برائے مہربانی انھیں ’سلیکٹیڈ وزیرِ اعظم‘ مت کہیں۔۔۔

قومی اسمبلی میں وزیرِ اعظم عمران خان کے لیے ’سلیکٹیڈ‘ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی کیوں؟

پاکستان میں پارلیمان کے ایوانِ زیریں کے ممبران پر وزیر اعظم عمران خان کے عہدے وزیر اعظم سے پہلے ’سلیکٹیڈ‘ کا سابقہ استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اس لفظ کے استعمال پر پابندی کا اعلان قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے یہ کہتے ہوئے کیا کہ اس ایوان میں موجود ہر ممبر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتا ہے اور کسی بھی ممبر کے لیے ’سلیکٹیڈ‘ لفظ کا استعمال اس ایوان کی توہین کے مترادف ہے۔

گذشتہ اتوار کو منعقد ہونے والے بجٹ اجلاس کے دوران حزبِ اختلاف کے کئی ممبران کی جانب سے بارہا اس لفظ کے استعمال کے بعد وفاقی وزیر عمر ایوب خان نے اس مسئلے پر ڈپٹی سپیکر کی توجہ دلائی۔

ڈپٹی سپیکر نے اس پر تنبیہ کی کہ ممبران اس لفظ کے استعمال سے گریز کریں۔

’سلیکٹیڈ‘ وزیر اعظم

یہ سابقہ عمران خان کے عہدے کے ساتھ سب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے جوڑا، جس کا بعد ازاں انھوں نے باکثرت استعمال کیا۔

غالباً یہی وجہ ہو گی جو ماضی قریب میں عمران خان نے بھی ایک بھرے جلسے میں بلاول کو صاحب کہنے کے بجائے ’صاحبہ‘ کہہ کر پکارا، جس پر ان کی کافی لے دے بھی ہوئی تھی۔

نہ صرف مریم نواز اپنی ٹویٹس میں اس لفظ کا گاہے بگاہے استعمال کرتی رہتی ہیں بلکہ حزب اختلاف کے اکثر رہنما بھی طنزاً عمران خان کے لیے اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔

اس کی وجہ غالباً عوام کو یہ تاثر دینا ہے کہ موجودہ حکومت منتخب نہیں بلکہ اسے عوام پر مسلط کیا گیا ہے۔

بلاول

یہ لفظ سب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے جوڑا

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی جانب سے وزیر اعظم کے لیے اس لفظ کے استعمال پر پابندی عائد ہونے کے بعد ’سلیکٹیڈ‘ کی گونج سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شد و مد سے سنائی دی اور پاکستان میں ہیش ٹیگ ’سلیکٹیڈ پی ایم‘ ٹاپ ٹرینڈ رہا۔

شعبہ تعلیم سے وابستہ سماجی کارکن عمار علی جان کا کہنا تھا کہ ’سلیکٹیڈ وزیر اعظم‘ کی اصطلاح ہماری تاریخ کے مسخ شدہ حقائق سے تعبیر ہے۔ اس میں انتخابات پر اثر انداز ہونا، معلومات/خبر کو دبانا، مخالفین کے خلاف تشدد کا استعمال اور سیاسی وفاداری بدل لینے والوں کو معافی دنیا شامل ہے۔

صحافی سلیم صافی کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کو چور کہا گیا لیکن پابندی نہیں لگی۔ ڈاکو کہا گیا لیکن پابندی نہیں لگی۔ غدار کہا گیا لیکن پابندی نہیں لگی۔ مطلب یہ کہ پی ٹی آئی والے بھی مانتے ہیں کہ سلیکٹیڈ ہونا چور،ڈاکو اور غدار ہونے سے بھی بدتر ہے۔‘

صحافی خرم حسین نے اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے ازراہ مذاق لکھا کہ ان کے ٹریول ایجنٹ نے ان سے پوچھا کہ آیا وہ فلائیٹ کا ٹائم صبح منتخب کریں گے یا شام تو انھوں نے سلیکٹ کیا ’پی ایم‘۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جب سلیکٹیڈ کہا جاتا ہے تو وہ کچھ ایسا محسوس کرتے ہیں۔۔۔

موجی نامی ایک ٹویٹر صارف نے مشورہ دیا کہ اگر آپ پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں تو ’سلیکٹیڈ آئٹم‘ کو ڈیلیٹ کیجیے۔

مینا جہانگیر نامی ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’جی ہاں وہ ایک سلیکٹیڈ وزیر اعظم ہیں اور ہم نے ان کا انتخاب بدعنوان اشرافیہ اور قومی دولت لوٹنے والوں سے لڑنے کے لیے کیا ہے۔‘

کالم نویس عمار مسعود نے اپنی رائے کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ ’وزیر اعظم کو سلیککٹڈ کہنے پر پابندی لگا دی گئی ہے حالانکہ جب بلاول بھٹو نے پہلی دفعہ اسمبلی میں عمران خان کو سیلکیٹڈ کہا تھا تو وزیر اعظم نے اپنی اس عزت افزائی پر خوشی سے دیر تک ڈیسک بجایا تھا۔‘

تاہم ’سلیکٹیڈ پی ایم‘ کے ٹاپ ٹرینڈ بننے کے رد عمل میں پی ٹی آئی کے ہمدرد سوشل میڈیا کارکنان نے ’پی ایم از الیکٹیڈ‘ کے ہیش ٹیگ سے ٹرینڈ شروع کیا جو اس وقت دوسرا ٹاپ ٹرینڈ ہے۔

اداکارہ وینا ملک کا کہنا تھا کہ ’(عمران خان) کو ایک کروڑ ستر لاکھ پاکستانی ووٹرز نے منتخب کیا۔ وہ واحد شخص ہیں جنھوں نے پانچ حلقوں سے الیکشن جیتا۔۔۔ 16.8 ملین پاکستانیوں کے مینڈیٹ سے حکومت بنانے والا سلیکٹیڈ نہیں الیکٹیڈ ہے۔‘

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *