ٹیکس ایمنسٹی سکیم۔۔ حقائق یہ ہیں کہ۔۔

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

ٹیکس ایمنسٹی سکیم۔۔ حقائق یہ ہیں کہ۔۔

خامہ بدست کے قلم سے
جناب محمد اظہار الحق نے تازہ کالم میں وزیر اعظم عمران خان کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو موضوع بنایا ہے۔ روزنامہ 92نیوز میں ان کی ”تلخ نوائی“ کا عنوان ”دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا؟“میں رقم طراز ہیں: آسمانوں سے امداد اتری۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے مثبت نتائج ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ ایف بی آر کے انٹرنیشنل ٹیکس کے شعبے نے بتایا کہ صرف متحدہ عرف امارات سے346ارب کے اثاثے ظاہر کئے گئے۔ سوئٹزر لینڈ سے 114ارب روپے، برطانیہ سے89ارب وپے، سنگا پور سے 87ارب روپے اور برٹش ورجن آئی لینڈ سے48ارب روپے تسلیم کئے گئے۔ یہ اعداد وشمار یقینا خوش کن ہیں، لیکن فاضل کالم نگار نے یہ اعداد وشمار کہا ں سے حاصل کئے؟ ممتاز شاعر، دانشور اور کالم نگارسعود عثمانی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جس کے مطابق یہ اعداد وشمار خلیج ٹائمز کی ایک رپورٹ میں تھے لیکن یہ موجودہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے حوالے سے نہیں (یہ سکیم تو ابھی جاری ہے اور متوقع نتائج حاصل نہ ہونے کے باعث جناب وزیر اعظم گزشتہ روز ہی اس سکیم کی مدت میں توسیع کا اشارہ بھی دے چکے ہیں)سعود عثمانی کے مطابق خلیج ٹائمز میں یہ اعداد وشمار گزشتہ ایمنسٹی سکیموں کے حوالے سے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

متانت اور حب الوطنی کا نیا معیار،شریفوں کو گالی

نواز،مودی تعلقات.... ساڑھے تین سال بعدایک ”انکشاف“

مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

حیرت ہے، فارن آفس میں ایسے ایسے لوگ بھی رہے ہیں!!
نواز شریف کا سفرِ مدینہ اور کالم نگار

”ثاقب نثار کی ججی“.... اور کالم نگار کا تصورِ انصاف؟

جناب اظہار الحق مزید لکھتے ہیں: عمران خان آئیڈیل وزیر اعظم نہ سہی (لیکن اپنے ناپسندیدہ اور اربابِ اختیار کے معتوب نوازشریف سے آپ آئیڈیل سے بھی آگے کی توقع رکھتے ہیں) مگر جو بھی اس ملک سے دل سوزی کا رشتہ رکھتا ہے، وہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کہ کیا اربوں کے اثاثے ظاہر کرانے کی ایسی کوشش نوازشریف، یوسف رضا گیلانی یا راجہ پرویز اشرف کرسکتے تھے؟ تو فاضل کالم نگارکھلی آنکھوں کے ساتھ پڑھیں،کھلے کانوں کے ساتھ سنیں کہ نوزشریف کے تینوں ادوار میں کالے دھن کو سفید کرانے والی سکیمیں آئیں۔ نوازسریف کی سکیموں سمیت ملک میں اب تک دس ایسی سکیمیں آچکی ہیں (وزیر اعظم عمران خان کی یہ سکیم گیارہویں سکیم ہے) امریکہ، آسٹریلیا، بیلجئم،کینیڈا، جرمنی، یونان، انڈونیشیا، اٹلی، ملائشیا، پرتگال،روس، جنوبی افریقہ اور سپین بھی ماضی میں اس طرح کی سکیمیں لاتے رہے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) اپنے گزشتہ دور میں مختلف گروپوں کے لیے چار سکیمیں لائی۔ٹریڈرز اور رئیل اسٹیٹ ڈیویلپرز کے لیے دوسکیمیں اس کے علاوہ تھیں۔ مسلم لیگ (ن) کی آخری سکیم اپریل2018میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں آئی، جس میں 121ارب روپے اور 80ہزار نئے لوگ ٹیکس نیٹ میں آئے ا ور یہ اس کے باوجود ہوا کہ ملک میں سیاسی بے یقینی اور عدم استحکام کی کیفیت تھی۔ اور عمران خان دھمکیاں دے رہے تھے کہ اس سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو ان کی حکومت میں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید فرمایا تھا کہ ایسی سکیمیں کرپٹ لوگوں کے فائدے کے لیے لائی جاتی ہیں۔ اوروہ اقتدار میں آکر ایسے لوگوں کو احتساب کے شکنجے میں لائیں گے۔ خان صاحب کے دستِ راست سابق وزیر خزانہ اسد عمر ان سکیموں کو قوم کے ساتھ مذاق قرار دیتے ہوئے اسے چوروں اور لٹیروں کو ریلیف دینے کے مترادف قرار دے رہے تھے اور اب خود نہ صرف ایمنسٹی سکیم لائے بلکہ اس کی مدت میں اضافہ بھی کرنے جارہے ہیں۔موجودہ حکومت کی اقتصادی کارکردگی نے قوم کی چیخیں یوں نکلوائی ہیں کہ گزشتہ روز جناب آرمی چیف کو ان کی مدد کے لیے آنا پڑا۔ مختصراً یہ کہ ان 9مہینوں میں ریونیو کاشارٹ فال318ارب تھا، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا شارٹ فال۔۔۔
 

یہ بھی پڑھیے

نوازشریف کے ”لایعنی“ ٹیسٹ اور کالم نگار

”شریفوں کی سیاسی باتیں“

جائز تعریف کے حوالے سے، تنگدلی اور ایسی تنگدلی؟

”صحت“پر ”صحافت“۔ اور ایسی صحافت؟

بے پناہ نفر ت اور بے حساب حسرت اُبل رہی ہے

لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *