بالی وڈ فلم کبیر سنگھ کا محبت کے نام پر تشدد کا جشن

حال ہی میں ریلیز ہونے والی بالی وڈ فلم 'کبیر سنگھ' محبت کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ایک انسان کے جنون کی کہانی ہے۔ کبیر سنگھ کا جنون قابل نفرت ہے۔ اور فلم اسی قابل نفرت کردار کو ہیرو بنا کر پیش کرتی ہے۔

وہ شخص جسے جب اپنا پیار نہیں مل پاتا تو وہ کسی بھی راہ چلتی لڑکی سے بغیر کسی شناسائی کے جسمانی رشتہ قائم کرنا چاہتا ہے۔

یہاں تک کہ جب ایک لڑکی انکار کرتی ہے تو وہ اسے چاقو کے زور پر کپڑے اتارنے کے لیے کہتا ہے۔

اس سے قبل وہ محبوبہ کے ساتھ ساڑھے چار سو بار سیکس کر چکا ہے اور اب جب وہ نہیں ہے تو اپنی ہوس مٹانے کے لیے وہ سر عام اپنی پتلون میں برف ڈالتا ہے۔

اور اس شخص کی مردانگی کی اس نمائش پر سینما ہال میں ہنسی مذاق اور سیٹیوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

تیلگو فلم 'ارجن ریڈی' پر مبنی یہ فلم اس عاشق کی کہانی ہے جس کی معشوقہ کے گھر والے اس کے رشتے کے خلاف ہیں اور اس کی شادی زبردستی کسی دوسرے لڑکے سے کر دیتے ہیں۔

کبیر سنگھ فلم

حیوانیت اختیار کرتا ہوا ہجر کا غم

محبوبہ سے جدا ہونے کے بعد عاشق کبیر سنگھ کا ماتم حیوانیت اختیار کر لیتا ہے کیونکہ وہ کردار ابتدا سے ہی خواتین کو اپنی جاگیر سمجھنے والی ذہنیت رکھتا ہے کہ اگر وہ 'میری نہیں تو کسی اور کی بھی نہیں۔'

اس کی معشوقہ ہر وقت قمیض شلوار اور دوپٹے میں ہوتی ہے لیکن پھر بھی وہ اسے گلا ڈھکنے کے لیے کہتا رہتا ہے۔

'وہ اس کی ہے' اس بات کو واضح کرنے کے لیے وہ پورے کالج کو دھمکاتا ہے۔ ہولی کے موقع پر سب سے پہلے وہ ہی اسے رنگ لگائے اس کے لیے وسیع پروگرام ترتیب دیتا ہے۔

وہ اس سے یہاں تک کہتا ہے کہ 'کالج میں اس کا کوئی وجود نہیں، اس کی صرف یہی شناخت ہے کہ وہ کبیر سنگھ کی محبوبہ ہے۔'

اس فلم میں کوئی بھی ترقی پسندانہ رویہ یا نئی فکر نہیں ہے۔ فلم کا ہیرو اپنی معشوقہ کو کسی بھی طرح اپنے بس میں کرنا چاہتا ہے اور اس کی مرضی کے خلاف بات ہونے پر وہ حیوانیت پر اتر آتا ہے۔

کبیر سنگھ

مہذب سماج کا دبنگ

فلم کا ہیرو اپنی محبوبہ کے والد سے بدتمیزی کرتا ہے، اپنے دوستوں اور ان کے کام کی توہین کرتا ہے، اپنے کالج کے ڈین کو ذلیل کرتا ہے، اپنی دادی پر چیختا ہے، اور گھر کی ملازمہ سے ایک شیشے کا گلاس ٹوٹ جانے پر اسے چار منزل کے زینوں پر دوڑاتا ہے۔

در اصل کبیر سنگھ مہذب معاشرے کا دبنگ ہے۔ کل ملا کر وہ ایک غنڈہ ہے۔

اپنی محبت کو حاصل کرنے کی ضد اور نہ ملنے کا غم، دونوں اس کردار کی حرکتوں کو جائز ٹھہرانے کے بہانے ہیں۔ اسے ہیرو بنانے کے بہانے ہیں۔

ہندی فلموں کے ہیرو کو سات خون معاف ہوتے ہیں۔ اس کردار کی خامیوں کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ مجبوری میں کی جانے والی غلطیاں ہوں۔

کبیر سنگھ کے بے حساب غصے یا اس کی بد زبانیوں یا اپنی معشوقہ کے ساتھ بدسلوکیوں کو اس کے دوست احباب، اس کے اہل خانہ، کالج کے ڈین اور اس کی معشوقہ سب معاف کر دیتے ہیں تو پھر ناظرین کیوں نہ معاف کریں۔

دہائیوں سے خواتین کو قابو میں رکھنے والے مردانہ کردار پسند کیے جا رہے ہیں۔ ایسی فلمیں کروڑوں روپے کماتی ہیں اور عقل سے بالا تر قدامت پسند رویوں کو جائز ٹھہراتی ہیں۔

کبیر سنگھ فلم

کبیر سنگھ کی تمام حرکتوں کے باوجود اس کے دوست اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے بلکہ ایک دوست تو اس کے ساتھ اپنی بہن کی شادی کی تجویز بھی پیش کرتا ہے۔

'میری بہن تیرے بارے میں سب جانتی ہے پھر بھی تجھے بہت پسند کرتی ہے، تو اس سے شادی کرے گا؟'

یعنی ایک عورت کے غم کو بھلانے کے لیے دوسری عورت کی قربانی۔

معشوقہ ذمہ دار

ایک شرابی، گندا آدمی جو پیار میں چوٹ کھانے کے سبب کسی بھی لڑکی کے ساتھ سوتا ہے، ایسے آدمی کو پسند کرنے والی بہن۔

ایک بار پھر، ایک فلم محبت کے نام پر تشدد کا جشن منا رہی ہے۔ سینیما ہال میں خوب تالیاں بج رہی ہیں۔ سیٹیوں سے ہیرو کا استقبال ہو رہا ہے۔

لیکن لڑکیوں کو کس قسم کے لڑکے پسند آتے ہیں؟ کم از کم ایسے تو نہیں۔ فلم کی افسانوی دنیا میں بھی ایسا شخص میرا ہیرو نہیں ہو سکتا۔

کیارا اڈوانی

جو مجھ سے محبت کرے لیکن میرے وجود کو مسترد کرے، مجھے ہر وقت کنٹرول کرنے کی کوشش کرے، جسے نہ میرے نقطۂ نظر کی سمجھ ہو نہ پروا۔

اور اگر میں اسے نہ ملوں تو وہ کتاب میں موجود ہر نفرت انگیز چیز کرے۔ اور پھر بار بار فلم میں ان تمام حرکتوں کے لیے اس کے بجائے اس کی معشوقہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

اسے تمام مسائل کی جڑ بنا دیا جائے۔ کبیر سنگھ کے غصے، شراب کی لت، خودکشی کی کوششیں، ان سب کا الزام محبوبہ کے سر لگا دیا جائے۔

اس کی محبوبہ کی زندگی کے بارے میں، اس کی تنہائی کے بارے میں کوئی بات نہ ہو اور اچانک آخری سین میں وہ نمودار ہو اور کبیر سنگھ کو ہر چیز کے لیے معاف کر دے تاکہ وہ ایک ہیرو بن جائے۔

محبت جیسے خوبصورت رشتے میں جہاں تشدد کو کسی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور جہاں خواتین مساوات اور ذاتی وقار کی جنگ دہائیوں سے لڑ رہی ہیں وہاں اس کے بارے میں روشن خیالی کس طرح پیدا ہوگی۔

آپ ہی سے ابتدا ہوگی۔ باکس آفس پر کامیابی کے شور کے درمیان میں لکھوں گی، آپ پڑھیں گے اور اس جشن کو باریکی کے ساتھ سمجھ کر اسے مسترد کرنے کی گنجائش رہے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *