سے الگ جاری رہے گی کیونکہ جماعت اسلامی پہلے ہی حکومت کے بجٹ کو ملک اور قوم کا دشمن قرار دیتے ہوئے مستردکر چکی ہے اور ان کی جانب سے باقاعدہ احتجاجی جلسے بھی شروع کر دیے گئے ہیں۔ متحد اپوزیشن کی اپنی پوزیشن بھی مشکوک دکھائی دیتی ہے کہ وہ مل کر حکومت کو ملک اور قوم کے مسائل پر آڑے ہاتھوں لینے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتی کیونکہ ان سب کے خلاف احتساب کی چکی دھیرے دھیرے چل رہی ہے۔ایسے صورت حال میں تو اپوزیشن خود ایک مسئلہ بن گئی ہے۔شہباز شریف نیب میں آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بھگت رہے ہیں جس سے جان چھڑانا کبھی بھی آسان نہیں ہو سکتا۔حمزہ شہباز بھی نیب کے رحم و کرم پر ہیں۔ اعتزاز احسن نے بلاول زرداری کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شریف خاندان سے دور رہیں کیونکہ ان کے بقول یہ خاندان ہمیشہ اپنا مطلب حل کر کے دوسروں کو دہوکہ دیتے ہیں۔لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ بلاول حکومت کے خلاف تحریک کیسے چلائیں کیونکہ آصف زرداری اور بلاول زرداری کے علاوہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت عمران خان کی حکومت کو ملک اور قوم کے لئے اچھا نہیں سمجھتے بلکہ آصف زرداری نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ان کا کوئی اعتبار نہیں کہ نجانے کب ملک سے بھاگ جائیں اور ملک تو انھوں نے سنبھالنا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفر نس حکومت کے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے او کتنی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی کی آصف زرداری سے ملاقات ہوئی ہے جس میں اگرچہ ان کے خلاف سینٹ میں عدم اعتماد کی قرار داد نہ لانے کی بات ہوئی ہوگی لیکن اس کا اظہار ابھی تک نہیں کیا جا رہا۔مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کا یہ پلان سامنے آیا ہے کہ وہ سینٹ میں چئیر مین کو تبدیل کریں گے۔پاکستان میں سیاست امیر خاندانوں کے گرد گھومتی ہے۔عوام کے مسائل کو سامنے رکھ کر کوئی بھی سیاسی جماعت سیاستنہیں کرتی اور نہ ہی عوام ان کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں حالانکہ ملک کے اندر حالات بہت خراب ہیں عوام مشکل ترین زندگی کے دن گذارنے پر مجبور ہیں۔ان کا کوئی پرسان حالنہیں ہے۔عوام کی حالت بد سے بد تر ہو گئی ہے جب کہ جو لوگ عوام کے نمائندے منتخب ہوئے جو حکومت میں آگئے ہیں۔ان کے دن بدل گئے ہیں اور جن لوگوں کے ووٹوں سے، یہ حکومت میں بیٹھے لوگ ہیں۔ ملک اور قوم کے مسائل مہنگائی،بیروزگاری اور تباہ و برباد ہوتی ہوئی معیشت کے ذمہ دار بھی یہی منتخب لوگ ہیں۔مسلم لیگ کے رہنما احسن اقبال نے تو آئندہ سال مڈ تڑم الیکشن کی بات بھی کر دی ہے لیکن انھیں اس بات کا احساس نہیں ہے کہ الیکشن پر قوم کا کتنا پیسہ خرچ ہوتا ہے۔اگر ماضی کی حکومتیں ملک اور قوم کی خدمت کرتیں اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہوتا تو آج صورتحال اسقدر غیر یقینی نہ ہوتی کہ ناتجربہ کارلوگوں کے ہاتھوں ملک اور قوم مسلسل مشکلات کا شکار ہیں۔تمام ادارے موجود ہیں عوام کی نمائندگی کے دونوں ایوان موجود ہیں لیکن ملک کے مسائل بڑھتے ہی جا رہے ہیں عوام غیر یقینی کی کیفیت سے دوچا ر ہیں۔اب حالات میں مثبت اور خوش گوار تبدیلی کون لائے گا اور یہ سب کچھ کیونکر ہو گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا اپوزیشن بجٹ رکوانے کی پوزیشن میں ہے یا محض حکومت کی مخالفت لفظی جنگ کی حد تک کرتی رہے گی۔اگر بجٹ قومی اسمبلی میں پاس نہیں ہوتا تو یہ صورتحال عمران خان کے لیے بہت سی مشکلات پیدا کر دے گی۔ ایسا ہوتا ہے تو پھر عمران خان کی حکومت اپنی افادیت کھو بیٹھے گی اور ملک بحران کا شکار ہو سکتا ہے جس کے آثار اگرچہ بہت واضع تو نہیں لیکن یہ پاکستان ہے جہاں بہت کچھ ایسا ہو جاتا ہے جو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوتا لیکن مثالیں بحرحال موجود ہیں جیسے معین قریشی کو وزیراعظم بنا دیا گیا تھا۔موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اپنا نصب العین واضع کریں کہ وہ چاہتے کیا ہیں اور ملک کو درپیش تمام معاملات کو جمہوری انداز میں پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپوزیشن کی مشاورت سے حل کریں۔ملک کے خراب ہوتے ہوئے سنگین معاشی بحران کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنااور اس پر متفقہ لائحہ عمل اختیار نہ کرنا ملک اور قوم کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *