نواز شریف کا سفرِ مدینہ اور کالم نگار

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

نواز شریف کا سفرِ مدینہ اور کالم نگار

خامہ بدست کے قلم سے
ایک بار پھر جناب اظہارالحق کا کالم ”تلخ نوائی“ زیر نظر ہے۔ ”سدا نہ ماپے، حسن، جوانی، سدانہ صحبت یاراں“جیسے دل گداز عنوان کے ساتھ روزنامہ 92نیوز میں اس کا آغاز بہت اہم مسئلے سے ہوا، اور پھر وہی نفرت اور بے پناہ نفرت غالب آگئی۔ کالم کا محرک قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی پیش کردہ، اتفاق رائے سے منظور ہونے والی قرار داد تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پارلیمانی جماعتوں کے اراکین اور پارلیمنٹ ہاؤس کی مسجد کے امام پر مشتمل سرکاری وفد بھیجنے کے حوالے سے انتظامات کئے جائیں اور وفد کے لیے ارکان کی نامزدگی کی جائے جو حضورؐ کے روضہ پر جا کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف سے انہیں سلامِ عقیدت پیش کرے۔ فاضل کالم نگار نے اس قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے اسے بجا طور پر وزیر اعظم عمران خان کے لیے ایک ٹیسٹ کیس قرار دیا ہے، جو سرکاری خرچ پر چائے کے ساتھ بسکٹ تک پیش کرنے کے روادار نہیں ہوتے۔ اس کے ساتھ ہی موصوف کی شریف فیملی کے خلاف نفرت انگڑائی لیکر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ سب سے پہلے اس کا نشانہ ضیاء الحق بنتے ہیں۔ فرماتے ہیں: نیکی کے پردے میں یہ لوٹ مار مردِ مومن مردِ حق نے ابتدا کی۔ پھر وہ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ ان کی عمر، ان کی خواہش یا دعا کے مطابق میاں نواز شریف کو جا لگی۔ میاں صاحب نے ستائیسویں رمضان کو جہاز سرکاری خرچ پر اپنے پسندیدہ افراد سے بھرنے اور حرمین شریفین جانے اور لے جانے کا سلسلہ جاری رکھا۔نواز شریف کو اس مقدس سفر کے حوالے سے مطعون کرتے ہوئے موضوف کو یہ الزام لگانے میں رتی بھر عار محسوس نہیں ہوئی کہ نواز شریف یہ سب کچھ سرکاری خرچ پر کرتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف رمضان المبارک کے آخری عشرے کا زیادہ سے زیادہ عرصہ مدینہ منورہ میں گزارنے کا اہتمام کرتے، لیکن یہ اہتمام وہ اپنے ذاتی خرچ سے کرتے اور اس میں ان کی فیملی کے لوگ ہی شامل ہوتے۔ جہاز کو سرکاری خرچ پر اپنے پسندیدہ افراد سے بھرنے میں کوئی صداقت نہیں۔
اور اس کے بعد مریم نواز ان کے قلم کی زد میں آجاتی ہیں (جن سے موصوف کی نفرت کا یہ عالم ہے کہ وہ انہیں ”مریم صفدر“ لکھ کر سکون پاتے ہیں): ”مریم صفدر غیض و غضب میں ہیں، طیش میں ہیں، تلملا رہی ہیں (فاضل کالم نگار کی زبان ملاحظہ ہو۔”تلملا رہی ہیں“ میں تو حد ہی ہو گئی) کبھی وزیر اعظم کو نالائق اعظم کہتی ہیں، کبھی اعلان کرتی ہیں کہ جعلی حکومت سے حکومت کرنے کا حق چھین لیا جائے۔ لیکن یہ بات صرف مریم صفدر نہیں کہہ رہیں، اپوزیشن کی دیگر جماعتیں اور ان کے قائدین بھی یہی بات لکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ جماعت اسلامی والے سراج الحق بھی کہتے ہیں جو خودکو اپوزیشن سے فاصلے پر رکھتے ہیں اور حکومت کے ساتھ اپوزیشن کو بھی رگید کر”بیلنس“ قائم رکھتے ہیں۔ مزید فرماتے ہیں، صاف ظاہر ہے کہ یہ رد عمل کی سیاست ہے(تو کیا اپوزیشن دنیا بھر میں ”رد عمل کی سیاست“ نہیں کرتی، حکومت کے کسی عمل پر رد عمل)۔ پھر فرماتے ہیں: اسے سیاست بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اپنے والد اور خاندان کو بچانے کی کوشش ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر والد اور خاندان کو سزا ہی ان کی سیاست کی مل رہی ہو، تو اسے بچانے کی جوابی سیاست کیوں نہ ہو؟پھر موصوف نواز شریف (ا ور مریم نواز) کے مؤقف کی حمایت کرنے والے لکھاریوں کا رخ کرتے ہیں اور انہیں ”شریف حکومت سے فائدہ اٹھانے والے“ قرار دیتے ہیں۔ شریف حکومت کو ختم ہوئے سال بھر سے زائد کا عرصہ گزر چکا (اگر اس میں شاہد خاقان عباسی کے دس ماہ بھی شامل کر لئے جائیں)کیا فاضل کالم نگار کو یاد دلایا جا سکتا ہے کہ حکومتوں سے فائدہ اٹھانے والے، حکومت بدلتے ہی نئی حکومت کی خدمت کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں کہ ان کی وفا داری اپنے مفادت سے ہوتی ہے۔ جانے والوں (اور وہ اگر زیر عتاب بھی ہوں تو ان) کی حمایت سے فائدے حاصل نہیں ہوتے، آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ با خبر لوگ جانتے ہیں کہ اپنے ہاں تو نواز شریف حکومت کے دنوں میں بھی اسے گالی دینے کے فائدے، اس کی حمایت کرنے سے کہیں زیادہ تھے۔ موصوف کے ذہن پر ”فائدے“ یوں سوار رہتے ہیں کہ ان کے خیال میں ان کے بغیر کسی کی حمایت کی ہی نہیں جا سکتی۔ موصوف کو مریم کے ان الفاظ پر بھی اعتراض ہے کہ نواز شریف کو ”مرسی“نہیں بننے دیں گے۔ مریم مرسی اور نواز شریف کو ایک دوسرے کے مماثل قرار نہیں دے رہیں۔دونوں الگ الگ شخصیتیں ہیں، دونوں کی جماعتوں کے مقاصد اور لائحہ عمل بھی اپنا اپنا۔ مریم کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح مرسی کو جیل میں ضروری طبی سہولتوں سے محروم رکھا گیا، اسی طرح نواز شریف کو بھی ضروری علاج معالجے سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *