’’حکومتی رٹ‘‘

شفیق کے گھر کے لاؤنج کا باہرصحن کی طرف کھلنے والا بڑا سلائیڈنگ ڈور کھلتے ہوئے گزشتہ کچھ عرصے سے پھنس رہا تھا۔ اور بھی دو تین دروازے تنگ کر رہے تھے‘ مگر امریکہ میں چھوٹے سے کام کے لیے کاریگر ملنا نا صرف مشکل ہے ‘بلکہ نئے آدمی سے کام کرواتے ہوئے ہم پاکستانیوں کو وہم بھی بہت ہوتا ہے۔ شفیق کی کوشش تھی کہ وہی کاریگر آئے‘ جس نے سارے دروازوں کی فٹنگ کی تھی۔ وہ اس دن صبح ہی صبح آ گیا۔اس نے سارا کام دو تین گھنٹوں میں ختم کیا‘ مبلغ تین سو ڈالر نقد پکڑے اور یہ جا وہ جا۔ نہ کوئی رسد‘ نہ کوئی بل اور نہ ہی کوئی ٹیکس وغیرہ کا جھنجٹ۔ شفیق نے بتایا کہ یہ دو لوگ ہیں ‘جو کسی باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ کاروبار سے وابستہ نہیں‘ بلکہ صرف وزیٹنگ کارڈ کی بنیاد پر چلائے جانے والے کاروبار کے دو ''پارٹنر‘‘ ہیں۔ یہ دونوںمل کر سارے دن میں تقریباً ہزار بارہ سو ڈالر کا کام کر لیتے ہیں۔ مہینے میں پچیس چھبیس ورکنگ ڈے لگا لیں‘ تو ان کی اوسطاً ماہانہ آمدنی بیس پچیس ہزار ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ دونوں کے حصے میں دس بارہ ہزار ڈالر آ جاتے ہیں اور ان کا کام خوب چل رہا ہے۔ ان کی یہ ساری آمدنی ٹیکس فری ہے۔ یہ امریکی حساب سے فائلر نہیں ہیں۔ آمدنی پر بھی ٹیکس نہیں دیتے‘ مگر اس کے باوجود یہ ملکی معیشت میں ہر جگہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔
امریکہ میں معیشت کے تین پہلو ہیں؛ روایتی‘ یعنی Formal Economy ۔دوسری قسم غیر روایتی معیشت ‘یعنی Informal Economyہے اور تیسری قسم Black Economy‘ یعنی کالے دھندے والی معیشت ہے۔ اس بلیک اکانومی میں سمگلنگ‘ منشیات‘ ناجائز اسلحہ اور قحبہ گیری وغیرہ جیسی آمدنی شامل ہے۔ اس بلیک اکانومی کو ایک طرف رکھ دیں۔ امریکہ میں غیر روایتی‘ یعنی Informalمعیشت کا پھیلاؤ مجموعی معیشت کا قریب تیس فیصد ہے۔ یہ اندازہ کوئی اٹکل پچو میں نہیں لگایا گیا ‘بلکہ اس پر باقاعدہ تحقیق ہونے کے بعد یہ اندازہ لگایا گیا ہے اور یہ دروازے ٹھیک کرنے والا‘ اسی دوسری قسم کی غیر روایتی معیشت ‘یعنی Informal Economyکا حصہ ہے‘ لیکن جیسا کہ پہلے کہہ چکا ہوں کہ یہ اپنی آمدنی پر ٹیکس نہ دینے کے باوجود ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ فائلر نہ ہونے کے باوجود ہر روز ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ اس نے اپنے تمام اوزار بفرض محال ''ہوم ڈپو‘‘ سے خریدے ہیں‘ تو ان کی خرید پر پورا پورا ٹیکس دیا ہے۔یہ اپنے ساتھ پانی کی چار بوتلیں لایا تھا۔ اس نے ''وال مارٹ‘‘ پر ان پانی کی بوتلوں کی خرید پر ٹیکس دیا ہے۔ اس نے کام کے دوران وقفہ کر کے باہر لان کے ایک کونے میں جا کر سگریٹ پی۔ اس نے اس سگریٹ پر بھاری ٹیکس دیا ہے۔یہ دوپہر کا کھانا چلتے پھرتے میکڈونلڈ وغیرہ پر کھائے گا۔ یہ اس پر ٹیکس دے گا۔ ڈنر اپنی فیملی کے ساتھ کسی اچھے ریستوران میں کرے گا تو اس پر ٹیکس دے گا۔ویک اینڈ پر کسی تفریحی مقام پر جائے گا تو موٹل میں ٹھہرے گا ‘وہاں ٹیکس دے گا۔ غرض یہ چوبیس گھنٹے میں ہونے والے ہر خرچے پر‘ ہفتے کے ساتوں دن‘ مہینے کے پورے تیس دن اور سال کے تین سو پینسٹھ دن ہر چیز پر ٹیکس دے گا۔ یہ سارا ٹیکس براہ راست حکومت کو جا رہا ہے۔ سو‘ یہ شخص اپنی خالص آمدنی پر ٹیکس نہ دینے کے باوجود اپنی اس آمدنی سے ہونے والے ہر خرچے پر ٹیکس دے رہا ہے۔ یوںستر فیصد روایتی معیشت کے علاوہ یہ تیس فیصد غیر روایتی معیشت بھی کل ملکی آمدنی میں بڑی حد تک اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ پاکستان میں بھی یہی ہوتا ہے تو اس میں مسئلہ کیا ہے؟
میں نے شفیق کی ساری بات غور اور تحمل سے سنی اور کہا: آج کل پاکستان میں بھی فائلر اور نان فائلر کی بحث زوروں پر ہے۔ نان فائلر کا یہ کہنا (جزوی طور پر) بجا ہے کہ وہ ٹیکس چور نہیں ۔ ہمارا غیرر وایتی معیشت سے جڑا ہواہر شخص بھی پٹرول پر‘ بجلی کے بل پر‘ فون کارڈ پر‘ ہوٹل کے کھانے پر‘ سگریٹ کی خرید پر اور کولڈ ڈرنک کی بوتل سے لیکر ماچس کی ڈبیہ تک خرید پر ٹیکس دیتا ہے ۔لیکن وہ اپنی براہ راست آمدنی پر ''انکم ٹیکس‘‘ ادا نہیں کرتا۔ آپ اسے انکم ٹیکس کی چوری کہہ سکتے ہیں‘ مگر اس کو ٹیکس چور نہیں کہہ سکتے کہ وہ انکم ٹیکس ادا نہ کرنے کے باوجود ان گنت ٹیکس ادا کرتا ہے‘ لیکن ہمارے ہاںالمیہ اور ہے۔ شہری ہر جگہ پر‘ ہر چیز اور خرید پر ٹیکس ادا کر رہے ہیں‘ مگر ان سے یہ ٹیکس وصول کرنے والے آگے یہ ٹیکس سرکار کو نہیں دے رہے۔ میں کھانا کھاتا ہوں۔ اس پر ریسٹورنٹ والے مجھ سے پندرہ سترہ فیصد ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ میری رسید پر یہ ٹیکس درج ہوتا ہے۔ ریسٹورنٹ والا میری جیب سے یہ ٹیکس نکال کر گورنمنٹ کو دینے کی بجائے اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے اور گورنمنٹ کے ادارے اس ٹیکس کی وصولی کیلئے ریسٹورنٹ والوں کا ریکارڈ چیک کرنا چاہیںتو ریسٹورنٹس مالکان ہڑتال کی دھمکی دیتے ہیں‘ یعنی حکومت کے نام پر مجھ سے وصول شدہ ٹیکس کو بھی اپنے نفع میں شامل کر لیتا ہے۔ اب میں تو ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہا ہوں‘ مگر اس حصے کو وصول کرنے والا امانت دار میرا اداکردہ یہ حصہ آگے پہنچانے کی بجائے اپنی جیب میں ڈال رہا ہے اور حکومت کی طرف سے اس امانت کو وصول کرنے کیلئے کی جانے والی کسی بھی کوشش پر ادائیگی کرنے کی بجائے ہڑتال کر دیتا ہے۔
یہ صرف ریسٹورنٹ والوں کا حال نہیں؛ بے شمار جگہوں پر یہی ہو رہا ہے۔ بیوریجز والے اپنی ہر بوتل پر کئی طرح کے سرکاری ٹیکس ڈال کر مجھ سے اس کی قیمت وصول کرتے ہیں‘ لیکن وہ گیٹ پر موجود سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی پر مامور انسپکٹر‘ سپرنٹنڈنٹ وغیرہ سے لیکر اوپر تک حصہ دیتے ہیں اور اپنی پروڈکشن کے ایک معمولی حصے پر ٹیکس دے کر باقی سارے سرکاری ٹیکس اورڈیوٹیاں چوری کر لیتے ہیں۔ یہی حال ہوٹلوں کا ہے۔ خوردہ فروشوں سے کیا گلہ؟ صابن بنانے والے سے لیکر گھی بنانے والا اور چینی کے کارخانے سے بسکٹ فیکٹری والا۔ دودھ کے ڈبے سے لیکر چائے کی پتی تک۔ ہر ڈبے کے اوپر قیمت اور اس کے ساتھ سیلز ٹیکس درج ہوتا ہے اور ان کے جمع کرنے کے بعد اس چیز کی خوردہ قیمت لکھی ہوتی ہے۔ سارے کارخانہ دار اور صنعتکار مجھ سے یہ ٹیکس وصول کر لیتے ہیں‘ لیکن آگے سرکار کو اس کا عشر عشیر بھی ادا نہیں کرتے اور حکومت نان فائلر کو دھمکیاں دے رہی ہے۔ ہر ایک کو ایف بی آر کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ ہر شخص کو خوردبین سے چیک کرنے کا عمل اس طرح شروع ہوا ہے کہ لطیفے بننا شروع ہو گئے ہیں کہ نان فائلر کا بھی رجسٹر نہیں ہو سکے گا اور درزیوں کو ایک سرکاری سرکلر کے ذریعے پابند کیا گیا ہے کہ جو شخص بھی شلوار میں جیب رکھنے کا کہے اس کی اطلاع ایف بی آر کو دی جائے۔
جب بھی ٹیکس میں اضافے کی بات کی جاتی ہے‘ سارے کا سارا زور پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ''مرے کو مارے شاہ مدار‘‘ کے مصداق پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر اور بوجھ لادنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ٹیکس دینے والا پچھتاتا ہے اور سوچتا ہے کہ آخر وہ فائلرکیوں ہے؟ کسی نے بتایا کہ ایک بہت بڑی کمپنی‘ جس کے بیشتر شیئرز ابھی تک حکومت پاکستان کے پاس ہیں ‘لیکن اس کا انتظامی کنٹرول کسی غیر ملکی خریدار کے پاس ہے‘نے گزشتہ کئی برسوں سے عوام سے وصول کردہ ٹیکس سرکار کو ادا نہیں کیا‘ جو بلامبالغہ اربوں روپے میں ہے‘ مگر وزیراعظم آدھی آدھی رات کو بے چارے عام تام آدمی کا ''تراہ‘‘ نکالنے پر لگے ہوئے ہیں۔ انکم ٹیکس ادا نہ کرنے والوں سے بھی وصولی کریں‘ مگر ترجیحات کو درست کریں اور پہلے ان بڑے بڑے مگرمچھوں سے وہ ٹیکس وصول کریں‘ جو وہ آپ سے اور مجھ سے وصول کر لیتے ہیں‘ مگر حکومت کو ادا نہیں کرتے۔بات آدھی رات کو تقریریں کرنے سے نہیں‘ کچھ کرنے سے بنے گی‘ لیکن نئے پاکستان میں بھی وہی ''نزلہ بر عضو ضعیف‘‘ والی صورت حال ہے۔ نتیجہ بھی وہی ڈھاک کے تین پات ہی نکلے گا۔ حکومت کی ساری رٹ یہاں آ کر ختم ہو جاتی ہے کہ ''وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *