افغان صدر اشرف غنی کا دورہ پاکستان: کیا دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہو سکیں گے؟

افغان صدر محمد اشرف غنی ساڑھے چار سال کے وقفے کے بعد آج پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

اسلام آباد میں دفترخارجہ کے مطابق افغان صدر اس دورے میں پاکستان کے صدر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کے ساتھ وفود کی سطح پر ملاقاتیں کریں گے۔

پاکستانی دفترخارجہ کے مطابق افغان صدر کے دورے کے دوران باہمی دلچسپی کے اُمور سمیت سیاسی، تجارتی، اقتصادی، سکیورٹی اور دونوں ممالک کی عوام کے درمیان رابطے بڑھانے پر بات چیت ہو گی۔

تاہم بعض تجزیہ کاروں کے مطابق افغان صدر کے دورے میں افغان مہاجرین، بارڈر مینیجمنٹ، افغان امن عمل اور دونوں ملکوں کے ایک دوسرے پر اپنے اپنے ریاست دشمن عناصر کو پناہ دینے کے الزامات پر بھی بات چیت ہو گی۔ ان کے مطابق افغان صدر کی ایک اور کوشش یہ بھی ہو گی کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے جائیں۔

اشرف غنی افغانستان کے صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد ہی نومبر 2014 میں پاکستان کے دورے پر آئے تھے اور بعد میں دسمبر 2015 میں ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسیس کے اجلاس میں شرکت کے لیے بھی پاکستان آئے تھے۔

افغان صدر اشرف غنی ایک ایسے وقت میں پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں جب طالبان کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات جاری ہیں اور اسی سال ستمبر میں افغان صدارتی انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔ اگرچہ صدر اشرف غنی کی حکومت کچھ مہینوں میں ختم ہورہی ہے، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ وہ ستمبر کے انتخابات میں دوبارہ صدر منتخب ہو جائیں گے۔

اشرف غنی

افغان صدر کا دورہ پاکستان کتنا اہم ہے؟

افغان اُمور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق پاکستان کی طرف سے کئی بار کوشش کی گئی کہ افغان صدر پاکستان کے دورے پر آئیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث اُنھوں نے یہ دعوت قبول نہیں کی۔

اُن کے مطابق اب ایسا لگ رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور اسی لیے افغان صدر نے یہ دعوت قبول کی ہے۔

’اب جب اُنھوں نے رضا مندی کا اظہار کیا ہے اور پاکستان آ رہے ہیں تو میرے خیال میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حالات میں بہتری آئی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔‘

رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق افغان صدر کے دورے سے پاکستان یہ دکھانا چاہے گا کہ وہ طالبان کے ساتھ ساتھ افغان حکومت کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔

تاہم تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ افغان حکومت کے امریکہ کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں چل رہے اور اسی لیے وہ کوشش کریں گے کہ ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنائیں۔

’اشرف غنی کی حکومت اور امریکہ کے تعلقات میں بھی دراڑیں آ رہی ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ پاکستان کے بھی امریکہ کے ساتھ پرانے گرم جوشی پر مبنی تعلقات نہیں ہیں تو یوں سب کو یکجا کر کے وہ افغان حکومت کے لیے کچھ کریں گے۔‘

سمیع یوسفزئی کے مطابق وہ نہیں سمجھتے کہ افغان صدر جن توقعات کے ساتھ پاکستان آ رہے ہیں وہ حاصل کر لیں گے۔

تاہم تجزیہ کار امتیاز گل کے مطابق افغان صدر کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور افغان صدر پاکستان کا یہ دورہ بڑے نازک حالات میں کررہے ہیں۔

’کابل میں پاکستان کے حوالے سے جو تحفظات یا شکوک وشبہات ہیں، افغان صدر نے اُن کو نظرانداز کرتے ہوئے بڑے نازک وقت میں پاکستان کے دورے کا فیصلہ کیا ہےاور یہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے بڑی خوش آئند بات ہے۔‘

امتیاز گل کے مطابق افغان صدر کا یہ دورہ پاکستان کے لیے بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا کسی ملک کا ہمسایہ ملک کے ساتھ اچھے تعلقات کے لیے ہوتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے ایک دوسرے پر الزامات کیا ہیں؟

افغان طالبان، پاکستانی طالبان، بلوچ عسکریت پسند اور انڈیا دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی خرابی کی اہم وجوہات ہیں۔

افغانستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان کی قیادت نہ صرف پاکستان کے مختلف شہروں میں رہ رہی ہے بلکہ اُن کے تربیتی مراکز بھی پاکستان میں ہیں اور آج بھی بیشتر افغان وہاں دہشت گردی کے ہر واقعے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہیں۔

جبکہ پاکستان کا الزام ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان میں سرگرم بلوچ عسکریت پسند نہ صرف پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں بلکہ انڈیا کی مدد سے اُنھیں تربیت بھی دی جاتی ہے۔

دونوں ممالک میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد ایک دوسرے پر اُن کی سرزمین کے استعمال کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔

پاکستان کا یہ بھی الزام ہے کہ گذشتہ سال پاکستان میں بننے والی تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کے پیچھے بھی افغان حکومت اور انڈیا کا ہاتھ ہے اور جب افغان صدر اشرف غنی نے پشتون تحفظ موومنٹ کے حق میں سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کیے تو پاکستان نے اس پر بھی شدید احتجاج کیا اور اس کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *