سعودی عرب کو کسی سے ڈر کیوں نہیں لگتا؟

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں حال ہی میں سفارش کی گئی کہ سعودی حکومت کے اہم ارکان کی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمے میں تفتیش ہونی چاہیے۔ رپورٹ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اس قتل کے مقدمے میں شاملِ تفتیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے امریکہ سے درخواست کی کہ اس معاملے کی تفتیش امریکی ایجنسی ایف بی آئی کرے، جسے امریکی صدر نے مسترد کر دیا۔ ایران سمیت متعدد ممالک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے بارے میں امریکہ بڑھ چڑھ کر تنقید کرتا ہے، لیکن جب سعودی عرب کی بات آتی ہے تو وہ خاموش ہو جاتا ہے۔

کیا سعودی عرب کسی سے نہیں ڈرتا ہے؟ سعودی عرب سے کون ڈرتا ہے؟

ان دونوں ہی سوالات کے جواب امریکہ بخوبی جانتا ہے۔ دو برس قبل سعودی عرب نے قطر کے خلاف ناکہ بندی کی اور تمام سفارتی تعلقات ختم کر دیے۔ تب متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر، مالدیو، ماریٹانیا، کوموروس، یمن کی جلا وطن حکومت اور لیبیا نے سعودی عرب کا ساتھ دیا تھا۔

سعودی عرب کا الزام تھا کہ قطر دہشتگرد سرگرمیوں کا ساتھ دے رہا ہے۔ سعودی عرب نے قطر کے طیاروں کے لیے اپنے فضائی حدود بند کر دیں، قطر کو اپنے پڑوسی ممالک سے الگ تھلگ کر دیا گیا، یہ صورتحال آج بھی جاری ہے۔

سعودی عرب نے خود کو مشرق وسطیٰ میں بڑی طاقت کے طور پر منوا لیا ہے۔ سعودی عرب کی کوشش ہے کہ تمام سنی مسلم ممالک خاص طور پر خلیج عرب کے ممالک اس کے زیر اثر رہیں۔

قطر نے بات نہیں مانی تو اس کے خلاف ناکہ بندی آج بھی جاری ہے۔ سعودی عرب کا یہ رویہ صرف قطر کے ساتھ نہیں ہے۔ اصل نشانہ ایران ہے جسے سعودی عرب اپنا حریف مانتا ہے۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے علاقے کا بڑا بننے کی تمام کوششوں کے باوجود اس کا ہر قدم بیک فائر بھی کر رہا ہے۔ سعودی کی ناکہ بندی سے قطر جھکا اور اور نہ ہی اسے کوئی بڑا نقصان ہوا۔ تاہم اس کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ سعودی کمزور پڑا ہو، بالکہ کئی معاملوں میں وہ مضبوط ہو گیا ہے۔

تیل اور قدرتی گیس کے باعث سعودی عرب کی دولتمندی کوئی نئی بات نہیں۔

امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات

امریکہ اور سعودی عرب اپنے تعلقات پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتے ہیں

سیکیورٹی پر خرچہ کرنے والا تیسرا بڑا ملک

اپنی دولت کے دم پر سعودی عرب نے بڑی فوج بھی تیار کر لی ہے۔ ادارے ’سٹاکہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ کے مطابق سنہ 2017 میں سعودی عرب نے سیکیورٹی پر ستر ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔ یہ رقم سعودی عرب کی جی ڈی پی کا دس فیصد ہے۔

ایسا کر کے سعودی عرب سیکیورٹی معاملات پر خرچ کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ سعودی عرب کا اوپیک اور خلیج تعاون کونسل میں بھی اثر و رسوخ ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ بھی سعودی عرب کا دوست ہے۔

نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ان کے لیے سعودی عرب کے ساتھ ہتھیاروں کا سودہ امریکی اقدار، جمہوریت اور انسانی حقوق سے زیادہ اہم ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان سے واضح ہے کہ وہ امریکہ کو دوبارہ عظیم کس طرح بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ ان کے لیے جمال خاشقجی کے قتل سے زیادہ اہم اسلحے کا سودہ ہے۔

ایک دور تھا جب سعودی عرب اپنی طاقت کی نمائش کے لیے دوست ممالک، مسلمان رہنماؤں اور میڈیا گھرانوں کو پیسے دیا کرتا تھا۔ لیکن اب اس نے ان طریقوں کو بھی چھوڑ دیا ہے۔

ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انسانی حقوق کے علمبردار کے طور پر پہچان کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں اس بات کو رکاوٹ بننے نہیں دینا چاہتے۔

امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات

امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات

سعودی کا ہر گناہ معاف کیوں؟

دنیا کی آمرانہ حکومتوں اور غیر ایماندار رہنماؤں کی سرگرمیوں کا حساب انٹرنیشنل ٹرائیبیونلز یا ٹروتھ اینڈ ریکنسیلئیشن کمیشن رکھتا ہے۔ لیکن سعودی عرب اس دائرے سے ہمیشہ باہر رہا ہے۔ سعودی عرب میں سنہ 1938 میں تیل کا ایک بڑا ذخیرہ ملا تو وہاں کے شاہی خاندان کے پاس زبردست طاقت آ گئی۔

یہ طاقت ایسی ہے جس کے ذریعہ عالمی معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے یا پھر مشکل صورت حال بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اسی طاقت کی وجہ سے امریکہ سمیت پورے مغرب اور یہاں تک اقوام متحدہ نے بھی سعودی کی ہر ضد کو برداشت کیا ہے۔

سعودی عرب پر انسانی حقوق کو اپنے گھر میں نظر انداز کرنے کے الزام کے علاوہ مختلف شدت پسند اسلامی گروہوں کو مالی امداد دینے کا الزام بھی لگتا ہے۔

سعودی نے امریکہ کو کئی طرح کی رعایتیں دی ہیں۔ سعودی عرب نے امریکی جنگی طیاروں کو دنیا کے سب سے اہم علاقوں میں اڑنے کی اجازت دی۔ اس کے علاوہ امریکی فوجی سازو سامان کے لیے ایک منڈی بھی فراہم کر دی۔ ایران کے مقابلے میں بھی امریکہ نے سعودی عرب کا کھل کر ساتھ دیا۔

سعودی عرب میں امریکہ کے سابق سفیر چیس فریمین نے نیوز ویک سے کہا کہ ’امریکہ اور سعودی عرب کے رشتے میں انسانی حقوق اور اقدار کا کوئی کردار نہیں ہے۔ آغاز سے ہی دونوں ممالک کے تعلقات باہمی ملکی مفادات پر مبنی رہے ہیں۔‘

سنہ 1945 میں امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ اور سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز ابن سعود کے درمیان ملاقات میں امریکہ کو سعودی عرب کا تیل کم قیمتوں پر دینے کا معاہدہ ہوا۔ اس کے بدلے میں روزویلٹ نے سعودی عرب کے دفاع کا عہد کیا۔

دونوں ممالک کے اچھے تعلقات اب تک چھ اسرائیل عرب جنگیں دیکھ چکے ہیں۔ ان جنگوں میں دونوں الگ الگ خیموں میں کھڑے تھے۔ سنہ 1973 میں تیل کے بحران کے درمیان بھی دونوں کے تعلقات پر آنچ نہیں آئی۔

امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات

ہر مشکل وقت میں ساتھ

امریکہ نے سنہ 2003 میں عراق پر حملہ کیا تو سعودی عرب کو پتہ تھا کہ صدام حسین کی حکومت ختم ہونے سے ایران مضبوط ہوگا لیکن اس دور میں بھی دونوں کے تعلقات میں دراڑ نہیں آئی۔

سنہ 1991 میں خلیج فارس میں جنگ چھڑی تو امریکہ کے صدر جارج بش نے روزویلٹ کے معاہدے کا احترام کرتے ہوئے سعودی عرب کی ایرانی افواج سے حفاظت کی تھی۔

1945میں رشتوں کی جو بنیاد پڑی وہ بے شک وقت کے ساتھ مضبوط ہوئی لیکن سعودی عرب میں بادشاہت اور اس کے سماجی اور مذہبی قوانین، مثال کے طور پر مجرم کا سر قلم کر دینا، مغربی اقدار کے خلاف ہے۔

لیکن 73 برس کے تعلقات میں دو مواقع ایسے آئے ہیں جب امریکہ اور سعودی عرب میں تناؤ کی صورت حال پیدہ ہوئی ہو۔

کتاب ’بروکنگز انسٹیٹیوشن‘ اور ’کنگز اینڈ پریسیڈینٹز: سعودی اریبیا اینڈ دی یونائیٹیڈ سٹیٹس سنس ایف ڈی آر‘ کے مصنف رائڈل نے وال سٹریٹ جرنل سے کہا کہ ’1962 میں صدر جان ایف کینیڈی کے کہنے پر اس وقت کے ولی عہد فیصل کو غلامی کا رواج ختم کرنا پڑا تھا۔ دوسرا موقع تب آیا جب 2015 میں صدر براک اوباما کے کہنے پر شاہ سلمان کو جیل میں بند رئیف بداوی کو سر عام سزا دیے جانے سے روکنا پڑا۔

بداوی کو دس برس قید اور توہین اسلام کے الزام میں ایک ہزار کوڑے مارنے کی سزا دی گئی ہے۔ انہیں یہ سزا ایک بلاگ لکھنے کی وجہ سے ملی ہے۔ پچاس کوڑے بداوی کو پہلے ہی مارے جا چکے ہیں۔

ولی عہد محمد بن سلمان کے آنے کے بعد سے سعودی میں بڑی تعداد میں انسانی حقوق کے کارکنان، خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی خواتین اور وکلا کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ ایسے میں صدر ٹرمپ نے بھی وہی رویہ اختیار کیا جو ماضی میں امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ تھا۔

یہاں تک کہ سعودی عرب کے صحافی جمال خاشقجی کو ترکی میں سعودی سفارت خانے میں قتل کر دیا گیا اور اس مقدمے کے بعد بھی امریکہ کا اس پر سخت رد عمل نہیں آیا۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نہیں چاہوں گا کہ سعودی عرب کے ساتھ 110 ارب ڈالر کا سودہ ختم کر دوں۔ یہ اب تک کا سب سے بڑا سودہ ہے۔ اسے روس اور چین دونوں حاصل کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔‘

امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات

’میں تقریر کرنے نہیں آیا ہوں‘

گذشتہ برس صدر ٹرمپ کی جانب سے دیئے جانے والے اس بیان میں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے دفاعی سودے کا حوالہ دیا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس سودے سے امریکی شہریوں کو ملازمتیں ملیں گی۔

سنہ 2017 میں صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے بیرونی دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا۔ ٹرمپ سے پہلے جتنے بھی امریکی صدور آئے ہیں وہ غیر ملکی دوروں کے لیے اپنے پڑوسی ممالک جیسے کینیڈا اور میکسیکو کو منتخب کرتے تھے۔

ٹرمپ امریکہ کے پہلے صدر ہیں جنہوں نے واضح طور تاثر دیا ہے کہ ان کے لیے سیاسی رشتوں میں انسانی حقوق کی اہمیت نہیں ہے۔ سعودی عرب کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا تھا 'میں یہاں تقریر کرنے نہیں آیا۔ میں یہاں اس لیے نہیں آیا ہوں کہ آپ کو بتاؤں کہ کیسے رہنا ہے، کیا کرنا ہے اور کیسے اپنے خدا کی پوجا کرنی ہے'۔

پچھلے تین برسوں میں ہاؤس آف سعود اور وائٹ ہاؤس میں رشتے مزید گہرے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر اور سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان میں گہری دوستی ہے۔ دونوں کے درمیان یہ دوستی امریکی صدر کے انتخاب کے دوران شروع ہوئی تھی اور صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ دوستی خوب پروان چڑھی۔

براک اوباما

اوباما کی پالیسی جدا تھی

سعودی عرب ایران کے ساتھ اوباما کے دور میں ہونے والے امریکی جوہری معاہدے کی مخالفت کر رہا تھا اس لیے وہ چاہتا تھا کہ ٹرمپ انتخابات جیتیں کیونکہ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ اس معاہدے کو ختم کرنے کی بات کر رہے تھے۔

محمد بن سلمان جوہری پروگرام سے متعلق ایران کےمنصوبوں اور ارادوں کو دبانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ جنوری 2015 میں محمد بن سلمان کو سعودی عرب کا وزیر دفاع بنادیا گیا۔ یہ عہدے سنبھالتے ہی انہوں نے یمن میں ایران حمایتی گروپوں پر حملہ کر دیا۔

اوباما اس حملے کی حمایت میں نہیں تھے اور ہتھیاروں کی سپلائی کے بھی خلاف تھے۔ محمد بن سلمان نے جب سعودی عرب کی معیشت کا انحصار تیل پر کم کرنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کو کھولنے اور سماجی اصلاحات کی بات شروع کی تو مغرب کو لگا کہ وہ ایک باغی سعودی حکمران ہیں۔

انہوں نے خواتین سے متعلق بھی بعض اصلاحات کیں جس میں خواتین کا بغیر منھ ڈھانپے سڑک پر چلنا، رنگین برقع پہننا اور گاڑی چلانا شامل ہے۔

لبنان کے سنی وزیر اعظم سعد الحریری کو گذشتہ برس سعودی عرب میں روک کر ایران کی حمایت کرنے والی تنظیم حزب اللہ کی حمایت کرنے کا الزام لگا کر ’استعفی دینے پر مجبور‘ کیا گیا۔

محمد بن سلمان نے ملک میں بدعنوانی کے خلاف مہم کے نام پر بعض امیر ترین تاجروں کو جیل بھیجا جس میں بعض ہائی پروفائل شہزادوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ گذشتہ برس ستمبر تک انہوں نے تقریباً دوہزار لوگوں کو سیاسی قیدی بنا دیا۔

ان سارے واقعات پر صدر ٹرمپ خاموش رہے۔ بعض ناقدین کا کہنا کہ امریکہ مشرق وسطی کی کسی بھی جنگ میں الجھنا نہیں چاہتا کیونکہ اس کا عراق اور افغانستان تجربہ ٹھیک نہیں رہا۔

امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات

امریکہ کا مفاد داؤ پر

مشرقی وسطیٰ میں سعودی عرب کے جارحانہ رویہ کی وجہ سے وہاں امریکہ کا مفاد متاثر ہورہا ہے۔ یمن میں سعودی عرب کے فضائی حملوں سے عام شہری اور معصوم بچے مررہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب یمن میں امریکی ہتھیاروں کے دم پر لڑائی لڑرہا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے یمن اور قطر پر پابندیاں عائد کر کے امریکہ کو بے چین کردیا ہے۔

مشرقی وسطیٰ میں امریکی ائیر فورس کا سب سے بڑا اڈہ ہے۔ سعودی عرب کے اس قدم سے خلیج تعاون کونسل کی ساکھ بھی کمزور ہوگئی ہے۔ اس میں خلیج کے چھ ممالک ہیں۔

امریکہ کے کہنے پر ہی سعودی عرب بہت لمبے وقت سے تیل کی پیداوار بڑھانے پر متفق ہے۔

امریکہ کے فوجی ہتھیار خریدنے کے لیے سعودی عرب سب سے بھروسے مند منڈی ہے۔ صرف اوباما کے دور اقتدار میں ہی سعودی عرب نے امریکہ سے دو سو ارب ڈالر کا سودا کیا تھا۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ولی عہد 110 ارب ڈالر کا اور ایسا سودا کریں جس سے ایران کا مضبوطی سے سامنا کیا جاسکے۔

نیوز ویک سے بات کرتے ہوئے سعودی عرب کے ایک سفارتکار نے کہا ہے کہ گزشتہ برس ٹرمپ نے ایک سو دس ارب ڈالر کے ہتھیاروں کے سودے کی سرعام بات کی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سودے پر اب تک دستخط نہیں ہوئے ہیں۔

اگر ولی عہد محمد بن سلمان امریکہ سے اسلحہ خریدنا بھی چاہیں تو اس کے لیے امریکہ کے اندر بھی بہت سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اسی سال نو اگست کو یمن میں سعودی عرب کی فضائی حملے کی زد میں ایک سکول بس آگئی تھی جس میں چالیس بچے ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے بعد امریکہ میں یہ سوال زیادہ اٹھنے لگا تھا کہ وہ اس لڑائی میں سعودی عرب کی مدد کیوں کررہا ہے۔

اس بارے میں امریکی کانگریس میں ٹرمپ انتظامیہ سے متعدد سوالات پوچھے جارہے ہیں۔ حال ہی میں امریکی کانگریس نے سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دو ارب کے ہتھیاروں کے سودے کو روک دیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *